طلاق کے بعد باپ سے ناانصابی کا 124سال پرانا قانون تبدیل کیا جائے: قانونی ماہرین

طلاق کے بعد باپ سے ناانصابی کا 124سال پرانا قانون تبدیل کیا جائے: قانونی ماہرین

لاہور(رپورٹ :کامران مغل )گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890ء کو124سال گزر چکے ،آج تک اس قانون میں ترامیم نہیں ہوسکی ہے سوائے ہلکی سی جنبش جسے ترامیم نہیں کہا جا سکتا ہے۔ گارڈین عدالتوں میں خطرناک حد تک کیسز بڑھنے کی بنیادی وجہ مصالحت کے نظام کا غیر فعال ہو نا ہے۔ میاں بیوی کی علیحدگی کے بعد بچے کا97.7 فیصد وقت صرف ایک فریق (ماں)کو دیا جانا بھی ناانصافی ہے ۔ان خیالات کا اظہار قانونی ماہرین نے ایک دن ایک عدالت کے سلسلے میں کئے جانے والے سروے کے دوران کیا ۔میاں بیوی کے مابین علیحدگیوں کے نتیجے میں گارڈین عدالتوں میں خطرناک حد تک مقدمات کااضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اسی وجہ سے چھٹے اور ساتویں گارڈین جج کا بھی تقرر کر نا پڑاہے،مجموعی طورپر 2015ء سے پہلے 9ماہ میں کل4125 نئے مقدمات درج ہوئے جبکہ اس وقت کل4151مقد ما ت زیر سماعت ہیں۔ گارڈین ججز کی عدالت میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایک ہزار64خاندان گارڈین عدالتوں میں پہنچے جس میں کل532 بچوں نے اپنے والدین سے ملاقات کی ۔اس حوالے سے قانونی وآئینی ماہرین جن میں سینئر وکلاء ممبر پنجاب بار کونسل سید فرہاد علی شاہ اور سابق سیکرٹری لاہور بار کامران بشیر مغل نے کہا کہ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890ء میں ترامیم وقت کی ایک اہم ضرورت ، کیونکہ 124سال گزر چکے ہیں اس میں آج تک ترامیم نہیں ہوسکی ہیں سوائے ہلکی سی جنبش ہوئی تھی لیکن نہ ہونے کے برابر ۔ تاہم انہیں اس قانون میں ترامیم نہیں کہا جا سکتا ۔ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ ہی سارے مسائل کی جڑ ہے جس کی وجہ سے علیحدگی کے بعد ایک فریق کو بچے سے ملاقات کے لئے پو را مہینہ دے دیا جا تا ہے جبکہ دوسرے کو صرف 2گھنٹے ملتے ہیں ۔ میاں بیوی کی علیحدگی کے بعد بچے کا97.7 فیصد وقت صرف ایک فریق کو دے دیا جا تا ہے حالانکہ یہ وقت 50،50فیصد برابری کی شرح پر دیا جانا چاہیے، میا ں بیوی کی علیحدگی کے بعد ان ماں باپ اور ان کے بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی سماجی کارکن شازیہ مرزا نے میاں بیوی کی علیحدگی کی روز بروز بڑھتی ہوئی شرح سے متعلق نمائندہ "پاکستان"سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باہر کے ممالک میں میا ں بیوی کی علیحدگی کے بعد قانونی چارہ جوئی اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک کہ ایک صلح کروانے والے ادارے کا سرٹیفکیٹ ساتھ نہ لگایا جا ئے ۔عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کیلئے بنیاد ی ضرورت ہے کہ میا ں بیوی صلح کروانے والے ادارے سے ہو کر آچکے ہوں ۔ لیکن ہما رے ہا ں سارے کا سارا نظام ہی الٹا ہے ۔ یہا ں عدالت نے آج تک یہ احکامات جا ری نہیں کئے کہ میا ں بیوی صلح کروانے والے ادارے کے پاس جائیں ۔ یہا ں تو جیسے ہی طلاق یا خلع کے لئے درخواست دی جا تی ہے ، جلد ازجلد طلاق یا خلع دے کر دونوں میا ں بیوی کو علیحدٰہ کر دیا جا تا ہے ۔ ہمار اعدالتی نظام میا ں بیوی کو اکٹھاکرنے کی بجائے ان کو دُور کرنے کے لئے کہیں زیادہ مددگار ہے ۔دھڑا دھڑا یسے فیصلے دئیے جا تے ہیں کہ میا ں بیوی دُور ہو تے ہوتے اتنے دُور ہو جا تے ہیں کہ ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتے ۔ میا ں بیوی کو اکٹھابٹھانے کا باقائدہ کوئی نظام ہی وضع نہیں کیا گیا۔ایسے احکامات ہی جا ری نہیں کیے جا تے کہ جس سے دونوں کو اکٹھے بیٹھنے کا کوئی موقع ملے ۔ یہی وجہ ہے کہ گارڈین عدالتوں میں میا ں بیوی کی علیحدگی کے مقدمات میں انتہائی شدت سے اضافہ ہو رہا ہے ۔اس حوالے سے وکلاء لیگل ایجوکیشن کمیٹی پنجاب بار کونسل مدثر چودھری اوروسیم کھٹانہ نے کہا کہ گارڈین کو رٹ میں لاہور کے علاوہ دور دراز کے شہروں سے بھی لو گوں کی ایک کثیر تعداد آتی ہے ، اخلاقی اور بہت سے مسائل شامل ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر