حفیظ تائبؒ : سچا عاشقِ رسولؐ

حفیظ تائبؒ : سچا عاشقِ رسولؐ
حفیظ تائبؒ : سچا عاشقِ رسولؐ
کیپشن:   abdul hameed minhas سورس:   

  

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

برادرِ محترم جناب حفیظ تائب ؒ بھی ایسے ہی انسان تھے، جن کی آمد کا چشم فلک برسوں انتظار کرتی ہے۔ آج وہ اس دارِ فانی سے روپوش ہو چکے ہیں، لیکن لاکھوں دِلوں میں زندہ و پائندہ ہیں۔ ایک عالم انہیں اچھے لفظوں میں یاد کر رہا ہے اور تاقیامت کرتا رہے گا۔ یہی ان کی زندگی کی کمائی ہے۔ یہی روزگار فقیران کا ورثہ ہے اور یہ ان کے عشقِ رسول ؐ کا فیض ہے۔ بقول غالب:

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

حفیظ تائب ؒ بھی دستورِ حیات کے عین مطابق وطن کی مٹی کی آغوش میں دائمی نیند سو گئے، لیکن وہ نعت رسول مقبول ؐ کے گلشن میں رنگا رنگ پھولوں کی طرح ہمیشہ لہلہاتے رہیں گے۔ حفیظ تائب ؒ میرے لئے بیک وقت باپ کی شفقت، ماں کی ممتا اور بھائی کی محبت کا مجسمہ تھے۔ وہ میرے روحانی پیشوا تھے، انہی کے فیضانِ نظر سے دربار مصطفی ؐ تک میری رسائی اور عشقِ رسالت مآبؐ کی لذتوں سے شناسائی ہوئی۔

بھائی جان حفیظ تائبؒ کی ذات نعت گوئی کے سمندر میں مینارۂ نور کی حیثیت ر کھتی ہے۔ ان کی فنی عظمت کے بارے میں جن اکابرین علم و ادب نے داد و تحسین پیش کی ہے ان کے مقابلے میں میری کیا حیثیت ہے۔ ان کے عقیدت مندوں کا حلقہ اتنا وسیع ہے کہ احاطہ کرنا مشکل ہے۔ ان کی زندگی ایک پاکیزہ مفہوم کھلی کتاب ہے، وہ خلوص، محبت اور عجز و انکسار کا نمونہ تھے۔ زندگی بھر انہوں نے کسی کو دُکھ نہیں دیا، بلکہ لوگوں کے غم بانٹے، ان کی نعت کا ہر گوشہ چودہویں کے چاند کی طرح ضوفشاں ہے۔ انہوں نے نعت گوئی کو نیا اسلوب دیا۔ وہ حضور اکرم ؐ سے فرطِ عقیدت کے باوجود کبھی حد سے نہیں گزرے۔ نعت میں ان کی ذاتی فطری شرافت اور نفاست طبع کی جو جھلک لطیف جذبات کو تسکین دیتی ہے۔ ان کی ایک نعت کے چند اشعار پیش کرتا ہوں:

رہی عمر بھر جو اُنیسِ جاں وہ بس آرزوئے نبیؐ رہی

کبھی اشک بن کے رواں ہوئی کبھی درد بن کے دبی رہی

وہ صفا کا مہر منیر ہے طلب اس کی نورِ ضمیر ہے

یہی روزگارِ فقیر ہے یہی التجائے شبی رہی

وہ ساعتیں تھیں سرور کی وہی دن تھے حاصل زندگی

بحضورِ شافع اُمتاں میری جن دنوں طلبی رہی

حفیظ تائب ؒ نے فنِ نعت گوئی کو جدید جہت عطا کی، نیا رنگ دیا، انہوں نے نعت میں زمینی حقیقتوں، دنیاوی مسائل، تاریخی پہلوؤں اور اُمتِ رسول ہاشمیؐ کو درپیش مسائل کو سمو دیا۔ اس حوالے سے ان کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں:

اے نوید مسیحا تری قوم کا حال عیسیٰ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا

اس کے کمزور اور بے ہنر ہاتھ سے چھین لی چرخ نے برتری یا نبیؐ

اُمتِ مسلمہ آج جن مسائل کا شکار ہے۔ کشمیر، فلسطین، افغانستان، عراق میں جو ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ اس پر وہ حضرتِ رسالت مآب حضور اکرم ؐ کے حضور اس طرح فریادی ہیں:

اپنی اُمت کے برہنہ سر پر رکھ شفقت کا ہاتھ

پونچھ دے انسانیت کی چشم تر خیر البشرؐ

اور پھر یہ شعر ملاحظہ ہو:

جوشِ آزادی سے ہیں سرشار کشمیری عوام

ظلم ان پر توڑتے رہتے ہیں ہندی صبح و شام

ذرّہ ذرّہ مضطرب ہے وادی کشمیر کا

یا رسولؐ اللہ! اَنظر حالنا!

دولت کے ڈھیر لگانے کی دوڑ میں اندھے ہو کر حرام، حلال کی تمیز اور اخلاقیات سے بے نیازی کے حد سے بڑھے ہوئے رجحان پر کفِ افسوس ملتے ہوئے کہتے ہیں:

اخلاق کا یہ کساد مولا

انصاف کا یہ زوال مولا

دیکھا نہ تھا چشم آدمی نے

اخلاص کا ایسا کال مولا

کیا کیا عرض کروں اور کیا کیا آپ کو سناؤں۔ آپ سب خود صاحبِ علم ہیں۔ مختصر یہ کہ حفیظ تائبؒ نعت عشق رسولؐ کا ایک ایسا مہکتا گلشن چھوڑ گئے ہیں،جس سے عاشقانِ رسول ؐ تا قیامت فیض یاب ہوتے رہیں گے:

زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر

خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

مزید :

کالم -