برطانیہ، لاء کالج کی 19 سالہ مسلمان طالبہ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا

  برطانیہ، لاء کالج کی 19 سالہ مسلمان طالبہ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا

  

مانچسٹر(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن) برطانیہ میں لنکا شائر کے صنعتی علاقے بلیک برن میں ایک 19 سالہ مسلمان لڑکی کو کار سواروں نے گولی مار کر قتل کر دیا اور فرار ہو گئے،لڑکی افطاری کا سامان لینے مقامی سپر سٹور میں خریداری کیلئے جا رہی تھی جو اس کے گھر سے ایک میل سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔تفصیلات کے مطابق بلیک برن میں ایک مسلمان دوشیزہ کو کنگ سٹریٹ پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ 19 سالہ ایا ہاشم کو نامعلوم کار سوار شخص نے ٹارگٹ کیا اور فرار ہو گیا۔بتایا جاتا ہے کہ ایا ہاشم گھر سے افطاری کا سامان لینے کے لیے مقامی سٹور ”لڈل“ جا رہی تھی۔یہ واقعہ گزشتہ روز کنگ اسٹریٹ پر 3 بجے سہ پہر پیش آیا۔ علاقے میں گولی چلنے کی آواز سنی گئی اور اس کے بعد ایک نوجوان لڑکی کو سڑک پر مردہ حالت میں پایا گیا جسے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔ایک عینی شاہد کے مطابق قاتل نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور نشانہ لے کر گولی چلا دی اور زیر استعمال ٹیوٹا گاڑی میں فرار ہو گیا۔عینی شاہد کے مطابق لڑکی پہلے فٹ پاتھ پر چل رہی تھی پھر اچانک فٹ پاتھ سے اتر کراس نے سڑک پر چلنا شروع کر دیا۔ ایا ہاشم یونیورسٹی آف سیلفورڈ میں سیکنڈ ایئر لا کی طالبہ تھی اور چلڈرن سوسائٹی چیریٹی کے ساتھ بطور رضاکار بھی کام کرتی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو سی سی ٹی وی کے ذریعے جلد پکڑ لیا جائے گا۔پولیس نے مقتولہ کی فیملی کو بھی مطلع کر دیا اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قاتل کو پکڑنے میں پولیس کی مدد کریں۔انویسٹی گیشن ٹیم کے افسر جوناتھن ہومز کا کہناہے کہ یہ افسوس ناک اور بے رحم قتل ہے جس نے ایک لڑکی سے اس کی زندگی چھین لی۔ واقعے کے ذمہ دار کو ضرور پکڑا جائے گا، ہمارا خیال ہے کہ ہلکے رنگ کی ایک ٹویوٹا ایوینس گاڑی اس واقعے میں ملوث ہو سکتی ہے۔

دوشیزہ قتل

مزید :

صفحہ آخر -