عوامی احتجاج کی غلط سمت

عوامی احتجاج کی غلط سمت

  



 اس میںکوئی شک نہیں کہ ہم پر ہر وقت احتجاجی موڈ طاری رہتا ہے اور اب یہ ہمارا طرّہِ امتیاز بھی بن چکا ہے، مگر اکثر اوقات ا س کا مدعا ایسے معاملات ہوتے ہیں،جن کا کوئی نتیجہ برآمد نہیںہو سکتا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بطور قوم سر سے پاﺅںتک سیاست میں غرق ہیں اور بہت سے غیر سیاسی مسائل کو بھی سیاست کی عینک سے ہی دیکھتے ہیں۔ ہر پاکستانی مرد ، عورت ، حتیٰ کہ بچے بھی میدان ِ سیاست کے ماہرین کہلا سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ عرب دنیا میں اُٹھنے والی بیداری کی لہر کے پاکستان میں بھی منتظر ہیں ،لیکن خاطر جمع رکھیں، وہ اس طرف نہیں ا ٓرہی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں مستقل مزاجی کی کمی ہے۔ کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ عوام نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ سکوائر کا محاصرہ کر لیا ہو اور یہ کئی ہفتوںتک طویل ہو ؟ نہیں، ہمارے ہاں ایسا نہیںہوتا ہے۔ ہماری موجودہ تاریخ کا سب سے اہم واقعہ، جس میں عوامی طاقت نظر آئی، چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری کی بحالی تھی۔

 آج بھی ملک کے طول وعرض میں مختلف وجوہات کی بنا پر احتجاج جاری ہے، مگر یہ کھوکھلا اور بے سمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور اُن کے رفقاءشاید کبھی کبھار لوڈ شیڈنگ کو میٹنگز میں زیر ِ بحث لاتے ہوں، مگر اس پر ہونے والے عوامی احتجاج کو خاطر میں نہیں لاتے اور نہ ہی اسے کوئی سنجیدہ معاملہ سمجھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ دل ہی دل میں ان احتجاج نما مظاہروں کے بودے پن پر ہنستے ہوں۔ اگر اس ضمن میںکوئی چیز ہمارے لئے وجہ ِ تسلی ہے تو وہ یہ ہے کہ بھارت میں بھی یہی معاملہ ہے۔ جب برقی رو میں تعطلی واقع ہوئی تو نصف بلین آبادی اندھیروں میں ڈوب گئی اور ”چمکدار انڈیا سیاہ انڈیا “ میں تبدیل ہو گیا۔ اتنے وسیع پیمانے پر گرڈ اسٹیشنز کی بندش یقینا حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ اس وقت ستم ظریفی کا تصور کرنے کے لئے فرض کریں کہ جب ٹائی ٹینک برفانی تودے سے ٹکرا چکا ہو اُس وقت جہاز کا کپتان اپنے چیف ملاح کو انعامی میڈل سے نوازے۔ بھارت میں وہ ”چیف ملاح“ وزیر ِ توانائی مسٹر سوشیل کمار شیندھ تھے جن کو اُس ”یوم ِ سیاہ “ پر ترقی دے کر ہوم منسٹر بنا دیا گیا۔ اندھیرے میں ڈوبے کروڑوں افراد اس ترقی پر ششدر رہ گئے ہوںگے۔

کیا جنوبی ایشیا کے لوگ اتنے ہی بے زبان ہیںکہ ان کے حکمران ان سے اس طرح کے سنگین مذاق کرتے رہیں ؟یہاں حکمرانوں کے کالے کرتوت منظر ِ عام پر آتے رہتے ہیں مگر پھر بھی وہ بڑی ڈھٹائی سے مسند ِ اقتدار پر براجمان رہتے ہیں۔ ہلدا راجہ(Hilda Raja) نے بھارت کی سابقہ صدر پراتھیبا پٹیل (Prathiba Patel)پر ایک کھلے خط میں الزامات لگائے ۔ عوام میں اس خط کو ، جو اُس خاتون صدر اور اُس کے اہل ِ خانہ کی طرف سے کی گئی بدعنوانی کو منظر ِ عام پر لایا،بے حدپذیرائی ملی۔ ایک بھارتی سیاسی مبصر لکھتا ہے....”کتنے افسوس کی بات ہے!نہرو خاندان کی ایک ملازمہ بھارت کی صدر بن کراپنے بچوں، پوتوں ، نواسوں، رشتے داروں، ملازموں، باورچیوں، مالیوں ، ہمسایوں وغیرہ کو ساتھ لے کر غیر ملکی دوروں پر 200 کروڑ اُڑا دیتی ہے ۔ ان میں ایسے ممالک کے دورے بھی شامل ہیں، جن کا کسی نے نام تک نہیں سنا.... اس کے علاوہ اس نے وہ زمین بھی ہتھیا لی جو جنگ میں ہلاک ہوجانے والے افراد کی بیواﺅں کے لئے مخصوص تھی.... اے بھگوان! انڈیا کس گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے“؟

