درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 37

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 37
درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 37

  

ایک بہت بڑا سانپ میرے پاؤں کے اردگرد حلقہ بنانے میں مصروف تھا۔ میں پوری قوت سے اوپر اچھلا اور سانپ کو اپنے مضبوط جوتوں سے کچل دیا۔اسی اثناء میں آدم خور وہاں سے جا چکا تھا۔ میں سخت نادم تھا کہ اپنے ساتھی کی مدد نہ کر سکا۔ کچھ دیر متأسف سا وہاں کھڑا رہا اور پھر اندازے ہی سے ایک طرف روانہ ہو گیا۔

جنگل کی بھول بھلیوں سے آواز ہو کر گاؤں کے نواح میں پہنچا تو صبح کے آثار ظاہر ہو رہے تھے۔پالتو کتوں نے اپنے روایتی انداز میں میرااستقبال کیا۔ نا آشنائی کی صورت میں یہ بھی خاصی خوفناک مخلوق تھی لیکن جھونپڑی سے ایک شخص نکل کر اپنی مادری زبان میں کچھ بولا۔ میں نے جواب میں اسے اشاروں سے بتایا کہ میں صبح والا شکاری ہوں جسے اس گاؤں کے لوگ آدم خور کو ختم کرنے کے لیے جنگل میں لے گئے تھے۔اس نے میرا بازو پکڑا اور اپنی جھونپڑی میں لے گیا۔ تھکاوٹ سے میرے جسم کا انگ دکھ رہا تھا۔میں نے تکلف کوبالائے طاق رکھا اور چٹائی پر دراز ہو گیا اور وہ شخص بڑبڑا تا ہوا باہر چلا گیا۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 36  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس کے ذرا دیر بعد ہی باہر بہت سے آدمیوں کے بولنے کا شور سنائی دیا۔ پھر ایک آدمی میرے پاس آیا اور انگریزی میں مجھ سے پوچھا:

’’اکیلے آئے ہو،دوسرے کہاں ہیں؟‘‘

میں نے اٹھ کر تحمل سے تمام داستان سنا دی۔وہ واپس آن لوگوں کے پاس چلا گیا۔

ملاح اور آسٹن کے ہلاک ہو جانے کی خبر سن کر ان میں سراسیمگی پھیل گئی۔میں بھی اس خیال سے خوفزدہ ہو گیا کہ کہیں یہ مجھ سے انتقام نہ لیں لیکن خیریت گزری۔ تھوڑی دیر بعد وہی آدمی پھر آیا اور رازداری کے انداز میں بولا:

’’اب خاموشی سے واپس چلے جاؤ،ورنہ تم بھی اپنی جان کھو بیٹھو گے۔وہ کوئی آسمانی بلا ہے،آدم خور نہیں جو اتنے انسانوں کو شکار کر چکی ہے۔‘‘

’’میں ایسا شکاری نہیں ہوں میرے محسن!جو اتنی سی بات پر خوفزدہ ہو کر واپس بھاگ جاؤں گا۔اب تو میں اسے ختم کرکے ہی دم لوں گا،چاہے میں خود کیوں نہ ختم ہو جاؤں۔‘‘ میں نے جواباً کہا۔

’’تم سمجھتے کیوں نہیں؟‘‘وہ پھر چیخ کر بولا۔

’’نادان شخص!ہم تمہاری اب کچھ مدد نہیں کر سکتے۔اگر تم اپنی جان گنوانا چاہتے ہو تو اکیلے جاؤں جنگل میں۔‘‘

اب میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔

میں نے کھانا کھانے کے بعد اپنی رائفل سنبھالی اور ان کا شکریہ ادا کرکے جنگل کی طرف چلاپڑا۔اس ظالم آدم خور کے خلاف میرا غصہ انتہا کو پہنچ چکا تھا۔میں اس کے ساتھ ایک آخری جنگ لڑنا چاہتا تھا اور اس معرکے میں اپنی جان کی بازی لگا دینے کا فیصلہ کر چکا تھا۔

میں اپنی دھن میں چلا جارہا تھا۔اچانک بوزنوں کا ایک گروہ میرے سامنے آگیا اور چیخنے چلانے لگا۔وہ ایک درخت کی شاخوں سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگارہے تھے اور خوفناک انداز میں چیخ رہے تھے۔بوزنا انسانوں کی طرح منفرد شکل رکھتا ہے اور بالعموم خطرے کے وقت ہی شور مچاتا ہے۔چنانچہ میں سمجھ گیا کہ شیراسی علاقے میں موجود ہے۔میں ٹھٹک کر کھڑا ہو گیا اور تجس بھری نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔

میرا اندازہ غلط نہ نکلا۔ایک گھنی جھاڑی میں شیر کا سر نظر آیا۔وہ بہت غصیلے انداز میں میری طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے ایک خوفناک دہاڑ کے ساتھ مجھ پر حملہ کر دیا اور میں ایک طرف لڑھک گیا۔مجھے اپنی موت میں کوئی شبہہ باقی نہ رہ گیا تھا لیکن خوش قسمتی سے میرے ہاتھ میں ایک ڈنڈا آگیا اور میں نے اسے پوری قوت سے آدم خور کے حلق میں ٹھونس دیا۔

آدم خور اتنے زور سے دہاڑا کہ جنگل گونج گیا۔وہ بہت تیزی سے ایک طرف کو بھاگا۔ یہ قدرت کی طرف سے میری بروقت امداد تھی لیکن پھر بھی میں زخمی ہو گیا تھا۔ آدم خور کے جانے کے بعد کراہتا ہوا اٹھا۔ میرے کپڑے تقریباً پھٹ چکے تھے اور جسم پر بہت سی خراشیں تھیں جن سے خون رس رہا تھا۔

مجھے اس آدم خور پر حیرانی تھی۔ وہ دیگر آدم خوروں سے بالکل مختلف تھا۔اچانک ہی یوں نمودار ہو جاتا تھا جیسے سچ مچ چھلا وہ ہو۔تاہم اب میں اس کی طرف سے سکی قدر بے فکر تھا۔ یقین تھا کہ ڈنڈا اس کے حلق سے کبھی نہ نکلے گا اور وہ ہلاک ہو جائے گا۔ حواس کچھ بحال ہوئے تو ایک درخت سے پھل توڑ کر کھائے،چشمے کا ٹھنڈا پانی پیا اور آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا۔ اگرچہ بہت تھکا ہوا تھا لیکن حواس پوری طرح بحال تھے۔کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اٹھ بیٹھا اور رائفل سنبھال کر آدم خور کی تلاش میں چل نکلا۔ میں یہ بات اچھی طرح سمجھتا تھا کہ اسے موت کی نیند سلائے بغیر لوگوں کو اس کے خطرے سے بچایا نہیں جا سکتا۔

کوئی ڈیڑھ گھنٹے بعد میں ایک غار کے قریب سے گزرا تو اندر سے شیر کے ہانپنے اور کراہنے کی سی آواز آئی۔ میں نے فوراً اپنی رائفل سنبھال لی اور دبے قدموں غار کے منہ پر پہنچ گیا۔ دل میں پکاارادہ کرلیا تھا کہ یہ مرا آخری معرکہ ہے۔خواہ جان جائے یا رہے،قدم پیچھے نہ ہٹاؤں گا۔

دوسری طرف شیر بھی میری بوپا کر ہوشیار ہو چکا تھا۔وہ بہت پھرتی سے اٹھا۔ اس کے خوفناک پنجے اب بھی میرے لیے پیام اجل بن سکتے تھے لیکن میں نے اسے جست لگانے کی مہلت ہی نہ دی۔گولی اس کے سینے کو چھیدتی ہوئی گزر گئی۔

آدم خور اچھل کر نیچے گر اور تڑپنے لگا۔ میں نے یکے بعد دیگرے دو اور گولیاں اس کے جسم میں اتار دیں اور چند لمحوں کے بعد اس ظالم اور دیوہیکل درندے کی لاش ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ میں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا معرکہ سر کرلیا تھا۔

اس سلسلے میں اب صرف اتنی بات اور بتانے کے قابل ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کو جب آدم خور کے مارے جانے کا علم ہوا تو انہوں نے مجھے تحفوں سے لاددیا اور میری اس طرح عزت کی، گویا میں کوئی قومی ہیرو ہوں لیکن اس عزت افزائی سے زیادہ مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ میں ایک موذی کا خاتمہ کرکے ہزاروں انسانوں کو خوف سے ن جات دلا چکا تھا۔(جاری ہے)

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 38 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

آدم خور -