پوتے پوتیوں،نواسے نواسیوں کا جائیداد میں حصہ

پوتے پوتیوں،نواسے نواسیوں کا جائیداد میں حصہ
پوتے پوتیوں،نواسے نواسیوں کا جائیداد میں حصہ

  

PLD 1990سپریم کورٹ 1051 کے مطابق پوتے اور پوتیوں کو حق وراثت نہ دئیے جانے میں جو رکاوٹیں تھیں اُن کو دور کرنے کے لیے فیملی آرڈنینس 1961کے سیکشن چار کو شامل کیا گیا ہے۔اِس کی تشریح ویسٹ پاکستان مسلم پرسنل لاء ایکٹ 1962 کے سیکشن کے تحت کی گئی اور دونوں قوانین اکھٹے تسلیم کیے جائیں گے۔ 2000CLC 795اور 1992 SCMR 82 کے مطابق اِس سیکشن میں باپ سے پہلے فوت شدہ بیٹے یا بیٹی کے وارثان کو حقِ وراثت ملے گا۔ پہلے سے فوت شدہ بیٹے یا بیٹی کے بچوں کو بھی اُسی طرح اُن کا حقِ وراثت ملے گا جیسے اگر اُن کے ماں باپ اگر زندہ ہوتے تو ملتا۔2005 CLC 1160 کے مطابق وراثت کے کھلنے سے پہلے اگر بیٹا یا بیٹی فوت ہو چکے ہوں تو اُس بیٹا یا بیٹی کے وارثان کو اُسی طرح وراثت ملے گا جیسے اگر اُن کا باپ یا ماں زندہ ہوتے تو حق وراثت ملتی۔ سیکشن چار مسلم فیملی لاء آرڈینینس کا مقصد ہی یہ ہے اُن بدنصیب بچوں جن کے والد یا والدہ اُن اُن کے دادا یا نانا کی زندگی میں فوت ہوگئے تھے۔ اُن کو اُس معاشی زیادتی سے بچانا ہے جو کہ اُن کے والد یا والدہ کے فوت ہونے کی بناء پر اُن کو سامنا ہے۔ایسے پوتے یا پوتیاں ، نواسے یا نواسیاں اُسی طرح وراثت میں حصہ داری کے حق دارہوں گے جس طرح اُن کے والد یا والدہ اگر زندہ ہوتے تو حق دار ہوتے۔حق وراثت میں نہ تو کوئی وقت کی قید ہے اور نہ ہی وارثان کو اُن کا حقِ وراثت حاصل کیے جانے سے محروم کیا جاسکتا ہے۔2009 MLD 917 کے مطابق جیسے ہی کسی جائیداد کا مالک مرجاتا ہے تو اُس کی وراثت کھل جاتی ہے۔1999 MLD،1140 اور PLD 1993 LAH 575 کے مطابق کسی بھی ریونیو اتھارٹی کی وراثت کے حوالے سے stamp (مہر) کی ضرورت نہیں ہے۔PLD 1990 S.C 1051 کے مطابق پیروی ہوگی۔ 2005 SCMR 1595کے مطابق آرڈینیس 1961 کے سیکشن 4 میں اسلامی شریعت کو تجاوز نہیں کیاگیا۔ فریقین کو شر یعیت کے مطابق حق وراثت دیا جائے۔ وارث کے پہلے سے فوت شدہ بیٹے کی بیوہ اور بیٹیوں کو اُتنا ہی حصہ ملے گا جتنا اگر اُن کا باپ زندہ ہوتا تو ملتا۔

سیکشن چار کے مطابق فوت شدہ بیٹے کے وراثان کو اتنا ہی حصہ دادا کی وراثت میں ملے گا۔جیسا اگر اُن کاباپ زندہ ہوتا تو ملتا۔ 1999 YLR 2182 کے مطابق ایسے افراد جن کے والد یا والدہ اپنے والد سے پہلے فوت ہوچکے ہیں اُن کو اپنے والد یا والدہ کو ملنے والا حصہِ وراثت ملے گا۔1999 CLC 1216 کے مطابق اُن کو صرف وہی ملے گا جو اِن کا حصہ بنتا ہے۔اِس میں کسی طور بھی اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔PLD 1968 KAR 480 کے مطابق 1961 کے آرڈینس کے مطابق ہر مسلمان پر لاگو ہے کہ اِس میں کسی قسم کے علاقے کی تخصیص نہ ہے۔ اِسی طرح اگر کوئی مسلمان کسی غیر ملک میں فوت ہوتا ہے اور اُس کی وراثت اپنے ملک میں ہے۔تو اُس کے وارثان کو وہ حق ملے گا۔اِسی طرح اگر کسی مسلمان کی جائیداد بیرون ملک ہے اور وہ اپنے ملک میں فوت ہو گیا ہو اِس کے وارثان کو جائیدادملے گی۔ پاکستان عدالتیں وراثت کے حوالے سے مسلم پرسنل لاء کے حوالے سے فیصلہ فرمائیں۔پاکستانی عدالتیں CPC کے سیکشن 20 کے تحت اپنے فیصلہ پر عمل درآمدکروائیں۔ 1992 SCMR 935 کے مطابق جائیداد چھوڑ کر فوت ہونے والے شخص نے اپنے پیچھے ایک بیوہ ایک بیٹی اور ایک پہلے سے فوت شدہ بیٹے کی بیٹی چھوڑی۔فوت شدہ جائیداد کے وارث کی بیوہ کو 1/8 حصہ اور بیٹی کو 7/24 حصہ ملے گا۔ جب کہ پہلے سے فوت شدہ بیٹے کی بیٹی نے14/24 حصہ مانگ لیا کہ اگر اُس کا والد زندہ ہوتا تو اُس کو اُسکے دادا کی وراثت میں سے اُتنا ملنا چاہیے ۔پہلے سے فوت شدہ بیٹے کی بیٹی کو1/2حصہ ملے گا۔ اُس حصے کا اگر اُسکا باپ زندہ ہوتا جو اُسکے باپ ملنا تھا۔

