ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ!

ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ!
 ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ!

  

ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کی خبر ساری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کونا ایسا نہیں ہوگا، جہاں سے اس فعل کی مذمت نہ کی گئی ہو۔ پاکستان میں تو اس کارروائی پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایسے محسوس ہوا کہ گویا شدید زلزلہ آگیا ہو۔ مجھے ذاتی طور پر اس واقعہ پر گہرا دُکھ اور صدمہ ہوا ہے۔ آپ قرآن پاک کو دماغ کی گہرائیوں سے پڑھیں تو آپ پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ ہماری یہ مقدس کتاب بار بار انسانوں کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ اسی سوچ کا نچوڑ ہے کہ انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے علم میں حیرت انگیز حد تک ترقی کی ہے۔ قرآن حکیم تو ہماری عقلوں پر لگے ہوئے تالوں کو کھولتا ہے۔ کبھی وقت ہوتا تھا جب دنیا میں تلواروں اور نیزوں جیسے ہتھیاروں سے جنگیں لڑی جاتی تھیں۔ آج وہی انسان تلواروں کو چھوڑ کر توپوں، مشین گنوں اور ہوائی جہازوں اور ٹینکوں سے جنگیں لڑتا ہے۔

 یہ جدید علوم ہی تو ہیں، جن کی وجہ سے موجودہ دنیا کا انسان جنگیں لڑتا ہے، اگر یہ جدید علوم کے خلاف ہیں تو پھر اُن کو تلوار ہی استعمال کرنی چاہئے، کیونکہ مسلمان ان تلواروں اور نیزوں سے ہی جنگیں لڑا کرتے تھے۔ اس معصوم بچی پر تلوار کی بجائے بندوق پر کیوں انحصار کیا گیا۔ مارنے اور قتل کرنے کے لئے تو وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت بنائے ہوئے ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہیں، جبکہ انہی جدید علوم کو پھیلانے کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ موجودہ دور کا ایک بہت بڑا تضاد ہے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں سے ہزاروں ہم وطنوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔ یہ جہاز پائلٹ کے بغیر ہوتے ہیں۔ اُن کو چلانے والا تو ہزاروں میل دور کسی محفوظ جگہ پر بیٹھا ہوتا ہے۔ ہمارے شدت پسند بھائی ان ڈرون حملوں کا کس طرح مقابلہ کریں گے؟.... یہ ملالہ یوسف زئی ہی تو ہے جو ان ڈرون حملوں سے بچنے کے لئے قوم کو جدید علوم حاصل کرنے پر زور دیتی ہے اور کہتی ہے کہ جدید تعلیم حاصل کرلو....

 آج کا انسان اس قدر ترقی کر چکا ہے کہ اُس نے چاند پر پہنچ کر اس کی سرزمین پر اپنا قبضہ جما رکھا ہے۔ انسان تو اس سے آگے کے اَن گنت جہانوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ موجودہ سائنس دانوں اور جغرافیہ دانوں نے کہہ رکھا ہے کہ ہماری موجودہ دنیا ان تمام جہانوں کے مقابلے میں ایک ذرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ رات کی تاریکی میں ذرا آسمان کی طرف نگاہ اُٹھائیں اور دیکھیں کہ یہ آسمان ستاروں اور سیاروں سے بھرا ہواہے۔ کیا ان ستاروں کو گِنا جا سکتا ہے؟.... یہ بالکل ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ پوری دنیا کے سائنس دان ان ستاروں کی گنتی کے معاملے میں بے بس اور لاچار ہیں۔ ملالہ یوسف زئی کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی ننھی منھی باتوں کے ذریعے اپنے ہم وطنوں کو جہالت اور گمراہی کے تاریک ترین اندھیروں سے روشنی کی طرف لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کی یہی دلی خواہش ہے کہ پوراپاکستانی معاشرہ زیور تعلیم سے آراستہ ہو جائے اور سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم کو عام کیا جائے۔ اُمتِ مسلمہ کے بہترین مفاد میں تصور کیا جائے گا۔

 سر سید احمد خان بھی تو جدید تعلیم پر زور دیا کرتے تھے۔ اُن پر مسلمانوں ہی نے فتوے داغے تھے۔ ڈاکٹر اقبال بھی تو اپنی شاعری کی طاقت سے مسلمانوں کو بیدار کرنے میں لگے رہے۔ شاعری ایک انتہائی اہم علم ہے، جس کا اثرجادو جیسا ہُوا کرتا ہے۔ مِس ملالہ یوسف زئی جدید پاکستان کی ایک زندہ مثال کی حیثیت میں ابھری ہے۔ ملالہ ایک تحریک کا نام ہے۔ آنے والے وقتوں میں ملالہ کی سوچ پاکستان میں گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ہمارا سویا ہوا معاشرہ جاگ چکا ہے۔ آج کا ہر پاکستانی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ پاکستان کے کونے کونے میں ہمارے کروڑوں بچے تعلیم کی خاطر سکولوں کا رُخ کر رہے ہیں۔ یہ انقلاب نہیں تو اور کیا ہے؟.... اسی کو ملالہ کا انقلاب کہا جاسکتا ہے۔ جج بننے سے پہلے مَیں نے خود پاکستان اور آزاد کشمیر کے کونے کونے میں تعلیم عام کرنے کی تحریک شروع کی تھی۔ اس تحریک کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا تھا۔ مقصد یہی تھا کہ سرزمین پاکستان سے جہالت کی بیماری کو ختم کیا جائے۔ یہ انجمن شبان کشمیر تھی، جس کے پلیٹ فارم پر غریبوں کے بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔

آج پہلے سے کئی گنازیادہ اس بات کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ ملالہ کی چلائی ہوئی تحریک کو پورے پاکستان میں پھیلا دیا جائے تاکہ قلیل ترین مدت میں پاکستان سے جہالت کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔ ساری قوم کو اس مقدس فریضے کی انجام دہی کے لئے کمربستہ ہو کر نکلنا پڑے گا۔ اگر ہم سب اس کام کے لئے تیار ہو جائیں تو آنے والے پانچ سات سال میں پاکستان کو 100 فیصد جہالت سے پاک صاف کیا جاسکتا ہے۔ حکمران اور عوام سب مل کر یہ کام کریں۔ اس خطے کے تقریباً تمام ملک تعلیم کے میدان میں نمایاں ترقی کر رہے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ سری لنکا میں 100 فیصد کے لگ بھگ لوگ پڑھے لکھے بن چکے ہیں۔ بنگلہ دیش کے ہمارے بھائی بھی تعلیم کے میدان میں بریک تھرو کرنے میں مصروف ہیں۔

ملالہ یوسف زئی موضوع کی طرف واپس آتا ہوں۔ یہ حکومت کا پہلا فرض ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق نہ صرف ملالہ یوسف زئی کو مکمل اور بھرپور سیکیورٹی دے، بلکہ ایسی سیکیورٹی کے تمام پاکستانی شہری بھی حق دار ہیں۔ آج سارا پاکستان لاقانونیت کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ ہم سب گہری نیند سے جاگ جائیں۔ ہم اپنی اپنی حفاظت کا خود انتظام کریں۔ انگریزوں کے وقت والا پرانا چوکیدارا نظام قائم کیا جائے۔ رات کے وقت پولیس بازاروں، گلی کُوچوں میں گشت کرے۔ پولیس کی تعداد میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔ افواج پاکستان کی مرضی سے کچھ فوجی جوانوں کو پولیس کی طرف لایا جا سکتا ہے۔ اس بات پر بھی خاص توجہ دی جائے کہ پولیس کو زیادہ مو¿ثر اور کارآمد بنانے کے لئے وسیع پیمانے پر اصطلاحات کی جائیں۔

