خاندانِ مغلیہ اور شہنشاہ بابر ۔۔۔۔(1526ءسے 1530ءتک)

خاندانِ مغلیہ اور شہنشاہ بابر ۔۔۔۔(1526ءسے 1530ءتک)
خاندانِ مغلیہ اور شہنشاہ بابر ۔۔۔۔(1526ءسے 1530ءتک)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مستقل عنوان : تاریخِ ہند 
مین سرخی : خاندانِ مغلیہ اور شہنشاہ بابر ۔۔۔۔(1526ءسے 1530ءتک)
مصنف : ای مارسڈن 
 مغل اور منگول ایک ہی لفظ ہے۔ مغل اس ملک سے آئے تھے، جسے منگولیا کہتے ہیں اور جو وسط ایشیا میں چین اور ترکستان کے درمیان واقع ہے۔ اس ملک کو تاتار بھی کہتے ہیں، جو قومیں اس ملک میں آباد ہیں۔ وقتاً فوقتاً مختلف ناموں سے موسوم ہوتی رہی ہیں مثلاً تاتاری، ستھین اور تورانی، قدیم یونانی مورخوں نے ان کو ستھین لکھا ہے۔ ایرانی اس ملک کو توران کہتے تھے۔ اس سبب سے یہاں کے باشندوں کو تورانی بھی کہتے ہیں۔
 ترکستان آرین لوگوں کا ایک قدیم مسکن تھا۔ زمانے کے گزرنے پر بعض مغل یا تاتاری پہاڑوں کو عبور کر کے ترکستان میں اتر آئے اور جو آرین وہاں رہ گئے تھے، ان کے ساتھ مل کر رہنے سہنے لگے۔ انہوں نے آرین عورتوں سے شادی کر لی انہی کی سی زبان بولنے لگے اور ان ہی کی قوم میں شمار ہونے لگے۔ اس زمانے میں یہ لوگ ترک کہلاتے تھے اور صحرا نورد وحشی تاتاریوں سے بہت مختلف تھے بلکہ ان سے نفرت اور حقارت کرتے تھے۔ لمبے گورے اور شکیل تھے۔ بعض کی بڑی بڑی داڑھیاں تھیں۔ تاتاری پست قد تھے ان کے چہرے چپٹے، رنگ زرد اور منہ چوڑے تھے اور چہروں پر بال نہ تھے۔ تاتاری گندے تھے اور وحشیوں سے شاید ہی کچھ بہتر ہوں۔ ترکوں کی طرح یہ بھی مسلمان ہو گئے تھے، مگر بعض برائے نام ہند کے جو لوگ ترک و تاتاری میں تمیز نہ کر سکتے تھے۔ شمال کی جانب کے آئے ہوئے کل مسلمانوں کو مغل کہتے تھے۔ شاہانِ مغلیہ کو جو مغل کہا جاتا ہے اس کی یہی وجہ ہے درحقیقت یہ منگولیا کے مغل نہ تھے۔ یہ تو ترکستان کے ترک تھے اور چاہیے کہ ان کو ترک شہنشاہ کہا جائے۔
 ہند کے مسلمان فرمانرواﺅں میں مغل سب سے زبردست ہوئے ہیں۔ اس خاندان کے15بادشاہوں نے سلطنت کی ان میں شروع کے 6 زیادہ مشہور ہیں۔ باقی نو نہ ایسے مشہور تھے اور نہ ان کو چنداں طاقت حاصل تھی۔ شروع کے 6 بادشاہوں کے نام یہ ہیں۔ بابر، ہمایوں،اکبر، جہانگیر، شاہجہاں اور اورنگزیب۔
بابر
 تیمور کی وفات پر اس کی سلطنت بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گئی۔ ایک ریاست قوقند تھیںجو ترکستان کا ایک حصہ ہے۔ مدت دراز کے بعد یہ ریاست بابر کے باپ کے ہاتھ آئی جو تیمور کی نسل سے پانچویں پشت میں تھا۔ باپ کی وفات پر بابر اس ریاست کا مالک ہوا۔ اس وقت اس کی عمر 13 سال تھی۔ تخت پر بیٹھا ہی تھا کہ چچا نے چڑھائی کی اور بخوف جان بابر کو اس کے ساتھ لڑنا پڑا۔ ریاست اس کے ہاتھ سے نکل گئی، مگر ترکستان کے بعض خانہ بدوش سردار اور ان کی رعایا بابر کو بدستور اپنا بادشاہ مانتی رہی اور ہمیشہ اس کی مددگار رہی۔20 برس تک بابر آوارہ پھرتا رہا۔ آج یہاں، کل وہاں، ہر روز کسی نہ کسی کے ساتھ ہنگامہ گرم رہتا تھا۔ آج فتح مند ہے، تو کل بھاگتا اور جان چھپاتا پھرتا ہے، مگر اس کے ترکی ہمراہی برابر اس کے ساتھ تھے۔ بعض دفعہ تمام دن زین کاٹھی اتار کر بیٹھنا نصیب نہ ہوتا تھا اور راتوں کو سخت زمین کے بچھونے اور آسمان کے سائبان کے سوا کوئی آرام کا سامان میسر نہ تھا۔
 آخر کار بابر نے جنوب کی طرف بڑھنے کا ارادہ کیا۔ ترکستان میں بابر جیسے بہادر سردار بہت تھے اور اس کےلئے وہاں سلطنت قائم کرنے کی گنجائش نظر نہیں آتی تھی۔ اس کو جنگ و جدال کرتے برسوں گزر گئے تھے۔ شہر پر شہر فتح کرتا تھا اور پھر کھو دیتا تھا اور جب دیکھو! ہنوز روز اول کا نقشہ ہی دکھائی دیتا تھا۔ اس کے ہم قوم جو اس کی طرح بے خانماں تھے۔ اس کے ساتھ آگے بڑھنے پر راضی ہو گئے اور ہندوکش پہاڑ کے دروں سے اتر کر افغانستان میں آ گئے۔
 افغان بہادر اور جنگجو تھے مگر ترک جوان جو شمال سے وارد ہوئے وہ ان سے بھی توانا اور بہادر نکلے۔ بابر نے کابل اور غزنی پر قبضہ کر لیا اور کئی سال وہاں سلطنت کی۔ یہ پٹھانوں سے زور آزمائی کرنے4دفعہ پنجاب میں آیا اور ہر دفعہ ان کے ملک کا کچھ نہ کچھ حصہ چھین کر اپنے کسی سردار کو اس کا حاکم بنا کر چھوڑ گیا۔ اس کے بعد جب اس کو بھروسا ہو گیا کہ میں ہند کو فتح کر لوں گا تو اپنے سرداروں سے پوچھا کہ تمہاری کیا صلاح ہے۔ انہوں نے متفق ہو کر کہا کہ قسمت آزمائی ضرور کرنی چاہیے۔
 بابر کی عمر اس وقت 40 سال تھی۔ کل 13 ہزار سپاہ اس کے ساتھ تھی، لیکن ہر ایک سپاہی سو سو لڑائیاں لڑ چکا تھا اور اپنے بادشاہ کےلئے جان تک دینے کو تیار تھا۔ بابر ان جان نثار سپاہیوں کو لے کر دلیرانہ پنجاب میں داخل ہوا اور سیدھا دہلی کی طرف ہو لیا۔
 پٹھان بادشاہ ابراہیم لودھی1 لاکھ کی فوج لے کر اس کا مقابلہ کرنے کوبڑھا لیکن اس کے افغان سپاہی ہندوستان کے گرم میدانوں میں رہ کر اپنی موروثی طاقت اور ہمت کو کھو بیٹھے تھے۔ آرین لوگوں کے ہند میں وارد ہونے کے وقت سے اب تک جب کبھی شمال کے لوگوں سے معرکہ آ پڑا ۔ ہمیشہ جنوب والوں کو پسپا ہی ہونا پڑا۔ ترک نو وارد اور تازہ دم تھے۔ آگ بگولے کی طرح ہند کے پٹھانوں پر ٹوٹ پڑے۔ بابر اپنے زرہ پوش سواروں کو لے کر خود پٹھانوں کی ٹڈی دل فوج میں گھس گیا اور مڑ کر پچھاڑی سے ان کو قتل کرنا شروع کیا۔ ابراہیم کی صفیں ٹوٹ گئیں اور اس کی فوج میں بھاگڑ پڑ گئی۔یہ پانی پت متصل دہلی کی پہلی لڑائی ہے جو 1526ءمیں ہوئی تھی۔
 اس لڑائی سے دہلی کا تخت بابر کو مل گیا۔ راجپوتانے کے راجاﺅں کے علاوہ ہندوستان میں مسلمانوں کی 5 بادشاہتیں تھیں۔ اول اس نے ان ملکوں کے لینے کی کوشش کی جو شاہان سادات اور لودھی کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔ آپ تو دہلی میں رہا اور ہمایوں کو ایک جرار فوج دے کر مشرق کی طرف روانہ کیا اور اپنے دوسرے معتبر سرداروں اور سپہ سالاروں کو تھوڑی تھوڑی فوجیں دے کر ادھر ادھر بھیجا۔ ہمایوں نے تھوڑے ہی عرصے میں جونپور کا علاقہ لے لیا اور 6 مہینے کے اندر اندر وہ کل ملک دہلی کی قلمرو میں شامل ہو گیا جو کچھ عرصے تک لودھیوں کے تابع تھا۔ دہلی اور آگرے میں لودھیوں کی جمع کی ہوئی دولت کے انبار کے انبار بابر کے ہاتھ آئے۔ اس میں سے کچھ تھوڑی سی دولت تو بابر نے رہنے دی۔ باقی سب اپنے سپاہیوں اور ہمراہیوں کو دے دی۔ خیر سپاہی تو مستحق بھی تھے۔ بابر کی طرف سے افغانستان بلکہ ترکستان اور ایران میں گھر بیٹھے مرد و زن اور بچوں کو تحفے پہنچ گئے۔(جاری ہے ) 
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -