ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 15

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 15
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 15

  

استنبول کی کملیکا پہاڑ ی

استنبول میں بارش ہورہی تھی۔ اس لیے فلائٹ دوگھنٹے لیٹ روانہ ہوئی۔ہماری واپسی کمال اتاترک ائیر پورٹ کے بجائے صبیحہ گوچکن ائیرپورٹ پر ہوئی جو ایشیائی حصے میں واقع اور کافی دور ہے ۔ صبیحہ گوچکن دراصل ایک خاتون کا نام ہے جو تر کی کی پہلی ہواباز خاتون تھیں اور دنیا کی پہلی خاتون تھیں جنھوں نے کسی جنگ میں حصہ لیا۔ اسریٰ ہمیں لینے کے لیے ائیر پورٹ پر موجود تھی۔ اس وقت اس کے ساتھ کوئی اور لڑ کی نہیں تھی۔ چنانچہ اسریٰ نے سارا زور لگا کر انگریزی بولنے اور سمجھنے کی کوشش کی۔ جہاں بہت مشکل ہوتی وہ اپنا آئی فون ہمیں دے دیتی اس پر ہم انگریزی میں جملہ لکھ دیتے اوراس کا ترکی ترجمہ سامنے آ جاتا ۔یوں بات چیت ہوتی رہی۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 14  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اسریٰ ہمیں سیدھا ایشیائی حصے میں واقع کملیکا ہل یا پہاڑ ی پر لے گئی۔ یہ پہاڑ ی یورپی حصے کے بالمقابل باسفورس کے بالمقابل واقع ہے ۔ اس پر جا کر باسفورس اور یورپی حصے کا بہت خوبصورت منظر سامنے آتا ہے ۔ہم یہاں مغرب کے بعد پہنچے تو شہر کی روشنیاں دیکھنے کا موقع مل گیا۔ ایک دو دن بعدہم لوگ یہاں سہہ پہر کے وقت خودآئے۔چنانچہ دن کی روشنی میں شہر کا نظارہ کیا۔ اُسی وقت یہ اندازہ بھی ہوا کہ یہاں ایک بہت بڑ ا پارک اوردرختوں کا بڑ ا سا جنگل بھی موجود ہے ۔پہاڑ ی کے دوسرے حصے سے شہر کا ایشیائی حصہ بھی دوردور تک نظر آتا ہے ۔ استنبول کے طائرانہ جائزے کے لیے بلاشبہ یہ ایک بہترین جگہ ہے ۔

ہماری تربیت اورفیڈ بیک کارجحان

ہمارا نیا ہوٹل ٹاکسم ا سکوائر کے قریب ہی واقع تھا۔اس ہوٹل کی وجہ انتخاب یہ تھی کہ اس کے کمرو ں کی کھڑ کیوں سے باسفورس کا پانی نظر آتا تھا۔اس کمرے میں رہ کر کھڑ کی سے باسفورس کے نیلگوں سمندر، اس پر چلتے ہوئے بڑ ے بڑ ے بحری جہازوں اور کنارے کے دوسری طرف استنبول کے ایشائی حصے کو دیکھنا بڑ ا ہی دلچسپ اور خوبصورت منظرتھا۔رات کے وقت سمندرکے اوپر اڑ تے ہوئے سفیدبگلوں پر جب شہر کی روشنیاں پڑ تیں تو وہ خود بھی چمکتے ہوئے نظر آتے ۔ کبھی بحر اسود کا سیاہ پانی آتا اور باسفورس کے نیلے پانے کے اوپر ایک سیاہ تہہ چڑ ھتی چلی جاتی۔پھر دوبارہ پانی نیلگوں ہوجاتا۔ بارش ہوتی تو پانی کی بوچھاڑ سے شہر کو بھیگتے ہوئے دیکھنا بھی ایک پرلطف منظر تھا۔ کمرے میں بیٹھ کر یہ سارے مناظردیکھنا وہ تفریح تھی جو ہر وقت ہماری دسترس میں تھی۔تاہم اس کے علاوہ ہوٹل کی ہر چیز غیر معیاری تھی۔ لفٹ کئی دفعہ خراب ملی۔وائی فائی بھی اکثر خراب رہا۔ کئی دفعہ کمرے کا لا کر خراب ہوا۔اسٹاف بھی تعاون کرنے والا نہ تھا۔ تاہم اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ بیشتر اسٹاف عرب تھا کیونکہ یہاں اکثر عرب ہی ٹھہرتے تھے ۔اسٹاف میں ترکی کا صرف ایک شخص ملا اور وہ بہت زیادہ تعاون کرنے والا تھا۔

