مشکیزہ۔دوشیزہ اور ادبی جلسے

مشکیزہ۔دوشیزہ اور ادبی جلسے
مشکیزہ۔دوشیزہ اور ادبی جلسے

  

مشکیزہ چھوٹی مشک کو کہتے ہیں اسے سمجھنے کے لئے چمڑے کی ایک بڑی بوتل بھی کہا جا سکتا ہے جس میں پانی بھرتے ہیں کوئی تیس چالیس سال پہلے تک مشک کا استعمال کیا جاتا رہا ماشکی اس میں پانی بھر کر لاتے اور گلیوں بازاروں میں اس سے چھڑکاؤ کرتے جیسے سٹوڈنٹس اپنے سکول بیگ کو دونوں بازؤوں میں ڈال کر کندھوں تک لے جاتے ہیں اور بیگ اٹھا کر آسانی سے سکول کی طرف گامزن ہوتے ہیں ایسے ہی ماشکی مشک کو کندھوں میں پچھلی جانب اٹھا کر اس سے پانی کی فراہمی کا کام لیتے جیسے آج کسی بھی شہر کی میونسپل کمیٹی شہر میں پانی کے چھڑکاؤ کے لئے گاڑی کا استعمال کرتی ہے ایسے ہی جب ابھی ہمارے پاس سہولتوں کا فقدان تھا ’اگرچہ اب بھی ہے‘ تو شہروں کے بازاروں۔ مارکیٹوں اور گلیوں میں پانی کا چھڑکاؤ یا گھروں میں پانی کی فراہمی کے لئے مشک کاا ستعمال کیا جاتا اور اس کام کے لئے ماشکی ہوتا تھاوہ ماشکی تو اب رہے نہیں البتہ ان دنوں ادبی ماشکی کثرت سے سامنے آرہے ہیں جو زیادہ تر دوشیزاؤں کی ادبی طبیعت کو سیراب اور انکی کشت سخن کو ادب کا پانی دے کر اسے سرسبز و شاداب بنانے کی سعی ناکام کرتے ہیں تاکہ دوشیزاؤں کا التفات حاصل کیا جا سکے اس میں ادبی ماشکیوں کی بھی کیا خطا بقول مومنؔ   ؎   

میں اپنی چشم شوق کو الزام خاک دوں 

 انکی نگا ہِ شرم سے کیا کچھ عیاں نہیں 

دوشیزاؤں کو بھی اور کیا چاہئے بیٹھے بٹھائے جیسا تیسا کلام انکے حضور پیش کر دیا جاتا ہے جس میں نہ تخیل کی اڑان نہ غزل کے رنگ و آہنگ نہ داخلی دنیاؤں میں گم ہونے کا سراغ نہ خارجیت کے مشاہدات کا علم نہ اس کلام کے پیچھے خلاق ذہن ہے نہ بیدار مغز نہ ہی فنی بصیرت کہ جو ادب میں ایسے جواہر ریزے نکال لائے کہ جس سے ادب کو سنوارا اور نکھارا جا سکے نہ ہی ادب کی تابناکی سے کچھ لگاؤ نہ ہی مضمون آفرینی، نہ جمالیات کا علم نہ ہی زبانوں کے برملا استعمال کا پتہ، نشاطیہ رجحان کسے کہتے ہیں اداس لمحوں میں آہیں کیسے بھرتے  ہیں، اس سے ان دوشیزاؤں اور ادبی ماشکیوں کو کوئی دلچسپی ہی نہیں شاعری میں استعاروں، علامتوں اور تشبیہات سے کیسے کام لیا جاتا ہے اور تشبیہہ میں ندرت،جدت کیسے لائی جاتی ہے اس سے کچھ واسطہ نہیں، شاعری میں معاملات مہر و محبت اور واردات عشق کو کیسے بیان کرنا ہے یا ہجر و فراق کے صدمات کو شعری گداز تک کیسے لانا ہے یہ دوشیزائیں اورادبی ماشکی ان جھنجٹوں میں نہیں پڑتے زبان کی سلاست،شگفتگی اورشعری روانی کیلئے ترنم کی لہریں کیسے پیدا کی جاتی ہیں، ان دوشیزاؤں کی بلا سے فارسی تراکیب فلسفیانہ موشگافیاں اور تابندہ خیالی کیا ہے، لسانی تجربات کیسے کئے جاتے ہیں،انہیں اس کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ ادبی ماشکی ادب کی اس تعلیم اور ادب کے اس وقار اور معیار سے دور ہی رہتے ہیں،یہ ادبی ماشکی شعر کہنے کی ایسی صلاحیت بھی نہیں رکھتے یہ کسی فنی تردد کو ناگزیر نہیں سمجھتے،

بس قافیہ پیمائی ہو نی چاہئے یہ ادبی ماشکی خود کوعلم عروض کے ولئیِ کامل بھی سمجھتے ہیں اور اس کے لئے یہ کسی استاد کامل سے فیضاب نہیں ہوئے ہوتے نہ ہی اساتذہ کی کتابوں سے کسب فیض حاصل کیا ہوتا ہے، بلکہ ’بابا جی گوگل سرکار‘ سے رہنمائی پاتے ہیں حالانکہ گوگل میں بھی ایسے ہی خود ساختہ نام نہاد اساتذہ اپنی چیزیں اپ لوڈ کردیتے ہیں، جسے پڑھنے والے مستند سمجھ لیتے ہیں،دوشیزائیں واٹس ایپ گروپ بناتی ہیں اوراس میں سینکڑوں افراد شامل کر لیتی ہیں اور ہر فرد یہی سمجھتا ہے کہ اس گروپ کی ملت کے مقدر کا ستارہ وہی ہے کہ اسے ایک دوشیزہ نے اپنے گروپ میں شامل کیا ہے بس وہ اسی پر اتراتا جاتا ہے اور دوشیزاؤں کو دوسروں سے لکھوائی ہوئی شاعری پر داد کے خوب نذرانے بھیجتے ہیں اور نئی طرز کے یہ شاعر اسی کو شاعری کی معراج سے تعبیر کرتے ہیں یہ گروپ ادب کے فروغ یا ادبی خدمت کے لئے نہیں بنائے جاتے بلکہ یہ انجمن ستائش باہمی ہیں یعنی’میں نے تجھے چن لیا تو بھی مجھے چن‘ کہ ایک نے دوسرے کی پوسٹ پر ’واہ‘ لکھ دیا تو دوسرے پر بھی لازم ہوگیا کہ اسکی پوسٹ پر ’بہت خوب‘ ضرور لکھے بصورت دیگر آئندہ توقع نہ رکھے کہ اسے بھی گروپ میں چاہا اور سراہا جائے گا،یہ ادبی ماشکی ہر شہر قصبات اور دیہات میں پائے جاتے ہیں بلکہ ہر گلی اور ہر تیسرے گھر میں ان کا ظہور ہوتا ہے، یہ ادبی ماشکی دوشیزاؤں کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے آن لائن مشاعروں میں حاضر ہوتے ہیں، بلکہ اب تو عالمی آن لائن مشاعرے شروع ہوگئے پہلے ہم عالمی جنگوں کا سنتے تھے اب عالمی مشاعرے وہ بھی آن لائن۔ یہ ماشکی اور دوشیزائیں سستی شہرت کیلئے فیس بک اور واٹس ایپ پر مشاعروں کے کلپس بھی بھیجتے ہیں پھر انکے پاؤں زمیں پر نہیں لگتے صرف اسی پر موقوف نہیں ایسی ادبی تنظیمیں بھی بن جاتی ہیں، جو شعراء شاعرات کو انکی’غیرادبیِ‘ خدمات کے اعتراف میں اسناد ڈیزائن کروا کر واٹس کردیتی ہیں اور شعرا ء کرام ان اسناد کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے پھولے نہیں سماتے حالانکہ وہ اسناد کسی تحصیل، ضلع میں کسی ایک دو تین کو نہیں بلکہ درجنوں شاعروں میں تقسیم کی جاتی ہیں، خیر ہم بھی ادب میں ایسے کوئی تیس مارخاں نہیں لیکن ہم اساتذہ کے روبرو زانوائے ادب تہہ کرتے! صا حبوہمیں شاعر ہونے کا دعوی نہیں اور ہنوز ہمیں شعر کہنے کاہنر بھی نہیں آیا تاہم اساتذہ کی خدمت کا اتنا فیض تو ضرور ہے کہ شعر گوئی نہ سہی کچھ نہ کچھ سخن فہم تو ہوئے اور جب ان ادبی ماشکیوں کے ادبی کرتب دیکھتے ہیں تو ادب کی بے توقیری پر ملال ہوتا ہے 