پاکستان میں بجلی ، گیس اور پانی کی شدید قلت ہے۔ وزیر ِ برقیات ہمارے گھروں میں بجلی پہنچانے کے ذمہ دار ہیں، تاہم اس میںناکامی پر ہم نے بھارت سے بھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ، ان کو وزارت ِ عظمیٰ سے سرفراز کیا۔ اب وہ بڑی شان سے مارگلہ کی پہاڑیوںکے درمیان بنے ایک عالیشان محل میں جلوہ افروز ہیں.... ملک چاہے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے.... ان کے سنگ ِ مرمر کے دیوان خانے بیش قیمت فانوسوں سے جگمگا رہے ہیں، جبکہ کولنگ سسٹم ایک لمحے کے لئے بھی ”سکون “ کا سانس نہیں لیتا۔ اب راجہ صاحب کے مائع لگے لباس پر ایک شکن بھی ہویدا نہیں ہے اور نہ ہی جناب کی پیشانی کبھی عرق آلود ہوتی ہے۔ اب اُن کا لہجہ بھی تبدیل ہو رہا ہے.... اور یہ اس عمارت کے مکینوں کا خاصا ہے۔ اس بہشت ِ ارضی کی زندگی پاکستانیوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہے۔ راجہ صاحب دن میںکئی مرتبہ خود کو چٹکی کاٹ کر (زور سے) محسوس کرتے ہوںکہ ”یہ خوابناک زندگی کہیں خواب تو نہیں“؟اس کے درست جواب کے لئے وزیراعظم صاحب ذرا گردن گما کر ٹی وی سکرین کو دیکھیں تو عوام کے چہرے پر نقش مایوسی دیکھ کر ان کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔بھارت میں تو پاور ہاوسز کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر پاکستان میں پیدا ہونے والے میگاواٹس کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

 اب اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے ؟کیا گلیوں میں جمع ہو کر قریب سے گزرنے والی کاروں پر پتھر پھینکنے سے بجلی آ جائے گی؟ کیا ٹائر جلانے سے میگاواٹ بنتے ہیں؟ سرکاری املاک کو نقصان پہنچا کر کون سا مسئلہ حل ہوتا ہے؟ احتجاج اور پھر پولیس کا لاٹھی چارج اور پھر مزید احتجاج.... یہ سب سعی ¿ لا حاصل ہے ۔ آج کی اکیسویں صدی میں مسائل اس طرح حل نہیںہوتے۔ بہت سے لوگ یہ بھی سوچتے ہیںکہ یہ احتجاجی سیاست ان جماعتوں کا ہتھکنڈہ ہے جو عوام میں اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاﺅںماررہی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ احتجاج کرنے والے ”عوام“ نہیں، بلکہ کرائے کے لوگ ہیں جو دیہاڑی لگانے کے لئے پتھراﺅ وغیرہ کرکے غائب ہو جاتے ہیں .... اور یہ لوگ ٹائر جلانے اور پولیس کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ہر جگہ ایسا نہ ہو، مگر اس امکان کو کلی طور پر رد بھی نہیںکیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ ہم یہ بھی جانتے ہیںکہ بہت سی سیاسی جماعتیں ایسے لڑائی مارکٹائی کرنے والے گروہوں کی خدمات بھی رکھتی ہیں۔ یہ لوگ ”احتجاج“ کے دوران زخمی بھی ہو جاتے ہیں اور پولیس کے ہتھے بھی چڑھ جاتے ہیں،مگر پھر کیا ہوتا ہے، ہم نہیںجانتے.... ہمارے ہاں سیاست میں سب چلتا ہے۔

احتجاجی نچلی سطح سے شروع ہونا چاہیے اور پھر اس کا دائرہ اوپر تک پھیلتا چلا جائے۔ اور یہ ایسے معاملات پر ہونا چاہئے، جو اجتماعی طور پر معاشرے کی آزادی ، حقوق اور تحفظ کو متاثرکرتے ہیں۔ عوام تشدد کے بغیر بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کر ا سکتے ہیں ۔ اس ضمن میں سوشل میڈیا کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور پاکستانیوںنے ابھی اس کا مو¿ثر استعمال نہیں سیکھا۔ مغرب ، بلکہ عرب دنیا میںبھی، ہونے والے احتجاج میں سوشل میڈیا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انٹر نیٹ اور موبائل فون پر پیغام رسانی کے ذریعے لاکھوں افراد کو کسی مقصد کے لئے تحریک دی جاسکتی ہے۔ سائبر سپیس میں پیغامات نہایت برق رفتاری سے پھیلتے ہیں۔

 اس کے علاوہ احتجاج منظم طریقے سے تہذیب کے دائرے کے اندر رہ کر کیا جانا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے جمع ہونے والے افراد کا فکری ارتکاز ایک نکتے پر ہو، کیونکہ انتشار احتجاج کی فضا کو کمزور کر دیتا ہے۔ اگر پاکستان میں سوشل میڈیا مو¿ثر طریقے سے استعمال کیا جاتا تو حکومت لوڈ شیڈنگ، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے، مگر نامناسب طریقے سے احتجاج کرکے حکومت کو دباﺅ سے آزاد کر دیا گیا ہے، کے مسئلے کو اتنی آسانی سے نظر انداز نہیںکر سکتی تھی۔ سوشل میڈیا کے علاوہ جاندار سوچ رکھنے والے غیر سیاسی افراد کی بھی ضرورت ہے جو احتجاج کی فکری رہنمائی کر سکیں تاکہ یہ سیاست کی نذر نہ ہونے پائے۔ شہری بڑی تعداد میں جمع ہوکر پُرامن طریقے سے حکومت پر دباﺅ بڑھا سکتے ہیں۔ کیا پاکستان میں ایسے افراد کبھی جنم نہیں لیںگے.... فی الحال تو نہیں ہیں .... جو سیاسی وابستگیوںسے بالاتر ہوکر مفاد ِ عامہ کے لئے کھڑے ہوسکیں؟

 بجلی کا بحران، اگرچہ پرویز مشرف دور کی ”باقیات“ تھا، آصف علی زرداری کی حکومت کے بدعنوان سیاست دانوں اور افسروں نے اسے سنگین کر دیا۔ انہوں نے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوںسے بھاری کمیشن کے مطالبات کرنا شروع کر دیئے۔ سرمایہ کاری کرنے والے ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ کیا سپریم کورٹ کو اس معاملے پر ازخود کارروائی نہیں کرنی چاہئے تھی؟ جب ہم دیگر معاملات میں عدالتی فعالیت دیکھتے ہیں تو فاضل جج صاحبان کو اس کیس کو بھی ہاتھ میں لینا چاہئے تھا، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے عدالت کی تمام توانائی صدر آصف علی زرداری صاحب کے سوئس کیس کھولنے کے لئے خط لکھوانے میں صرف ہورہی ہے .... اور یہ معاملہ ہنوز بے نتیجہ ہے۔ عدالت جانتی تھی کہ صدر کو استثنا حاصل ہوتا ہے، مگر اس نے پھر بھی خودکو اس معاملے میں الجھائے رکھا۔ تا ریخ کے اوراق اس بات کی گواہی دیںگے کس طرح اس ملک کو ارباب ِ اقتدار .... ایگزیکٹو، اراکین ِ پارلیمنٹ، سول و فوجی افسران ....نے لوٹا، جبکہ عدلیہ بے کار سیاسی معاملات میں اپنا وقت ضائع کرتی رہی۔

مزید : کالم