میں اس سے قبل بھی اپنے سفرناموں میں عربوں اور خود پاکستانیوں کے متعلق اپنا یہ تاثر نقل کر چکا ہوں کہ ان دونوں اقوام کے لوگ اکثر اپنی ذمہ داریوں کو بوجھ سمجھ کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ذمہ داری مجبوراً ادا کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ احسان کر رہے ہیں ۔یہ صورتحال ہمارے سرکاری اداروں تک ہی محدود نہیں ، مجھے تو پاکستان کی ائیر لائن جیسے پروفیشنل اداروں کی ائیر ہوسٹسز سے بھی اسی تجربے کا سامنا ہوا ہے ۔

اس صورتحال کا ایک بڑ ا اہم سبب میرے نزدیک یہ ہے کہ ان کی تربیت فرائض کے بجائے حقوق کی نفسیات میں ہوئی ہے ۔ یہاں کی سیاسی اور فکری قیادت جس میں علماء، میڈیا، دانشور، صحافی سب شامل ہیں ، الا ماشاء اللہ ، ان کی انگلیاں ہمیشہ دوسروں کی طرف رہتی ہیں ۔یہ الزام و بہتان کی نفسیات میں جیتے ہیں ۔یہ ہمیشہ دوسری اقوام ، دوسرے صوبے ، دوسری پارٹی، دوسرے فرقے اور دوسرے گروہ کو ہر خرابی کا ذمہ دار قرار دینے کے عادی ہیں ۔

چنانچہ بچپن ہی سے یہ تربیت ہوجاتی ہے کہ ساری ذمہ داری دوسروں کی ہے ۔ ہم تو بالکل ٹھیک ہیں ۔اس طرح کے لوگ ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں سے گریزاں رہتے ہیں اور صرف حقوق کے لیے آواز اٹھانا جانتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں معاشرے میں ہر طرف خرابی پھیل جاتی ہے ۔ اس سے بڑ ھ کر یہ انداز فکر اصلاح کا ہر دروازہ بند کر دیتا ہے ۔ہمارے جیسے اکا دکا لوگ توجہ دلاتے ہیں تو ان کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ہی ثابت ہوتی ہے ۔ مگر درحقیقت یہ راستہ تباہی کا راستہ ہے ۔ دنیا میں کوئی قوم اور فرد اس طریقے پر دیر پا اور حقیقی ترقی نہیں پا سکتا۔ یہ دنیا دینے سے ترقی کرنے کے اصول پر چلتی ہے ۔لینے ، مانگنے ، عذر پیش کرنے ، دوسروں کو الزام دینے والے لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔

بہرحال میں نے اپنی ذمہ داری پوری کی۔ اس طرح کہ بکنگ کرانے والی سائٹ پر جا کر نئے آنے والوں کو یہاں کے اسٹاف کے بارے میں متنبہ کر کے یہاں نہ ٹھہرنے کا مشورہ دیا۔ گرچہ دیانت داری کے تقاضے کے پیش نظر یہ ضرور بتایا کہ یہاں کا ناشتہ بہترین تھا۔تاہم اس ہوٹل کے علاوہ ہم نے باقی تمام ہوٹلوں کے فیڈ بیک میں دل کھول کران کی تعریف کی۔

یہ بھی بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک مسئلہ ہے کہ لوگ کسی چیز کا فیڈ بیک نہیں دیتے ۔ کبھی دیتے بھی ہیں تو اس وقت جب کبھی کسی کے خلاف بہت غصہ آیا ہو۔ کسی کی تعریف کرنے یا اس کا اعتراف کرنے کا رجحان یہاں بہت کم ہے ۔اس کے نتیجے میں اچھے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور برے لوگوں کا حوصلہ بلند ہوتا ہے ۔

مسائل کے باوجود

جیسا کہ عرض کیا اس ہوٹل میں ہمیں کئی پہلوؤں سے مسلسل مسائل کا سامنا رہا۔مثلاً کمرے کا لا کر کئی دفعہ خراب ہوا۔ وائی فائی اکثر نہیں چلتا تھا۔ ہم چھٹی منزل پر تھے اور لفٹ دو تین دفعہ خراب ملی۔تاہم یہ زندگی کا اصول ہے کہ یہاں کبھی چیزیں ایک جیسی نہیں رہتیں ۔آسانی اور مسائل ساتھ ساتھ آتے جاتے رہتے ہیں ۔انسان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ مسائل کے باوجود مطمئن رہے ۔اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ چیزوں کو اللہ کے حوالے کر دیا جائے ۔ انسان جس وقت چیزوں کو اللہ کے حوالے کرتا ہے تو وہ اللہ کی مدد کو اپنے شامل حال کر لیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کئی پہلوؤں سے اپنے بندوں کی مدد کرتے ہیں ۔ ایک یہ کہ فوری طور پر ان کو سکون قلب کی نعمت عطا کرتے ہیں ۔ دوسرے ہر معاملے کو بہتر طریقے سے حل کرتے ہیں ۔ تیسرے ان مسائل کے بدلے میں انسان کو آخرت کا بہترین اجر دیتے ہیں ۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مسائل پیش آنے پر کچھ نہ کرے ۔ وہ ہر مسئلے کا ممکنہ حل تلاش کرے ۔ لیکن جب مسئلہ حل نہ ہو تو ان مسائل کو اللہ کے حوالے کر دے اور ساتھ ساتھ ان مسائل سے توجہ ہٹا کر ان نعمتوں کی طرف مبذول کر دی جائے جو ملی ہوئی ہیں ۔ یہی مسائل کے باوجود مطمئن رہنے کا راز ہے ۔

اکوا فلورا

گوریم سے وپسی پر ائیرپورٹ سے شہر آتے ہوئے اسریٰ نے میری اہلیہ کے ساتھ یہ طے کر لیا تھا کہ اگلے دن یعنی ہفتے کو وہ ہمیں حضرت ابو یوب انصاری کے مزار، اس کے قریب واقع پیری لوٹی کے مقام اور ایک شاپنگ سنٹر اکوا فلورا لے کر جائے گی۔

پروگرام کے مطابق اگلے دن ہفتے کو ہم روانہ ہوئے ۔ اس دفعہ ہم ٹاکسم سے کباتش خود چلے گئے جہاں اسریٰ اپنی ایک نئی دوست اوزگی کے ساتھ ہماری منتظر تھی۔آج مترجم کی ذمہ داری اوزگی کے سر تھی۔ یہ لوگ میٹرو میں لے کر ہمیں روانہ ہوئے ۔ راستے میں اوزگی نے میٹرو کی متعدد سہولیات سے ہمیں آگاہ کیا۔مثلاً اس نے یہ بات ہمیں بتائی کہ میڑ و میں داخل ہوتے وقت جب ہم اپنا کارڈا سکین کرتے ہیں تو سسٹم زیادہ سے زیادہ سفرکا کرایہ کاٹ لیتا ہے ۔ اب ہم اگر پہلے اترگئے ہیں تو ہم اترتے وقت ایک اور مشین سے اپنا کارڈ ا سکین کر لیں ۔ جس کے بعد وہ اضافی کاٹے گئے پیسے واپس کر دیتا ہے ۔ چنانچہ اس نے ایک جگہ اتر کر ہمارے پیسے واپس کروائے ۔

ہمیں اکوا فلورا کے شاپنگ سنٹر جانا تھا ۔ اس تک میٹر ونہیں جاتی تھی ۔ چنانچہ یہاں سے ہم ٹیکسی لے کر روانہ ہوئے اور تھوڑ ی دیر میں منزل پر جاپہنچے ۔یہ استنبول کے بڑ ے شاپنگ مال میں سے ایک ہے ۔ یہاں پر دنیا کا سب سے بڑ ا تھیم پر مبنی اکویریم بھی موجود تھا۔ چنانچہ میں اپنے بیٹے کو لے کر یہ اکویریم دکھانے چلا گیا اور یہ تینوں خواتین شاپنگ سنٹر دیکھنے لگیں ۔

یہ اکویریم اس پہلو سے منفرد تھا کہ یہاں نہ صرف مختلف اقسام کی سمندری حیات موجود تھیں بلکہ ان کو مختلف سمندروں کی تھیمز پر یکجا کیا گیا تھا۔ جیسے بحیرہ اسود، بحرہ قلزم یا بحیرہ مرمرہ وغیرہ میں پائی جانے والی رنگ برنگی اور عجیب و غریب مچھلیاں اور سمندری مخلوق یہاں الگ الگ رکھی گئیں تھیں ۔

