توقیر صادق کی گرفتاری کیلئے 26دسمبرتک مہلت ، پنجاب میں کوئی مدعی پرچہ کٹوادے تو مصیبت میں پڑجاتاہے: سپریم کورٹ

توقیر صادق کی گرفتاری کیلئے 26دسمبرتک مہلت ، پنجاب میں کوئی مدعی پرچہ کٹوادے ...
توقیر صادق کی گرفتاری کیلئے 26دسمبرتک مہلت ، پنجاب میں کوئی مدعی پرچہ کٹوادے تو مصیبت میں پڑجاتاہے: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق کی گرفتاری کے لیے26 دسمبر تک کی مہلت دیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ پولیس کا انسداد دہشت گردی سیل توقیر صادق کو نہیں پکڑ سکتا تو دہشت گردوں کو کیسے پکڑے گا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے اوگرا عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے آئی جی پولیس پنجاب اور آئی جی موٹر وے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ 80 ارب روپے کے گھپلے کا معاملہ ہے، نیب کہتا ہے توقیر صادق کی گرفتاری میں آئی جیز تعاون نہیں کر رہے ، توقیر صادق کی کرپشن کے باعث سی این جی کا مسئلہ بنا، اگر پولیس کی یہ کارکردگی ہے تو اس کا انسداد دہشت گردی سیل بند کر دینا چاہئے، پولیس عوام کو کہہ دے کہ ہر شہری اپنی حفاظت کیلئے ایک ایک کلاشنکوف رکھے، پنجاب پولیس کا یہ حال ہے کہ اسے بتانا پڑتا ہے ملزم کہاں ہے، ہمارے ملک میں کوئی مدعی پرچہ کٹوا دے تو الٹا مصیبت میں پڑ جاتا ہے، پولیس کے اعلیٰ افسران کو اشارہ دیا لیکن وہ پھر بھی توقیر صادق کو نہیں پکڑ سکے۔ آئی جی پنجاب حبیب الرحمان نے عدالت کو بتایا کہ نیب کے تفتیشی افسر کی طرف سے عدم تعاون کا الزام درست نہیں، سی سی پی او لاہور کی سربراہی میں توقیر صادق کی گرفتاری کیلئے ٹیم تشکیل دی۔ آئی جی موٹر وے ظفر اقبال لک کا کہنا تھا کہ توقیر صادق کی گاڑی موٹر وے پر ہونے کی اطلاع ملی جو غلط ثابت ہوئی اس کے بعد نیب نے رابطہ نہیں کیا۔قبل ازیں عدالت کاکہناتھاکہ پولیس نے عدالت کو مذاق بنایاہواہے، کیس کی مزید سماعت 26 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

مزید : اسلام آباد