ٹرائل کورٹ سے درست ڈگری لی ہے کہ بیٹی کو 7/24 حصہ دیا پہلے سے فوت شدہ بیٹے کا بقایا آدھا حصہ جو کہ 7/24 ہے وہ شرعی وارثان میں تقسیم ہوجائے گا۔ PLD 1988 KARACHI 446کے مطابق پہلے سے فوت شدہ بیٹے کی بیٹی اور بیٹے کو حق وراثت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔اب آتے ہیں قرآن کے استدلال کی طرف۔ یہاں دو اُصول ذہن میں رکھئے۔ ایک یہ کہ تقسیمِ وراثت قرابت کے اُصول پر مبنی ہے، کسی وارث کے مال دار یا نادار ہونے اور قابلِ رحم ہونے یا نہ ہونے پر اس کا مدار نہیں۔ دوم یہ کہ عقلاً و شرعاً وراثت میں الاقرب فالاقرب کا اُصول جاری ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص میّت کے ساتھ قریب تر رشتہ رکھتا ہو، اس کے موجود ہوتے ہوئے دُور کی قرابت والا وراثت کا حق دار نہیں ہوتا۔160 ان دونوں اُصولوں کو سامنے رکھ کر غور کیجئے کہ ایک شخص کے اگر چار بیٹے ہیں، اور ہر بیٹے کے چار چار لڑکے ہوں، تو اس کی جائیداد لڑکوں پر تقسیم ہوتی ہے، پوتوں کو نہیں دی جاتی، اس مسئلے میں شاید کسی کو بھی اختلاف نہیں ہوگا، اس سے معلوم ہوا کہ بیٹوں کی موجودگی میں پوتے وارث نہیں ہوتے۔160 اب فرض کیجئے ان چار لڑکوں میں سے ایک کا انتقال والد کی زندگی میں ہوجاتا ہے، پیچھے اس کی اولاد رہ جاتی ہے، اس کی اولاد، دادا کے لئے وہی حیثیت رکھتی ہے جو دُوسرے تین بیٹوں کی اولاد کی ہے، جب دُوسرے بیٹوں کی اولاد اپنے دادا کی وارث نہیں، کیونکہ ان سے قریب تر وارث (یعنی لڑکے) موجود ہیں، تو مرحوم بیٹے کی اولاد بھی وارث نہیں ہوگی۔160160 اگر یہ کہا جائے کہ اگر چوتھا لڑکا اپنے باپ کی وفات کے وقت زندہ رہتا، تو اس کو چوتھائی حصہ ملتا، اب وہی حصہ اس کے بیٹوں کو دِلایا جائے، تو یہ اس لئے غلط ہے کہ اس صورت میں اس لڑکے کو جو باپ کی زندگی میں فوت ہوا، باپ کے مرنے سے پہلے وارث بنادیا گیا، حالانکہ عقل و شرع کے کسی قانون میں مورث کے مرنے سے پہلے وراثت جاری نہیں ہوتی۔ الغرض! اگر ان پوتوں کو جن کا باپ فوت ہوچکا ہے، پوتا ہونے کی وجہ سے دادا کی وراثت دِلائی جاتی ہے تو یہ اس وجہ سے غلط ہے کہ پوتا اس وقت وارث ہوتا ہے جبکہ میّت کا بیٹا موجود نہ ہو، ورنہ تمام پوتوں کو وراثت ملنی چاہئے، اور اگر ان کو ان کے مرحوم باپ کا حصہ دِلایا جاتا ہے تو یہ اس وجہ سے غلط ہے کہ ان کے مرحوم باپ کو مرنے سے پہلے تو حصہ ملا ہی نہیں، جو اس کے بچوں کو دِلایا جائے۔160160 اگر یہ کہا جائے کہ بے چارے یتیم پوتے، پوتیاں رحم کے مستحق ہیں، ان کو دادا کی جائیداد سے ضرور حصہ ملنا چاہئے تو یہ جذباتی دلیل اوّل تو اس لئے غلط ہے کہ تقسیمِ وراثت میں یہ دیکھا ہی نہیں جاتا کہ کون قابلِ رحم ہے، کون نہیں؟ بلکہ قرابت کو دیکھا جاتا ہے۔ ورنہ کسی امیر کبیر آدمی کی موت پر اس کے کھاتے پیتے بیٹے وارث نہ ہوتے بلکہ اس کے مفلوک اور تنگ دست پڑوسی کے یتیم بچے کو وراثت ملا کرتی کہ وہی قابلِ رحم ہیں۔ علاوہ ازیں اگر کسی کے یتیم پوتے قابلِ رحم ہیں، تو شریعت نے اس کو اجازت دی ہے کہ وہ تہائی مال کی وصیت ان کے حق میں کرسکتا ہے، اس طرح وہ ان کی قابلِ رحم حالت کی تلافی کرسکتا ہے۔ مذکورہ بالا صورت میں ان کے باپ سے ان کو چوتھائی وراثت ملتی، مگر دادا وصیت کے ذریعہ ان کو تہائی وراثت کا مالک بناسکتا ہے۔ اور اگر دادا نے وصیت نہیں کی تو ان بچوں کے چچاو?ں کو چاہئے کہ حسنِ سلوک کے طور پر اپنے مرحوم بھائی کی اولاد کو بھی برابر کے شریک کرلیں۔ لیکن اگر سنگدل دادا کو وصیت کا خیال نہیں آتا، اور ہوس پرست چچاووں کو رحم نہیں آتا، تو بتائیے! اس میں شریعت کا کیا قصور ہے کہ محض جذباتی دلائل سے شریعت کے قانون کو بدل دیا جائے183183183؟ اگر شریعت کے ان اَحکام کے بعد بھی کچھ لوگوں کو یتیم پوتوں پر رحم آتا ہے اور وہ ان بچوں کو بے سہارا نہیں دیکھنا چاہتے تو انہیں چاہئے کہ اپنی جائیداد ان بچوں کے نام کردیں، کیونکہ شریعت کی طرف سے بے سہارا لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا بھی حکم ہے، اور اس سے یہ بھی اندازہ ہوجائے گا کہ ان بے سہارا بچوں پر لوگوں کو کتنا ترس آتا ہے183183183!160یہ جوسوال بار بار اٹھتارہتا ہے کہ یتیم پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے لئے کوئی گنجائش ہونی چاہیے! کون کہتا ہے کہ Provision کے دروازے کھلے نہیں ہیں۔داداؤں اور ناناؤں کے لیے تو Provision کے دروازے زندگی بھر کھلے رہتے ہیں۔کسی کے پوتے یا نواسے یتیم ہو جائیں،تو فوراً ہی انکی مدد کی جا سکتی ہے۔اللہ نے مالداری سے نوازا ہے تو انکے لئے ایک مناسب فنڈ یا جائداد کا انتظام داداجی کو کر دینا چاہیے۔کسی حد تک ان کے حق میں وصیت کے دروازے بھی زندگی بھر کھلے رہتے ہیں۔ پھر بھی ان سے لاپرواہی کیوں برتی جاتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کوئی یہ سب کچھ جیتے جی کرنا نہیں چاہتا۔ فرائض سے غافل ان نا عاقبت اندیش لوگوں کے لئے قانون بدلنے کی فرمائش دیدہ دلیری ہے۔قبل ازوقت Hypothatical باتیں سوچ کر خدائی قانون میں نقص ڈھونڈنے والوں کو عقل کے ناخن لینا چاہیے اوریوم حساب سے ڈرنا چاہیے۔راقم نے اوپر بیان کردہ مضمون میں خود سے کچھ نہیں لکھا بلکہ عدالتی فیصلے اور سیکشن چار فیملی آرڈئنینس اور قرانی احکام کا ذکر کیا ہے۔ اب یہ علماء سکالرز،دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد پر منحصر ہے کہ کہ وہ اِس بابت کیا کہتے ہیں۔کیا اِس حوالے سے کوئی اجتہاد کے ذریعہ سے راہ نکالی جاسکتی ہے یا نہیں۔ میں نے تو بطور طالب علم مروجہ پاکستانی قانون اور قرآنی قوانین کا ذکر کردیا ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