میں نے اپنے بیٹے کے ہمراہ یہ سارا ایکیوریم دیکھا اور اللہ کی قدرت اور صناعی کے نمونے دیکھتا رہا۔یہاں کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ دیواروں پر کندہ تصویروں اور مجسموں کے ذریعے ان مختلف بحری اور ساحلی جنگوں اور ان کے اہم کرداروں کو نمایاں کیا گیا تھا جو ترکی کے ساحلوں پر لڑ ی گئی تھیں ۔ ان میں قدیم ترین جنگ ٹراجن وار تھی۔ یہ وہی مشہور زمانہ ٹرائے اور ہیلن والی جنگ تھی جسے یونان کے شاعرہومر نے اپنے نظموں میں لافانی بنادیا اور جس سے اب ہالی وڈ کی فلموں نے ہر عام آدمی کو روشناس کرادیا ہے ۔ یہ جنگ بارہ سو قبل مسیح کے قریب لڑ ی گئی۔اس میں ایک طرف یونانی تھے جو بحیرہ ایجین عبور کر کے آئے تھے اور دوسری طرف ٹرائے کی یونانی نوآبادی تھی جو موجودہ ترکی کے بالکل مغربی ساحل پر واقع تھی۔

اس قدیم ترین جنگ سے لے کر اس جدید ترین جنگ کا بھی ذکر تھا جو کمال اتاترک کی قیادت میں لڑ ی گئی۔بیسویں صدی کے آغاز پر ترکی خلافت کی تمام تر شان و شوکت ختم ہو چکی تھی۔ عثمانی خلافت موجودہ ترکی سے باہر شمالی افریقہ، جزیرہ نما بلقان، یونان اور مشرق وسطیٰ میں بمشکل تمام اپنا قبضہ باقی رکھے ہوئے تھی۔ مگر ہر جگہ اسے پے در پے جنگوں اور بغاوتوں کا سامنا تھا۔ یہاں تک کہ پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی۔ ترکی نے اس امید پر جرمنی کے ساتھ جنگ میں شمولیت اختیار کی کہ کامیابی کے نتیجے میں اس کے وہ یورپی مقبوضات اسے مل جائیں گے جو پچھلی صدیوں میں اس کے ہاتھ سے نکل گئے تھے ۔

مگر معاملہ الٹا ہی ہو گیا۔ جرمنی اور اس کے اتحادیوں کو شکست ہوگئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ عثمانی خلافت کے تمام مقبوضات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ۔حتیٰ کہ استنبول میں بھی اتحادی افواج داخل ہوگئیں ۔یہ وہ وقت تھا جب مصطفیٰ کمال نے انقرہ کو مرکز بنا کرایک متوازی حکومت قائم کر لی۔ اس سے قبل مصطفیٰ کمال اتاترک کی جوکہ ایک فوجی افسر تھے یہ شہرت تھی کہ جس جنگ کی قیادت وہ کرتے ہیں اس میں کہیں ترکی کو شکست نہیں ہوئی۔ ہر محاذ پر انھوں نے اپنے دشمنوں کو شکست دی تھی۔ اس میں پہلی جنگ عظیم کی گیلی پولی کے محاذکی وہ مشہور جنگ بھی شامل ہے جس میں اتحادی افواج نے ترکی پر قبضہ کرنے کے لیے حملہ کیا اور اتاترک نے غیر معمولی بہادری سے ان کا کئی ما ہ مقابلہ کر کے ان کو بدترین شکست دی۔

مصطفی کمال نے اناطولیہ سے ہر جگہ اتحادی افواج کے اس حصے کو جو یونانی فوج پر مشتمل تھا شکست دے کر باہر نکالا۔ اتحادیوں کو اندازہ ہو گیا کہ جلد یا بدیر اتاترک ان کو شکست دے کر استنبول سے بھی نکال دے گا ۔ چنانچہ وہ ایک معاہدے کے تحت خود ہی وہاں سے نکل گئے ۔ یوں ترکی کی خود مختاری مکمل طور پر بحال ہوگئی۔ قوم نے مصطفی کمال کو اپنا نجات دہندہ اور قوم کا باپ اتاترک تسلیم کر لیا۔ اتاترک صرف ترکی ہی نہیں برصغیر کے مسلمانوں کے بھی رول ماڈل بن گئے کیونکہ اس پورے عرصے میں یہاں کے مسلمان ترکی کے حالات سے براہ راست متعلق رہے تھے ۔ تحریک خلافت سے لے کر اقبال کے ترکی کے بارے میں کہے جانے والے لافانی اشعار سب اس بات کے گواہ ہیں کہ یہاں کے عوام کو ترکی سے کتنی گہری جذباتی وابستگی تھی۔ (جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 16 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : سیرناتمام