قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 91

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 91
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 91

  

مری پہنچے تو وہاں مصطفی زیدی صاحب اس کے منتظم تھے جو کہ ڈپٹی کمشنر بھی تھے۔ وہ جب انڈیا سے اپنے وطن سے آئے تھے تو ان کا نام تیغ الہ آبادی تھا اور یہ جوش صاحب کے شاگرد تھے ۔ شاعر ہونے کی حیثیت سے لاہور میں ان کا ہمارے ساتھ بھی ملنا جلنا تھا۔ وہ سینئر شاعر ہونے کی وجہ سے ہماری بہت عزت کرتے تھے اور ان کے پاس ایک کیمرہ ہوتا تھا ۔ انہوں نے سب کی تصویریں لے کر ایک البم بھی بنایا ہوا تھا۔ ایک دن میکلوڈ روڈ پر مجھے ملے تو بڑی عقیدت کا اظہار کیا۔ ادھر ادھر کی کچھ باتیں کیں اور پھر مجھے کہنے لگے کہ آئیے میرے ساتھ پکچردیکھئے ۔ ٹکٹ بھی انہوں نے لیے اور ہم نے پکچر دیکھی۔ انٹرول میں میں نے پوچھا کہ آج کل کیا کر رہے ہو۔ تو کہنے لگے کہ میں اسسٹنٹ کمشنر کی ٹریننگ لے رہا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ یہ سب کیسے ہو گیا۔ کہنے لگے کہ میں نے سی ایس پی کا امتحان دیا تھا اور اس میں کامیابی پر یہ تقرری ہوئی۔ میں نے انہیں دعائیں دیں۔ اس کے بعد بھی وہ ملتے رہے اور ہمیشہ بڑے ادب سے ملتے تھے۔ اس کے بعد ان کی شادی ایک غیر ملک خاتون بیرا سے ہو گئی ۔ بہت اچھی خاتون تھی۔ اس نے شادی کے بعد اُردو بھی سیکھی ۔ وہ اتنی ذہین عورت تھی کہ اس نے یہاں کا کلچر بھی سیکھا اور یہاں کا لباس بھی پہنا ۔ جب بھی ہم ان کے گھر جاتے تھے تو یوں نظر آتا تھا جیسے کہ وہ اپنوں ہی میں سے ہے۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 90  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس کے بعد مری میں مصطفی زیدی صاحب نے ایک مشاعرہ کروایا جس میں شرکت کیلئے میں ساحر صدیقی اور دوسرے شعراء گئے ہوئے تھے۔ توقع یہ تھی کہ جب مری جائیں گے تو مصطفی زیدی اس خلوص سے ملے گا۔ لیکن جب وہاں جا کر ملے تو پروٹوکول ان کے اور ہمارے درمیان آگیا ۔ پھر ان کے پاس وہاں پر ایک وسیع و عریض کوٹھی تھی جبکہ یہ صرف میاں بیوی ہی تھے۔ اگر یہ چاہتے تو سب شاعروں کو اپنے ساتھ ٹھہرا سکتے تھے کیونکہ ان کی کوٹھی میں کئی بیڈروم تھے۔ اس کے برعکس انہوں نے شاعروں کو جس کوٹھی میں ٹھہرایا جو بڑی غیر آباد تھی اور بعد میں پتہ چلا کہ اسے بھوتوں والی کوٹھی کہا جاتا ہے ۔ وہاں غسل خانوں میں پانی تک نہیں تھا اور اخبارات وہاں ٹائلٹ پیپر کے طور پر رکھے ہوئے تھے۔ پھر سونے کیلئے بھی عجیب قسم کی چارپائیاں تھیں۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ مصطفی زیدی صاحب نے خود نہیں کیا تھا بلکہ جن لوگوں سے انہوں نے کہا ہو گا انہی کا انتظام تھا۔ مگر اس سے ان کی عدم دلچسپی ظاہر ہوتی تھی۔لیکن تھی تو بدسلوکی۔

