نوآزاد ممالک کی دولت مشترکہ کے وزرائے خارجہ کا تاشقند اجلاس

نوآزاد ممالک کی دولت مشترکہ کے وزرائے خارجہ کا تاشقند اجلاس

تحریر: محمد عباس تاشقند

سوویت یونین کی وسطی ایشیا میں ایک ترقی یافتہ ریاست سوویت ازبکستان نے اپنی آزادی کے بعد چوتھائی صدی کا سفر طے کیا ہے۔ اس ریاست کی خوش قسمتی کہ ایک لمبے عرصے کے لئے اسے بطور صدر اور قومی تعمیر کے راہنما کے طور اسلام کریموف جیسی شخصیت ملی۔ انہوں نے ہر میدان میں یہ کوشش کی کہ یہ ملک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اپنا مقام حاصل کرسکے۔ تعلیم ہو یا صحت، ثقافت ہو یا مذہب، سیاست ہو یا دفاع، غیرملکی تعلقات ہوں یا اندرونی پالیسیاں، معیشت ہو یا تعمیراتی معاملات ہر مسئلے کو حل کرنے کے لئے نئی نسل کو تیار کیا گیا۔ ایک ایسی نسل کو تیار کیا گیا جو کہ محب وطن ہے اور اسلام کریموف کے قومی تعمیراتی منصوبوں اور نظریات کو آگے بڑھانے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔

مغرب میں اکثر یہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ اسلام کریموف کے بعد اس ملک میں سول وار شروع ہوجائے گی۔ یہاں انار کی کا راج ہوگا۔ خاص طور پر پچھلی چند دہائیوں میں افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کے حالات کی روشنی میں یہ دعوے کئے گئے کہ جب تک اسلام کریموف موجود ہیں صرف اس وقت تک ہی اس ملک میں امن ہے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ازبکستان کے راہنمائے اوّل نے نہ صرف نئی نسل کی تعمیر کی بلکہ اپنی سیاست، نظریات اور خیالات کے بہترین وارث بھی تیار کئے۔ ازبکستان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ جناب اسلام کریموف کی ناگہانی موت کے بعد اس ملک کو بطور صدر ایک ایسی شخصیت مل گئی جس نے ایک لمبے عرصے تک اسلام کریموف کے ساتھ بطور وزیراعظم کام کیا تھا۔ لہٰذا ہر وقت مسکرانے والی اور ہر وقت مصروف رہنے والی یہ شخصیت نہایت کامیابی سے اب ازبکستان کا نظم و نسق انتہائی سکون اور امن کے عالم میں چلارہی ہے۔ جی ہاں شوکت میر ضیائیف بطور صدر اس ملک کے تمام منصوبوں اور پالیسیوں کو انتہائی اچھے اور کامیاب طریقے سے آگے بڑھارہے ہیں۔

ازبکستان کی نئی کامیابیوں اور غیر ملکی تعلقات کی کارروائیوں میں سے ایک یہاں تاشقند میں ’’نوآزاد ممالک کی دولت مشترکہ‘‘ CIS کے وزرائے خارجہ کا اجلاس تھا جس میں آرمینیا کے وزیر خارجہ ایڈورڈنال بندیان، بیلا روس کے ولادیمیر مکئی، قزاقستان کے کیروت عبدورحمانوف، کرغیزستان کے عبدل دائیف ایرلان، رشین فیڈریشن کی سرگئی لاوروف، تاجکستان کے سراج الدین اصلوف، ازبکستان کے وزیر خارجہ عبدالعزیز کامیلوف، آذربائیجان کے نائب وزیر خارجہ خلاف خلافوف، مالداویہ کے نائب وزیر خارجہ للی یان داری، ترکمانستان کے نائب وزیر خارجہ وے پاخجائیف اور انتظامی کمیٹی کے چیئرمینس رگئی لے بیدوف نے شرکت کی۔ یہ اجلاس دو دن جاری رہا۔ تاشقند کے امیر تیمور چوک میں ازبکستان ہوٹل کے ساتھ نئی نویلی نو تعمیر سفید سنگ مرر کی عمارت ’’فورم ہال‘‘ میں مہمانوں نے سی آئی ایس ممالک کے اندرونی معاملات، باہمی و مشترکہ معاملات اور CIS کے گیارہ ممالک کے دوسری دنیا کے ساتھ معاملات وتعلقات زیر بحث لائے۔ CIS ممالک کے وزارت ہائے خارجہ کے وفود اور راہنماؤں نے مندرجہ ذیل معاملات پر تفصیل سے بحث کی۔

وفود نے تنظیم کی کارکردگی اور اس کے کردار کو پرکھا۔ عالمی سطح پر اور باہمی تعلقات میں اس کے کردار کو مزید تقویت دینے کی بات کی۔ اس کی اہمیت کو بڑھانے اور اس کے مختلف شعبوں میں کام کو بڑھانے پر بات کی گئی۔