قارئین مکرم! ایک بار ہمیں اپنی ایک غزل کے شعر کے ایک لفظ کے مفہوم میں ابہام محسوس ہوا ہم نکلے سیدھے اسلام آباد ڈاکٹر انعام الحق جاوید صاحب کے پاس جا کر دم لیا ان سے اس بابت دریافت کیا انہوں نے رہنمائی فرمائی وہاں سے نکلے لاہور جناب ڈاکٹر اجمل نیازی کے دولت کدہ پر پہنچے ان سے عرض حال کیا تو انہوں نے بھی اسے درست قرار دیتے فرمایا کہ ادب کوآب ِ رواں کی طرح ہونا چاہئے حالانکہ ایسا بھی کیا تھا غزل سے اس شعر کو ہی نکال باہر کرتے لیکن علم کا حصول مقصود تھا ادب شناسی کی تمنا تھی، استاد کہلوانے کا شوق نہیں تھااور اب تو ہر واٹس ایپ گروپ اور فیس بک پر استاد بآسانی دستیاب ہیں ویسے ابھی ان استادوں نے فیس بک پر اشتہار نہیں لگا یا کہ کسی کو استاد کی ضرورت ہو تو ہم حاضر ہیں، حالانکہ وہ استاد نہیں بلکہ’بڑے استاد ہوتے ہیں‘ جو ہر جگہ اپنی استادی دکھا جاتے ہیں اور جو صرف اپنی لچھے دار باتوں سے دوسروں کو الجھائے رکھتے ہیں۔

کوئی بیس بائیس سال قبل ایک غیر ملکی مشاعرے پر احمد فراز کے ساتھ ایک روز ناشتے کی میز پر ادب پر بات چیت ہورہی تھی پاکستان تحریک انصاف پنجاب حکومت کے ترجمان انجنئیرافتخار چوہدری صاحب بڑے یار اور دلدار آدمی ہیں اور بڑے سخن فہم بھی انہوں نے احمد فراز سے کہا کہ جناب ہمارے دوست کو سنئے احمد فراز نے اجازت مرحمت فرمائی انجنئیر افتخار چوہدری صاحب نے مجھے فرمایا کہ ندیم وہ غزل سناؤ

  ؎ ڈھونڈتا ہوں میں وہی پھول کتابوں والے‘ ہم نے جناب انجنئیرافتخار چوہدری صاحب کے حکم کی تعمیل کرتے احمد فراز کو غزل سنانے کی عزت حاصل کی جسے نہ صرف احمد فراز نے چاہا بلکہ داد و تحسین سے نوازا قارئین مکر م!ہم تو اس ایک ادبی عزت کو بھی سرمایہ ادب اورزندگی کے ادبی سفر کا حاصل سمجھتے ہیں لیکن اب کے جو ادب کی پامالی ہے یہ ادب کے مستقبل کے لئے زہر قاتل ہے اگر اسی طرح ان دوشیزاؤں اور ادبی ماشکیوں کا چلن رہا تو ادب کیا نمو پائے گا ؟اگرچہ خالص ادب تخلیق ہوتا رہے گا،لیکن ایسی صورتحال میں اس خالص ادب کی جگہ ادبی ماشکیوں اور دوشیزاؤں کی جعلسازی کو زیادہ پذیرائی ملے گی، کیونکہ اب ادب کے ساتھ مشاعروں کا چلن بھی بدل گیا ہے،

اب مشاعروں کی جگہ’ادبی جلسے‘ ہونے لگے ہیں جن میں سخن شناس شامل نہیں ہوتے بلکہ تماشائی ہوتے ہیں، ان ’ادبی جلسوں‘ میں دوشیزائیں اور ادبی ماشکی ابھی پورا شعر بھی نہیں پڑھتے کہ تماشائی واہ واہ کی گردان اونچی اونچی آوازوں میں پڑھنے لگتے ہیں، ان ’ادبی جلسوں‘ سے ادبی فضا میں جو حبس اور گھٹن ہے اس کا کیا کیجئے؟پروین شاکر اور احمد فراز تک تو ادب کے فروغ کے لئے مشاعروں کا انعقاد ہوتا رہا ہے جس میں حقیقی شعراء کرام سننے کو ملتے رہے لیکن اب تو انکی جگہ شاعری لکھوانے والے اور لکھوانے والیوں نے لے لی پھرایک المیہ یہ بھی ہے کہ معروف اور واقعی شعر کہنے والے شعراء حضرات ان دوشیزاؤں کو انکے نام سے شاعری لکھ لکھ کر دئیے جاتے ہیں، انہیں مشاعروں میں مدعو کرتے ہیں متعارف کراتے ہیں جس سے نقصان ادب کا ہورہاہے ہمارے ایک نفیس دوست کی کتاب کی رونمائی کی تقریب گورنر ہاؤس میں رکھی گئی ہمیں بھی مدعو کیا گیا جب ہم نے وہاں ایک ایسی ہی دوشیزہ کو جاتے دیکھے تو گورنر ہاؤس کے راستوں سے پلٹ آئے،حالانکہ وہاں ملک کے نامور کالم نگاراور دیگر شخصیات بھی جلوہ افروز تھیں، مجھے علمی ادبی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین صاحب نے بتایا کہ ندیم اختر صاحب غم نہ کیجئے ہم بھی وہاں سے کھسک لئے تھے،کیونکہ ہم سے بھی ادب کی یہ پسپائی نہیں دیکھی جاتی۔  

مزید :

رائے -کالم -