یہی حال کھانے کا بھی تھا۔ چنانچہ انہوں نے جن لوگوں سے کھانے کا کہا ہوا تھا انہوں نے بھی کوئی خاص توجہ نہ دی اور شاعروں کو جو کھانا کھلایا گیا وہ اتنا باسی تھا کہ مشاعرے کی رات ہی ساحر صدیقی کو FOOD POISONING ہو گئی۔ وہ مری سے لاہور کیلئے روانہ ہوا اور راستے میں پنڈی جا کر ہی اس مرض کی وجہ سے فوت ہو گیا۔

عبرت کا مقام یہ ہے کہ ساحر صدیقی نے احمد ریاض کے امدادی مشاعرے میں شرکت نہیں کی تھی لیکن اب ہمیں ان کیلئے امداد کا بندوبست کرنا پڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہم وہاں پر رؤسا سے ان کی مدد کیلئے چندہ لے رہے تھے تو سامنے سے میاں بشیر الدین آرہے تھے ۔ ان سے کہا کہ یہ واقعہ ہو گیا ہے ۔ آپ بھی اس میں کچھ مدد کریں تو انہوں نے پہلے تو تقریر کی کہ یہ طریقہ بہت غلط ہے ۔ کیونکہ شاعر کا تو بہت بلند مقام ہوتا ہے ۔ پھر کہنے لگے کہ میری نظر میں تویہ طریقہ بھیک کے ذیل میں آتا ہے ۔ اور جو شاعر مر گیا ہے ۔ اس کیلئے بھیک مت مانگئے۔ میں نے کہا کہ پھر کیا کریں۔ کہنے لگے کہ قرض لیجئے اور اپنی جیب سے پچاس روپے کا نوٹ نکال کر دیتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ پچاس روپے میری طرف سے قرض رکھئے۔ میں نے کہا اس قرض کی واپسی کا مطالبہ آپ مرنے والے سے کریں گے ہم سے۔ کہنے لگے کہ مجھے بہر حال یہ طریقہ پسند نہیں ہے اور پچاس روپے کا نوٹ چھوڑ کر چلے گئے۔ ہم نوٹ نہ رکھ سکے اور نہ لوٹا سکے۔ میرے ساتھیوں نے کہا کہ یار چپ کر کے رکھ لو۔

عزضیکہ۔ ساحر صدیقی اپنے ایک ساتھی شاعر کی وفات کے بعد ان کے امدادی مشاعرے میں نہیں گئے تھے۔ اور ان کی وفات سے چند گھنٹے قبل میں ان کے ساتھ یہی باتیں کر رہا تھاکہ وہ خود بھی فوت ہو گئے۔ اور اب ساحر کی امداد کیلئے ہمیں یہ سب چندہ اکٹھا کرنا پڑ رہا تھا۔ اگر انسان محسوس کرے تو جگہ جگہ عبرت کے مقام موجود ہیں۔

مری کے مشاعرے کے بعد ہماری ملاقات مصطفی زیدی سے جہلم کے مشاعرے میں ہوئی۔ یہ ان دنوں جہلم کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ اس مشاعرے میں حفیظ جالندھری ، صوفی تبسم ، احمد ندیم قاسمی، احسان دانش اور دوسرے سینئر شعراء کے علاوہ نوجوانوں میں سے ہم لوگ جو پاکستان کی کریم تھے شریک ہوئے۔ اس بار وہاں پر مشاعرے میں قیام و طعام کا مناسب انتظام تھا کیونکہ وہاں کچھ باذوق لوگ بھی موجود تھے۔ مصطفی زیدی وہاں موجود نہیں تھے۔ اچانک پتہ چلا کہ ڈی سی صاحب تشریف لا رہے ہیں آپ لوگ اس ہال میں موجود رہیں ۔ چنانچہ ہمیں ایک قطار میں کھڑا کر دیا گیا۔ ہم تو مصطفی زیدی کا انتظار کر رہے تھے لیکن جب دیکھا تو وہ ڈی سی صاحب نکلے۔ اور وہ ایک بیورو کریٹ کے مخصوص انداز میں سرہلا کر خیریت دریافت کرتے ہوئے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچے۔ سب نے محسوس کیا کہ انہوں نے ٹھیک طرح سلام نہیں لیا۔