شرکاء نے علاقائی سلامتی اور امن پر بحث کی۔ علاقے میں سلامتی کے مسائل کو زیر بحث لایا گیا۔ سلامتی اور استحکام کے مسائل سامنے لائے گئے۔ تجارت، معیشت، ثقافت اور انسانی حقوق کے معاملے میں باہمی کام کو آگے بڑھانے کی بات کی گئی۔ شرکاء کے ممالک میں حکومتوں و اداروں کے استحکام اور ترقی کی بات بھی کی گئی۔

وزراء نے 15 دستاویزات پر تفصیل سے بحث کی۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان میں 9دستاویزات مئی میں ہونے والے CIS کے وزرائے اعظم اجلاس اور اکتوبر میں CIS ممالک کے صدور کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی تاکہ ان پر مزید کام کرکے ان پر عمل کا فیصلہ کیا جائے۔ ان تمام دستاویزات میں دولت مشترکہ کے دوسری دنیا کے ساتھ تعلقات میں باہمی اتفاق اور باہمی عمل اور انسانی حقوق، ثقافت اور دوسرے شعبوں میں مشترکہ عمل کے معاملات پیش کئے گئے ہیں۔

اس معاملے پر خاص غور کیا گیا کہ ممبر ممالک اعلان کرتے ہیں کہ عیسائیوں، مسلمانوں اور دوسرے مذاہب اور نظریات کے لوگوں کے خلاف کوئی عمل برداشت نہ کیا جائے گا۔ مذہب اور نظریے کی بنیاد پر کسی بھی عیسائی یا مسلمان کی بے عزتی نہیں کی جاسکتی نہ ہی اس میں کوئی تفریق ہوگی۔ اس معاملے میں تشویش ظاہر کی گئی کہ مذہب اور نظریات کے معاملات میں کئی جگہوں اور لوگوں میں یہ عدم برداشت کا جذبہ و عمل پایا جاتا ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔ مذہب اور مذہب کے ماننے والوں کے خلاف عدم برداشت، ان کے ساتھ سختی اور تشدد برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی تفریق۔ طاقت کے استعمال، دہشتگردی کی کارروائیوں کو چاہے یہ مسلمانوں، عیسائیوں یا کسی بھی دوسرے نظریات کے خلاف ہوں ان کی مذمت کی جانی چاہیے اور ان کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ فریقین نے کہا کہ عالمی سطح پر ان معاملات کو مثبت طور پر حل کرنے کے لئے تعاون کرنے اور نزدیک آنے کی ضرورت ہے۔

اگلے ہونے والے CIS کے وزرائے اعظم کے اجلاس میں ایسی دستاویزات زیر بحث لائی جائیں گی جس میں مندرجہ ذیل نقاط پر تفصیلی بحث کی گئی ہو اور ان کے خلاف عمل میں باہمی طریقہ ہائے کاروتعاون طے کیا گیا ہو: مثلاً آمدن کو چھپانا یا دولت کو ناجائز سے جائز بنانا، کرائمز کے طریقے سے دولت بنانا، دہشتگردوں کو فنانس سے مدد کرنا، اسلحے کو پھیلانا یا اس کو پھیلانے میں مدد کرنا، نارکوٹک اشیاء کی ترسیل، یا ایسی اشیاء مہیا کرنا جو کہ انسانی صحت کی تباہی بن سکیں، فائرنگ کرنے والے اسلحے کا پھیلاؤ، دھماکے کرنے والی اشیاء اور دھماکہ خیز مواد کا پھیلاؤ، ایسے تمام معاملات کو قانون کے خلاف قرار دینا ہوگا۔

تمام ممبر ممالک میں باہمی ثقافت کو پھیلانے اور روشناس کرانے کے لئے ’’سی آئی ایس کلچر کیپیٹلز 2018ء‘‘ نامی پروگرام کو متعارف کرایا جائے گا۔ اسی طرح ممبران کے دفاعی اداروں کو فنانشل کرائمز سے نپٹنے اور ان کی تفتیش کرنے کی تربیت دی جائے گی۔

اجلاس کے آخر میں پریس کانفرنس سے CISممالک کی دولت مشترکہ کے چیئرمینس رگئی لیبیدوف، میزبان ملک ازبکستان کے وزیر خارجہ عبدالعزیز کامیلوف اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے فورم ہال کے پریس کلب میں خطاب کیا۔ وزرائے خارجہ کی موجودہ تاشقند کانفرنس پر بحث کی گئی۔ اس معاملے میں بریفنگ کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اسی وقت ہونے والی شام پر امریکی راکٹوں کی بارش کی مذمت کی۔ اسے ایک جارحانہ اور دھوکا بازی کا عمل قرار دیا اور امریکہ کے ساتھ شام کے مسئلے پر مشترکہ میمورنڈم سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ یہ واضح کیا گیا کہ اس امریکی جارحیت سے شام کا مسئلہ مزید گھمبیر ہوجائے گا اور اس سے شام میں دہشتگردوں کو مزید تقویت ملے گی۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ بلا کسی تحقیق کے حکومت شام پر الزام لگا کر کسی کو جارحیت کا حق مل جائے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...