بلاتقریق احتساب کا عمل وزیراعظم سے شروع ہونا چاہیے: سراج الحق

بلاتقریق احتساب کا عمل وزیراعظم سے شروع ہونا چاہیے: سراج الحق

اسلام آباد(آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومتی بیانات اور دستاویزات میں تضاد ہے ، پانامہ کا حل سچ میں پوشیدہ ہے ، جھوٹ ہر جگہ جرم ہے ، اسمبلی نو گو ایریا ہے جہاں آرام سے جھوٹ بولا جائے ، بلاتفریق احتساب کا عمل وزیراعظم سے شروع ہونا چاہیے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کے روز پانامہ لیکس کے مقدمے کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کیا ۔ سراج الحق نے کہا کہ عدالت میں وزیراعظم کے وکیل کے دلائل اپنے موکل کیخلاف ثابت ہورہے ہیں ان کے دلائل سے ان گنت سوالات نے جنم لیا جن سے واضح ہوگیا کہ حکمرانوں نے صرف پیسہ بنانے کا کام کیا ہے لیکن اب اپنی لوٹ مار چھپانے کیلئے عدالت سمیت پوری قوم سے جھوٹ بول رہے ہیں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گفٹ لینے اور دینے کی ایک طویل داستان سنائی گئی جس سے حکومتی بیانات اور دستاویزات میں تضاد کھل کر سامنے آگیا کیونکہ ایک طرف موقف اپناتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا لیکن پھر بھی باپ کو کروڑوں تحائف میں دیئے جو شاید ریاست بھی دوسری ریاست کو نہ دے یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے جھوٹ بولا اور جھوٹ بولنا جرم ہے مسجد میں بھی جرم ہے اور اسمبلی میں بھی کوئی نو گو ایریا نہیں جہاں بندہ آرام سے جھوٹ بولے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کے بچے سفید جھوٹ بول رہے ہیں اور احتساب سے بچنے کیلئے استثنیٰ کے پیچھے چھپ رہے ہیں لیکن چھپنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ پانامہ کا حل سچ بولنے میں پوشیدہ ہے کیونکہ سچ میں سکون اصلاح اور تعمیر ہے جبکہ جھوٹ میں تباہی و بربادی ہے ۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں خیبر بینک سکینڈل سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں احتساب چاہتا ہوں جو بلاتفریق ہو لیکن اس کے لئے ایک سسٹم بننا چاہیے میں خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں لیکن احتساب کا عمل بڑے آدمی سے ہونا چاہیے اس لئے ہم پانامہ لیکس کے معاملے میں وزیراعظم سے احتساب چاہتے ہیں تاکہ ایک سسٹم بنے جس کے تحت سب کا بلاتفریق احتساب ہو بڑے بڑے ڈاکوؤں اور لٹیروں سے لیکر منی لانڈرنگ ٹیکس چوری اور بینکوں سے قرضے معاف کرنے والے چوروں کو نشان عبرت بنایا جائے ۔ امیر جماعت اسلامی نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ پانامہ کیس کے معاملے میں الجھن ہے کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے اس کی روشنی میں عوامی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھ کر اس میں سچے اور جھوٹے کا فیصلہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدالت میں دو پٹیشن جمع کرائی ہیں پہلا پٹیشن پانامہ میں تمام کرداروں سے متعلق ہے ان کا احتساب کرنے کیلئے ایک سسٹم بنایا جائے جس کے تحت بلاتفریق احتساب کی راہ بھی ہموار ہوسکے جبکہ دوسرا پٹیشن اس کیس کے مرکزی کردار وزیراعظم سے متعلق ہے جس میں ہم احتساب کا عمل ان سے شروع کرنا چاہتے ہیں تاکہ بڑے آدمی کا احتساب پہلے کیا جائے اور پھر نیچے تک سب چوروں کا احتساب ایک سسٹم کے مطابق کیا جائے لیکن پہلے سسٹم اور بنیاد تو رکھا جاہے تاکہ عوام کو یقین ہوں کہ اس ملک میں بڑے آدمی سے لیکر چھوٹے آدمی تک سب کا بلاتفریق احتساب ہوسکتا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر