پنجاب اسمبلی ، سرکاری ملازمین کی اپ گریڈ یشن سمیت 3قرار دایں متفقہ طور پر منظور

پنجاب اسمبلی ، سرکاری ملازمین کی اپ گریڈ یشن سمیت 3قرار دایں متفقہ طور پر ...

لاہور( نمائندہ خصوصی )پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں غیر سرکاری دن کی کاروائی کے دوران گریڈ 5تا 15،گریڈ 16تا 17کے سرکاری ملازمین کی اپ گریڈیشن ،کھاد میں سبسڈی کو برقرار رکھنے اور چاول کی ایکسپورٹ میں اضافے کیلئے بیرون ملک پاکستانی سفارت کاروں خصوصی ٹارگٹ دینے کی تین قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہیں جبکہ حکومتی رکن حنا پرویز بٹ ،سبطین خان اور احمد خان بھچر کی قرار داد ملتوی اور نگہت شیخ کی قرارداد نمٹا دی گئی ۔اپوزیشن نے پنجاب پولیس کے اراکین اسمبلی کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف ٹوکن بائیکاٹ بھی کیا،ختم نبوت قانون میں تبدیلی اور رانا ثنا ء اللہ کا قادیانیوں کے حوالے سے بیان پر اپوزیشن اور حکومتی اراکین وزیر قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔رانا ثنا ء اللہ نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ حل ہو چکا ہے جبکہ قادیانیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور نہ وہ مسلمان ہیں۔پنجاب اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ اوقاف و مذہبی امور اور آبپاشی کے سوالات کے جواب تھے محکمہ اوقاف کے جواب پا رلیما نی سیکرٹری ثقلین سپرا نے دیے جبکہ وزیر آبپاشی کی عدم موجودگی پر سپیکر نے سوال جمعہ تک ملتوی کردئیے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس معمول کے مطابق ایک گھنٹہ پانچ منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال کی زیر صدارت شروع ہوا۔اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون رانا ثنااللہ خان کاکہنا تھا کہ ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کی کوئی جرات نہیں کر سکتا،تمام مسلمان عشق رسول ﷺ سے سرشار ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے کہاکہ علما ء کرام اس حوالے سے شکوک و شبہات دور کریں،تمام مسلمان عشق رسول سے سرشار ہیں،میں نے ٹی وی ٹاک شو میں کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق غیر مسلم اقلیت کو مکمل آزادی کی بات کی،اقلیت کے طور پر قاد یا نیوں کے جان و مال کا تحفظ بھی حکومت کی ذمہ داری ہے،اللہ نبی ﷺ کی شان سے متعلق کوئی دو رائے نہیں۔ انہو ں نے کہاکہ ختم نبوت کے حلف نامے کے معاملے کی تحقیقات سے متعلق کمیٹی بن چکی ہے،کمیٹی جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر من و عن عمل ہوگا،جیسے ہی معاملے کی نشاندہی ہوئی فوری طور پر نوٹس لیا گیا اور اس کو اصلی حالت میں بحال کیا گیا۔قبل ازیں وقفہ سوالات کے دوران پی ٹی آئی کی رکن راحیلہ انور نے کہا کہ اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کرنا سب سے آسان کام ہے حکومتی لوگ خود ہی لیز پر لتے ہیں اور خود ہی قبضہ کر لتے ہیں،بعض با اثر افراد نے بھی محکمے کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے انہوں نے اپنے ڈیرے بنائے ہوئے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ خاتون ممبر ثبوت کے ساتھ بات کریں اگر محکمے کی جگہ پر کسی نے بھی قبضہ کیا ہے تو اس کے خلاف کاروائی ہو گی اور جگہ واگزار کروائی جائے گی۔اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشیدنے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹھوکر نیازبیگ پر دھرنادینے والے کسان شہباز شریف کے شوگر ملز کے ستائے ہو ئے ہیں،کسان پیکج صرف پروپیگنڈہ تھا اس میں کسانوں کو کچھ نہیں ملا ہے یہ شوگر ملز عدالت کے حکم پر بند کی گئی ہیں ان کی غیر قانونی لوکیشن تھیں شہباز شریف نے سپریم کورٹ تک اپیلیں کی لیکن ہر جگہ سے ان کی اپیلیں خارج ہوئی ہیں۔حکومتی رکن سبطین رضا نے کہا یہ جہانگیر ترین کی ملوں کے کسان احتجاج کررہے ہیں عمران خان کی اے ٹی ایمز زیادہ دیر تک قوم کو بیوقوف نہیں بنا سکتی۔بعد ازاں پی ٹی آئی کے رکن آصف محمودنے کہا کہ میرے حلقے میں کہا جا رہا ہے کوئی ترقیاتی کام نہیں ہواجبکہ مجھ سے ہارے ہوئے لیگی رہنما نے پورے حلقے میں جتنے بھی ترقیاتی کام ہو ئے ہیں ان پر اپنے نام کی تختیاں لگائی ہیں جن پر ایم پی اے لکھا ہوا ہے سپیکر صاحب اس کا نوٹس لیں ایک ہارا ہواشخص اپنے نام کے ساتھ ایم پی اے کیسے لکھ سکتا ہے،سپیکر نے اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ قبل ازیں سپیکر اور آصف محمود کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی ، پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر نے پی ٹی آئی کے رکن آصف محمود کو مائیک بند ہونے کے باوجود سپیکر کے خلاف بولنے پر دھمکی بھی دے دی،جس پر پی ٹی آئی کے رکن غصے میں آکر زور زور سے بولنے لگے۔جس پر سپیکر نے ان کے طرف غصے سے انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے کہ اپنی سیٹ پر بیٹھ جائیں ورنہ باہر نکال دوں گا۔ آصف محمود نے کہاکہ اگر آپ ہماری عزت تار تار کریں گے تو کل آپ کو بھی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھناپڑ سکتاہے ہم اس ہاؤس میں عزت کیلئے آتے ہیں یہ معاملہ استحقاق کا ہے،ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکر نے اجلاس آج صبح دس بجے تک کے ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر


loading...