درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 38

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 38
درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 38

  


بھوپال کے ولی عہد، نواب نصر اللہ خان اپنے زمانے کے سب سے مشہور شکاری سمجھے جاتے تھے۔ اللہ نے دولت، صحت اور وقت کی بے اندازہ نعمتیں عطا فرمائی تھیں لیکن ان سب کا مصرف نواب صاحب کے ہاں ایک اور صرف ایک تھا یعنی شکار اور وہ بھی شیر تک محدود۔۔۔بھوپال، وسط ہند کی ایک زرخیز ریاست تھی۔ بندھیا چل کی پہاڑیوں سے گھری ہوئی۔ بارش کی فراوانی نے ان پہاڑوں اور ان کے درمیان گھرے میدانوں میں گھنے جنگل اگار رکھے تھے،جگہ جگہ چشمے اور تالاب تھے جن سے جنگلی جانور اپنی پیاس بجھاتے اور آسودگی حاصل کرتے۔جھاڑیاں اور درخت،بعض مقامات پر اتنے گھنے تھے کہ انسان کے لیے وہاں تک پہنچنا مشکل تھا۔پہاڑیوں کے دامن میں جابجا غار تھے جو جنگلی جانوروں، بالخصوص شیروں کے مسکن بن گئے تھے۔ ان علاقوں میں دیہات اور آبادیاں کم تھیں، اس لیے جانوروں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی، جہاں چاہیں جائیں اور جوچاہیں کریں۔لنگوروں کے جھنڈ،درختوں پر چہلیں کرتے اور اچھل کود میں مصروف رہتے۔زہریلے سانپ اور اژدہے ٹہنیوں سے لٹکے یا جڑوں کے کھوکھلوں میں بیٹھے پھنکاریں مارا کرتے۔اس فضا میں اگر کسی منچلی طبیعت والے کو شکار کا شوق لاحق ہو جائے تو چنداں تعجب خیز نہیں۔نواب نصر اللہ خان کو بھی ماحول ہی نے شیر کا مسلمہ شکاری بنا دیا اور انہوں نے اپنی جوانی میں تقریباً سوا سو جانور ہلاک کیے جن کی کھالیں ان کے محل کا فرش اور سر،دیواروں کی زینت بنے۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 37  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دلچسپی کا جب یہی مشغلہ ٹھہرا تو ظاہر ہے ان کے دوست احباب بھی زیادہ تر وہی لوگ ہوتے جنہیں اس فن میں مہارت حاصل تھی۔ڈاکٹر میکانگی، گوبلحاظ عہدہ،سول سرجن تھا لیکن مشاق نشانہ باز ہونے کی حیثیت سے نواب صاحب کا مشیر خاص بھی تھا۔شکاری اسلحہ، بندوق، رائفلوں اور چھروں کے متعلق اس کا مشورہ حرف آخر سمجھا جاتا۔ دوسرے نمبر پر میجر افتخار مرحوم تھے جو ہر موقع پر لازماً نواب صاحب کے ہمراہ ہوتے۔والد صاحب سے ان کے گہرے تعلقات تھے اور شیر کے ہر شکار کا حال وہ اس طرح سناتے کہ چھوٹی سے چھوٹی تفصیل بھی فروگذاشت نہ ہوتی۔انہیں میں سے ایک دلچسپ واقعہ جو میجر صاحب نے بیان کیا، ذہن میں اب تک محفوظ ہے۔

ننانوے کا پھیر تو مشہور ہی ہے لیکن نواب صاحب کو اس سلسلے میں جو سرگردانی ہوئی اس کا جواب نہیں۔سال میں ایک دو بلکہ تین شیر تک ان کی بندوق کا نشانہ بن جاتے اور ہر بار جولوگ ان کے ہمراہ ہوتے، انعام و اکرام سے سرفراز کیے جاتے لیکن ننانوے شکار پورے ہونے پر جس طرح کرکٹ کے کھلاڑی کو سنچری مکمل کرنے میں دیر لگتی ہے،اسی طرح نواب صاحب کو بھی غیر معمولی حالات سے دو چار ہونا پڑا۔پہلے تو سال بھر تک کانوں میں شیر کی بھنک تک نہ پڑی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مفرور مجرموں کی طرح سب زیر زمین پوشیدہ ہو گئے ہیں۔جنگلوں کے اطراف واکناف میں راتوں کو بھینسے (جنہیں وہاں کی زبان میں ’’بودے‘‘ کہا جاتا ہے)باندھے جانے لگے کہ ان کی بوپا کرشیر آئے لیکن روزانہ یہی خبریں موصول ہوتیں سب بخیریت ہیں اور کسی کا بال تک بیکا نہیں ہوا۔ چھ مہینے اور گزر گئے۔ایک روز کلیا کھیڑی کی تحصیل سے اطلاع ملی کہ وہاں جنگلوں کے قریب کسی بیل کی نچی کھچی لاش پائی گئی ہے جس پر دانتوں اور پنجوں کے نشان ظاہر کرتے ہیں ،یہ کسی مردم خور شیر کے کرتوت ہیں۔نواب صاحب نے مجھے فوراً ٹیلی فون پر ہدایت کی جلد وہاں پہنچوں اور تحقیق کروں واقعے کی نوعیت کیا ہے؟برسات کے موسم میں بھوپال کی سیاہ مٹی دلدل بن جاتی ہے۔بیل گاڑی کاسفر، اوپر سے بارش، قہر درویش برجان درویش جانا پڑا۔دیکھتے ہی معلوم ہو گیا، کسی شیر ہی کاکارنامہ ہے بلکہ یہ بھی اندازہ ہو گیا وہ کوئی پرانا آزمودہ کار،خرانٹ جانور ہے جس نے چھٹتے ہی پہلے شکار کی گردن اور پھرپنجوں سے دل نوچ لیا۔میری اس رپورٹ پر تمام نوابی مشینیں حرکت میں آگئیں۔علاقہ کے ٹیپل (مکھیا)سے لے کر چوکیدار تک ہوشیار کر دیئے گئے کہ ان کے نواح میں خطرناک اور موذی شیر، انسانوں کی جان کا گاہک ہے اور نواب صاحب بہ نفس نفیس اس سے معاملات طے کرنے آرہے ہیں۔جگہ جگہ’’بودے‘‘ باندھے جانے لگے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ شیر کا قیام کس طرف ہے۔دس دن،بیس دن، ایک مہینہ گزر گیا۔بھینسے تھانوں پر کھڑے مزے سے چارہ کھاتے رہے اور کسی نے نہ پوچھا،تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں۔اس دوران میں نواب صاحب کی بے چینی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔واقف بھوپالی نے اس کیفیت کو یوں ادا کیا تھا؂

مخصر’’بودے‘‘ پہ ہو جس کی امید

ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے

آخر اسی جنگل کے دوسرے کھنارے کوئی پچاس میل ہٹ کر ایک اور لاش پڑی ملی۔یہ ایک جری نوجوان تھا جس نے نہایت پامردی سے شیر کا مقابلہ کیا تھا اور شیر نے غصے میں اس کی ناک چباڈالی اور ہاتھوں کی ہڈیاں توڑ دی تھیں جس سے لاشہ خاصا ہیبت ناک ہو گیا تھا۔ آبادی بالکل قریب تھی اور لوگ بے انتہا خوفزدہ ،لیکن جب میں نے ڈھارس دی اور بتایا، نواب صاحب خود تشریف لا کر اس درندے سے انتقام لیں گے تو ان کے چہروں پر چھائی ہوئی مرونی قدرے کم ہوئی۔(جاری ہے )

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 39 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : آدم خور