اس سے پہلے مری میں جب ساحر صدیقی غلط خوراک کی وجہ سے فوت ہوگیا تھا تو اس وقت سے سب لوگ ان سے جلے ہوئے تھے کیونکہ انہوں نے غلط جگہ ٹھہرایا تھااور کھانا بھی ٹھیک نہیں دیا تھا اور جب ساحر صدیقی فوت ہو گیا تو سب شاعروں نے اس کی وفات پر زیدی کے بارے میں مل کر ایک نظم کہی تھی جس میں سب نے چندے میں شعر کہے تھے۔ جواب بھی اظہار ناراضگی کے طور پر ریکارڈ پر موجود ہے۔

چنانچہ جب یہاں جہلم میں بھی انہوں نے ایسا ہی سلوک کیا تو اکثر شعراء ان سے ناراض ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ اس سے راہ و رسم اب نہیں رکھنا۔ یہ شاعر تو رہا نہیں بلکہ یہ تو اب سیدھا افسر بنا گیا ہے ۔ آگے معاملہ بڑھا تو ملتان میں میرے ایک دوست کی گراموفون کمپنی کی ایجنسی ہے۔ میں اس کے پاس بیٹھا تھا تو دیکھا کہ اس کے اندر جھانکتے ہوئے مصطفی زیدی آگئے۔ میں نے بھی دیکھا تو کہنے لگے کہ ارے قتیل بھائی آپ کہاں ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کہاں۔ میں نے انہیں اندر بلایا تو کہنے لگے کہ میں لیہ میں ڈپٹی کمشنر ہوں۔ مجھے اس کا پہلے سے پتہ تھا لیکن ذہن میں تلخی تھی۔ پھر کہنے لگے کہ یہاں کیا کر رہے ہیں چلئے میرے ساتھ ۔ چل کر کہیں کھانا کھاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سے ہم بہت کھانا کھا چکے اور پہلے بھی ایک بار مری میں آپ سے کھانا کھایا تھا اور اس وقت وہاں ایک شخص ساحر صدیقی بھی موجود تھا اور اس کے ساتھ جو ہوا وہ آپ جانتے ہیں۔ کہنے لگے کہ ان باتوں کو چھوڑیئے۔ مجھے احساس ہے کہ مجھ سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں لیکن چل کر اب کھانا کھاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگرآپ پسند کریں تو کھانا یہیں ہمارے ساتھ کھائیں۔ میں نے انہیں اپنے اس دوست حبیب فاضلوی سے ملوایا جو آج کل نوائے وقت میں بہت چھوٹا سا کام کرتے ہیں۔ کہنے لگے کہ اچھا اگر آپ کی یہی خواہش ہے تو یہیں کھانا کھاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ہمارے ساتھ وہیں کھانا کھایا۔

کھانے کے بعد میں نے کہا کہ آپ کو ہو کیا گیا تھا۔ کہنے لگے کہ مجھے شرمندہ نہ کیجئے۔ اگر آپ میری جگہ ہوں اور آپ کو بھی شاعر سے ڈی سی بنا دیا جائے تو آپ بھی ایسے ہی ہو جائیں گے۔ لیکن بہر حال میں مری اور جہلم والے واقعات سے شرمندہ ہوں۔ اب آپ مجھے مزید شرمندہ نہ کریں۔ پھر کہنے لگے کہ اب میں یہاں لیہ میں مشاعرہ کروا رہا ہوں جس میں جوش صاحب کو اور باقی سب شعراء کو بھی بلوارہا ہوں او ر آپ بھی ضرور آئیے۔ میں نے کہا کہ اس مشاعرے میں اب کوئی نہیں آئے گا۔ جوش صاحب البتہ آجائیں گے کیونہ وہ آپ کے استاد ہیں۔ اس بات چیت سے انہیں حالات کا اندازہ ہو گیا ۔ چنانچہ انہوں نے جا کر فرداً فرداً سب سے معافی مانگی اور خدا کا شکر ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے اند رچھپا ہوا شاعر پھر سے باہر نکل آیا اور اس کے بعد لیہ میں جب مشاعرہ ہوا تو اس میں انہوں نے واقعی چھوٹے بھائیوں کی طرح سلوک کیا اور سب شاعروں کی خوب تواضع کی۔ یوں ان کے اندر چھپا ہوا ایک صاف ستھرا انسان اور ایک مخلص دوست ہمیں پھر سے مل گیا۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 92 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

گھنگروٹوٹ گئے -