بدقسمتی سے ہماری پولیس قانون کے نفاذ میں تقریباً ناکام ہو چکی ہے۔ اس ادارے میں کرپشن اور بدعنوانی زوروں پر ہے۔ بعض اوقات تھانوں میں مظلوم لوگوں پر مزید ظلم روا رکھا جاتا ہے۔ وہاں اثر و رسوخ اور دولت والے اپنا اثر دکھاتے نظر آتے ہیں۔ کراچی، کوئٹہ اور پشاور وغیرہ میں قانون کی حکمرانی تقریباً دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔ اگر آئین اور قانون کے نفاذ کے راستے کی رکاوٹوں کو دور نہ کیا گیا تو ہماری مخالف طاقتیں ہمیں ایک ناکام ریاست ثابت کرنے کے لئے مزید فعال ہو جائیں گی۔ حالات انتہائی خطرناک حدوں کو چُھو رہے ہیں۔ امن و امان کا مسئلہ روز بروز خراب سے خراب تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہم پوری طرح جاگ جائیں، ورنہ قدرت کی طرف سے ہمیں جاگنے کے لئے شاید اور وقت نہ مل سکے۔ امن کے قیام کا تعلق یقینی طور پر انصاف کی فراہمی سے جڑا ہواہے، جس قدر بھی معاشرے میں انصاف عام ہوگا۔ اسی قدر معاشرے میں ٹھہراو¿ نظر آئے گا۔ معاشی بدحالی اور بے انصافی ہی لوگوں کوجرائم کے ارتکاب پر اُکساتی ہے۔ اس بات کو بھی ہر وقت ذہن میں رکھا جائے۔

مجھے عدلیہ اُمید کی ایک کرن نظرآتی ہے۔ عدلیہ کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ آئین کے آرٹیکل نمبر 209 کے تحت کسی بھی جج کے خلاف کارروائی ممکن ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں جج صاحبان کے خلاف آئین سے بالاتر کارروائی ممکن نہیں ہے۔ بہرحال جج صاحبان کی عزت و احترام کو ہر صورت میں سامنے رکھنا پڑے گا۔ خدانخواستہ اگرعدلیہ کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ ناکامی ساری قوم کی ناکامی تصور ہوگی۔ عدلیہ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے، جس پر تنقید کو جائز تصور کیا جائے۔ ہم عدلیہ کو اپنا کام کرنے دیں۔ عدلیہ کے جج صاحبان دن رات کام کرتے ہیں۔ ایک دن کا کام وہ سورج غروب ہونے تک مشکل سے مکمل کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی دوسرے دن کے لئے سماعت کئے جانے والے مقدمات کا بھاری بنڈل جج صاحبان کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ وہ ایک مشین کی مانند کام کرتے ہیں۔ ان کے ہاں آرام کا کوئی تصور موجود نہ ہے۔

مَیں آپ کی اجازت سے اپنی ذات کے متعلق بات بتانا چاہوں گا۔ مَیں نے 8 سال سے زائد عرصے تک ہائی کورٹ میں کام کیا تھا۔ آپ سن کر حیران ہوں گے کہ مَیں نے ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی تھی۔ ہر روز میری عدالت لگی ہوتی تھی او رمَیں عدالت میں مقدمات کی سماعت کر رہا ہوتا تھا۔ یہ مثال دینے کا مقصد یہی ہے کہ تمام جج صاحبان اسی طرح دن رات کام کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ ملالہ یوسف زئی پر حملے سے انصاف کا گہرا تعلق ہے۔ اگرانصاف اور قانون کی سچی حکمرانی ہوتی تو شاید یہ واقعہ ہی پیش نہ آتا۔ وقت آگیا ہے کہ عدلیہ پر بلا جواز نکتہ چینی کو ختم کر دیا جائے۔ جج صاحبان کو اپنا کام کرنے دیں۔ ہمارے معاشرے کی ترقی و خوش حالی کا تعلق بھی بڑی حد تک عدلیہ سے وابستہ ہے۔ ملک میں جس قدر انصاف زیادہ ہوگا، اسی قدر ہمارا پاکستان ترقی کی منازل طے کرتا ہوا نظر آئے گا۔

  ملالہ پر جن لوگوں نے حملہ کیا ہے، اُن کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ اُن کے خلاف عدالت میں صاف و شفاف مقدمہ کی سماعت ممکن بنائی جائے۔ ان کی شہادت اور موقف کو بھی سامنے رکھا جائے۔ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ جب تک کسی کے خلاف جرم ثابت نہ ہو جائے، اس وقت تک ملزم بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھی جائے کہ کوئی بھی بے گناہ شہری اس مقدمے کی گرفت میں نہ آجائے۔ اس مشہور زمانہ کہاوت پر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں:”انصاف کرو چاہے ایسا کرتے ہوئے آسمان ہی کیوں نہ زمین پر دھڑام سے گر پڑے“۔     

مزید :

کالم -