پی ڈی ایم اور مضبوط 

 پی ڈی ایم اور مضبوط 
 پی ڈی ایم اور مضبوط 

  

پی ڈی ایم کے گزشتہ جلسے کے بعد حکومت کے ترجمانوں نے شکر کیا ہوگا کہ لانگ مارچ کی تاریخ ڈیڑھ ماہ بعد کی دی گئی ہے۔ اب اس ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں یہ ترجمان پورا زور لگائیں گے کہ اپوزیشن اپنے منصوبے پر عمل درآمد نہ کر سکے۔ ایک روایتی طریقہ یہ ہے کہ لانگ مارچ  کے متعلق   پہلے ہی پیشن گوئی کر دیں گے کہ اسلام آباد میں لانگ مارچ  سے حکومت کو فرق نہیں  پڑیگا۔ مگر یہ بات ان کے بھی علم میں ہے کہ یہ لانگ مارچ  دھرنے میں تبدیل ہوگیا تو احتجاج کا سب سے اہم راؤنڈ شروع ہو جائے گا،  ہمیں بچپن میں ایک بات سمجھائی  جاتی تھی کہ اگر ایک شحص آپ کو غلط الفاظ سے پکارتا ہے تو اسے جواب نہ دو، جب وہ دیکھے گا کہ آپ کو کوئی  فرق ہی نہیں پڑ رہا وہ خود چپ ہو جائے گا۔ شیخ رشید احمد، شبلی فراز، شہباز گل، فیاض الحسن چوہان، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور آخر میں فواد چودھری نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ کسی طرح عوام کو گمراہ کردیں کہ جلسہ فلاپ شو ہے۔ 13 دسمبر کو سارا دن یہی ترجمان ٹی وی پر یہ دعویٰ کرتے رہے کہ لاہور کے عوام نے پی ڈی ایم کو مسترد کر دیا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ گیارہ جماعتیں مل کر بھی کپتان کے جلسوں جیسا جلسہ نہیں کر سکیں۔ عثمان بزدار نے تو جلسہ شروع ہونے سے پہلے ہی دوپہر کو کہہ دیا کہ جلسہ ناکام ہو گیا ہے۔

جب ہر منٹ کی خبر عوام کو مل رہی ہے اور چینلز مختلف زاویوں سے ہر چیز دکھا رہے ہیں تو پھر یہ فیصلہ لوگ خود کریں گے کہ جلسہ کامیاب ہے یا ناکام۔ اصل بات یہ ہے کہ حکومت کے ترجمانواں کو ٹی وی پر آنے کا ایسا شوق ہے کہ جب تک دن میں دو تین بار اپوزیشن کے خلاف پریس کانفرنس نہ کر لیں، انہیں چین نہیں آتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن نے لاہور میں ایک بھرپور جلسہ کیا سخت لب و لہجے میں تقریریں کیں، عوام کا جوش و خروش بھی سامنے تھا۔ لائیو کوریج کے ذریعے ملک بھر میں پی ڈی ایم کا  پیغام بھی پہنچ گیا اور جو مقاصد پی ڈی ایم اس جلسے سے حاصل کرنا چاہتی تھی وہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی حکومت کے لئے تشویش کی بات یہ ہونی چاہئے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے اندر ایک دوسرے کے لئے قوت برداشت بڑھتی جا رہی ہے اور ان کے بیانات بھی ایک جیسے ہو چکے ہیں۔ اس کی مثال پچھلے جلسے ہی لے لیں کہ جب مریم نواز تقریر کر رہی تھیں تو مسلم لیگ (ن) کے نغمے چلائے گئے، نوازشریف وزیر اعظم کے نعرے لگے لیکن اسٹیج پر بیٹھے ہوئے پیپلزپارٹی اور جمعیت العلمائے اسلام سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ اسی طرح جب بلاول بھٹو خطاب کرنے آئے تو پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کے حق میں نعرے لگے، پھر مولانا فضل الرحمن کی آمد پر ان کے نعروں اور نغموں سے استقبال ہوا ایسی صورتِ حال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

یہ بات پی ڈی ایم کے اتحاد کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک دوسرے کے لیے جو برداشت کا کلچر رہنماؤں کی سطح پر پیدا ہوا ہے، اس کے اثرات کارکنوں تک آئے ہیں اور ان میں بھی اتحاد نظر آرہا ہے۔ لاہور جلسے میں سب رہنماؤں کی تقریریں اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جمہوریت کی بحالی ہونی چاہیے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ  ایک منتخب وزیر اعظم کے ہوتے ہوئے، اپوزیشن کا بیانیہ عوام کے مینڈیٹ کو سبوتاڑ کرنے والوں کے خلاف بن چکا ہے یہ صورت حال خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے تو اپنے خطاب میں کھل کر کہہ دیا کہ عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا تو فسادات کا خطرہ ہے کیونکہ ریاستی طاقتیں عوام کا سامنا نہیں کر سکتیں۔ سول بالا دستی کی بات تو فوجی آمروں کے دور میں اتنی کھل کر نہیں ہوئی جتنی آج ایک سول حکومت کے دور میں ہو رہی ہے۔ نوازشریف، مولانا فضل الرحمن، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری اور اختر مینگل کی تقاریر کا لب لباب یہی تھا کہ کسی طاقت نے جمہوری نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور وہ طاقت خود نظام چلا رہی ہے۔ وزیراعظم کو جو بات اب سمجھ لینی چاہئیے  وہ اس طرف آتے ہی نہیں۔ انہیں خود کو ایک با اختیار سول حکمران ثابت کرنا چاہئے اور کھلے دل سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دینی چاہیے۔ وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اگر وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ پی ڈی ایم لانگ مارچ کرے اور اسلام آباد آ جائے تو یہ ان کی بہت بڑی غلطی ہو گی۔ اپوزیشن نے اگر لانگ مارچ کی اتنی لمبی تاریخ دی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس عرصے میں فیصلہ سازوں کو فیصلے کی مہلت دے رہی ہے۔اب خود وزیراعظم کو آگے بڑھ کر اپوزیشن سے رابطہ کر لینا چاہیے کیونکہ اس کے سوا اس بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -