معیاری نظام تعلیم کی ضمانت معیاری سوالیہ پرچہ جات

معیاری نظام تعلیم کی ضمانت معیاری سوالیہ پرچہ جات
معیاری نظام تعلیم کی ضمانت معیاری سوالیہ پرچہ جات

  



کسی بھی نظام تعلیم میں امتحانات کو کلیدی اہمیت حاصل ہے ،جن کی صحت مندی کا تمام تر انحصار دو باتوں پر ہے۔ ایک امتحانات کے انعقاد کا شفاف طریقہ اور دوسرا سوالیہ پرچہ جات کا معیار۔۔۔ جہاں تک اول الذکر بات کا تعلق ہے کہ ہمارا امتحانی سسٹم کتنا شفاف ہے اس پر آئندہ کبھی انشاء اللہ بحث کریں گے، سرِدست سوالیہ پرچہ جات کا جائزہ لیتے ہیں۔ امسال بھی سوالیہ پرچہ جات میں کچھ خامیاں نظر آئیں تو سوچا کہ ان کی نشاندہی کر دی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسا نہ ہو یا کم از کم درستی کا باعث بن سکیں ۔۔۔بلاتمہید عرض ہے کہ بورڈز کے سوالیہ پرچہ جات بنوانے کا ایک جامع اور منظم طریقہ کار ہے ،جس کے مطابق ہر بورڈ کم از کم دو مضامین جن میں ایک سائنس اور ایک آرٹس کا مضمون شامل ہے، کے سوالیہ پرچہ جات بنواتا ہے۔ ایک ہی مضمون کے بورڈ تین یا چار پیپر بنواتا ہے، جن کی کل تعداد بیالیس سے اڑتالیس تک بن جاتی ہے۔ اب متعلقہ کوآرڈی نیٹر اپنی مرضی کے سوالات منتخب کرتا ہے، یوں پیپر سیٹ کرنے والے کو بھی اندازہ نہیں ہو سکتا کہ کون سے سوالات امتحان میں پوچھے گئے ہیں، اس سب کچھ کے باوجود پیپرز امتحان سے قبل ہی آؤٹ ہو جاتے ہیں اور یہ رجحان عموماً بڑی کلاسوں میں کافی زیادہ ہے، جس پر قابو پانا نہایت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ یہ شکایات بھی عموماً جوں کی توں ہیں کہ کچھ سوالات آؤٹ آف کورس پوچھے جاتے ہیں، نجانے یہ سلسلہ کب بند ہوگا۔ کیا پیپر سیٹ کرنے والے ماہرین تعلیم سلیبس سے واقف نہیں؟

ان سوالیہ پرچہ جات میں ایک بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ فرسٹ ٹائم پوچھے جانے والے اکثر سوالات سیکنڈ ٹائم کے پیپر میں (Repeat) ہوتے ہیں۔ یہاں پر بھی ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا سلیبس میں یہی چند مخصوص سوالات ہیں جن کے علاوہ باقی نہیں پوچھے جا سکتے؟ سوالات بلاشبہ (Repeat) ہوں، لیکن من و عن اور کثرت کے ساتھ ہر گز نہیں، اس کا سدباب بھی نہایت ضروری ہے۔ ہمارے ماہرین تعلیم غالباً اپنی آسانی کے لئے بورڈز کے پرانے پیپر ہی اٹھا کر نیا پیپر بنا دیتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ زیادہ تر سوالات پچھلے پانچ سالہ پیپرز سے ہی ہوتے ہیں۔ کم از کم Statementتو تبدیل کر دی جائے۔ اس بار تو ایک بورڈ نے حد کر دی کہ نہم کلاس کے میتھ (Math) کے گروپ سیکنڈ کے سوالیہ پرچے میں معروضی (Objective) کا پیپرمع کوڈ وہی تھا جو 2014(A) ء میں پوچھا گیا، ماسوائے ایک دو سوالات کے آپشن نمبرز کی تبدیلی کے باقی کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ایسا کیوں کیا گیا؟ ایسے کون سے ایمرجنسی حالات پیدا ہو گئے کہ بورڈ کو مجبوراً ایسا کرنا پڑا، اب یہاں پر بھی دو طرح کی صورت حال ہو سکتی ہے۔ ایک تو یہ کمپیوٹر سیکشن غلطی کر سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ ممکن ہے بورڈ حکام کو کوئی شک گزرا ہو کہ پیپر آؤٹ ہو گیا ہے۔ بہرحال جو بھی ہے، ذمہ داران کا تعین ضروری ہے، اگر یہی حالات رہے تو سٹوڈنٹس صرف بورڈ کے پانچ سالہ پیپرز پر ہی اکتفا کریں گے، جنہیں کامیابی کی ضمانت سمجھا جائے گا۔

ایک اور پرابلم یہ ہے کہ ہمارے سوالیہ پرچہ جات یا تو نہایت ہی مشکل ہوتے ہیں یا پھر بالکل آسان ،کم از کم اتنا معیار تو ضرور رکھا جائے کہ ایک سوالیہ پرچہ ذہین اور کند ذہن سٹوڈنٹ میں فرق واضح کر سکے، لیکن بدقسمتی سے ایسے سوالیہ پیپرز بھی دیکھنے کو ملے، جن میں ایک (Long Question) کو (Short Question)بنا کر اور (Short)کو (Long) بنا کر پوچھا جاتا ہے، جس سے ذہین سٹوڈنٹس تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض ایگزامینر اپنی کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ سٹوڈنٹس کی ذہنی اپروچ اولاً ترجیح ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے بورڈز ایسے ماہرین تعلیم کا انتخاب کریں، جنہیں متعلقہ مضامین پر پوری گرفت حاصل ہو، لیکن یہاں تو ایسا بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ سائنس سبجیکٹ کے بڑے بڑے (Numerical Problems) کو صرف دو نمبر کے (Short Question) کے طور پر پوچھا جاتا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ پیپر سیٹرز کا مضمون کی گہرائی سے تعلق نہ ہونا ہے۔ آخر میں ہم اتنا کہیں گے کہ سوالیہ پرچہ جات نہایت ہی معیاری اور ہر حوالے سے مکمل اور جامع ہونے چاہئیں۔ یہ سوالیہ پرچہ جات سلیبس کے عین مطابق ترتیب دیئے جائیں اور معیار پر کوئی کمپرومائز نہ کیا جائے، کیونکہ معیاری نظام تعلیم کی ضمانت صرف معیاری سوالیہ پرچہ جات ہی ہیں۔ *

مزید : کالم