بدیسی حکمران برصغیر کی اجنبی آبادی کو خوفزدہ رکھنے کیلئے نت نئی وحشیانہ سزائیں ایجاد کرتے تھے

بدیسی حکمران برصغیر کی اجنبی آبادی کو خوفزدہ رکھنے کیلئے نت نئی وحشیانہ ...
بدیسی حکمران برصغیر کی اجنبی آبادی کو خوفزدہ رکھنے کیلئے نت نئی وحشیانہ سزائیں ایجاد کرتے تھے

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:18 

برصغیر پر قابض ہونے والے وسط ایشیائی حکمرانوں کے دربار میں وراثتی جھگڑے نمٹانے کی خاطر برادر کشی ایک معمول کی کارروائی تھی۔ محمد شاہ والیے جونپور نے اپنے بھائی حسن خان کو قید میں قتل کروایا، ابراہیم لودھی نے ایک بھائی جلال خان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ باقی تمام بھائیوں کو عمر بھر کےلئے مقید کر دیا۔ اورنگ زیب کے بعد تو یہ وباءایسی پھیلی کہ الامان والحفیظ تخت کے ممکنہ وارثوں کو اندھا کروانے کی غیر اسلامی رسم بھی وسط ایشیائی حملہ آوروں اور حکمرانوں میں موجود تھی۔ یہ بھی خالص ترک، ایرانی اور افغان رواج کا حصہ تھا۔ اندھا ہو جانے کے نتیجے میں متعلقہ شخص بادشاہت کی ذمہ داریاں پورا کرنے کے ناقابل ہو جاتا تھا جن میں پیش پیش جنگوں میں فوجوں کی قیادت ہوتی تھی۔ وسط ایشیائی حکمران منصور بن نوح سامانی کو جب اس کے بھائی ابوالفارس عبدالملک بن نوح نے تخت سے اتارا تو پہلا کام یہ کیا کہ اس کی آنکھوں میں سلائی پھروائی۔ نادر شاہ کو اپنے بیٹے رضا قلی خان سے بغاوت کا خطرہ لاحق ہوا تو اس نے بیٹے کو اندھا کروا دیا۔ پھر نادر شاہ کا بھانجا عادل شاہ برسراقتدار آیا تو اس نے ماموں کے سارے کنبے کو سوائے شاہ رخ کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ عادل شاہ کو اس کے بھائی ابراہیم نے تخت سے اتار کر اندھا کروایا۔ پھر جب شاہ رخ کو مرزا سید محمد متولی مزار امام رضا نے شکست دی تو اسے آنکھوں سے بھی محروم کر دیا۔ شاہ رخ کا نگران یوسف علی بنا تو اسے کرد کمانڈر جعفر خان نے شکست دی اور پھر اس کی آنکھوں میں سلائی پھروا دی اس جعفر خان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو اب تک ہوتا چلا آ رہا تھا۔ ا س کے ساتھی سردار میر عالم خان نے جب اسے گرفتار کیا تو اس کی بھی آنکھیں نکلوا دیں۔ خاندان ابدالی کے آخری افغان بادشاہ شاہ محمود نے پہلے اپنے بھائی زمان شاہ کو تخت سے اتار کر اندھا کیا اور بارکزئی وزیر فتح خان کو بصارت سے محروم کیا۔ اس کے بعد اس نے بازکزئی کو اس طرح قتل کرایا کہ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئے اور لاش کو بوری میں باندھ دیا گیا۔ 

یو۔ پی کے شہر نجیب آباد کے بانی غلام قادر روہیلہ نے مغل شہنشاہ، شاہ عالم (1709-1806) کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ جس پر اقبال نے یہ شکوہ کیا ہے کہ اس نے 

”نکالی شاہ تیموری کی آنکھیں نوک خنجر سے“

لیکن شاہ تیموری نے جو حشر غلام قادر روہیلہ کا کیا تھا وہ بھی خالص وسط ایشیائی ثقافت کا نمونہ تھا۔ جب یہ افغان زادہ عالم شباب میں گرفتار ہو کر شاہ عالم کے سامنے لایا گیا تو اس کے باپ ضابطہ خان کو ذلیل کرنے کےلئے اسے زنانہ لباس پہنا کر شہنشاہ کے حضور پیش کیا گیا۔ اور بعد میں اسے خصی کرا دیا گیا (تفصیلات کےلئے ملاحظہ ہو اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور)

تہذیبی اور ثقافتی عروج کے زمانے میں وحشیانہ سزائیں دیتے وقت حفظ مراتب کا خیال رکھا جاتا تھا تاکہ عوام الناس پر شاہی دبدبہ قائم ہو۔ ترکی کے سلاطین جس طرح سے بھائیوں کو کمان کی زہ سے پھانسی دیتے تھے اور مغل دور کے زمانہ عروج میں جس طرح آنکھوں میں سلائی پھیری جاتی تھی اس کا تذکرہ اوپر آچکا ہے جب برصغیر میں اورنگ زیب کے بعد انحطاط کا دور شروع ہوا تو کیفر کردار تک پہنچانے کا طریقہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ دور انحطاط میں مغل بادشاہوں نے عزیزوں اور رشتہ داروں کو کمان کی زہ کے بجائے تسمے سے سزائے موت دینی شروع کی۔ مغل بادشاہ جہاں دار جب گرفتار ہوا تو فرخ سیر نے اسے تسمہ کشی کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا۔ بعد میں خود فرخ سیر کو بادشاہ گر سید برادران نے قید کر کے جب اندھا کرنا چاہا تو تہذیبی رکھ رکھاﺅ کو برطرف کرتے ہوئے آنکھوں میں سلائی پھیرنے کی بجائے اس کام کےلئے لوہے کی گرم سلاخیں استعمال کیں۔

وسط ایشیائی ثقافت میں خونخواری کس قدر نمایاں تھی اس کی ایک شکل علاﺅ الدین جہاں سوز کے واقعہ میں اوپر آچکی ہے اس خون آشام ذہنیت کا اظہار ان سزاﺅں کی شکل میں بھی ہوتا ہے جو بدیسی حکمران برصغیر میں عام لوگوں کو دیتے تھے۔ جرم کی سزا محض قتل نہ تھی بلکہ اذیت ناک قتل تھی۔ ان سزاﺅں کا مقصد مقامی اجنبی آبادی کو جن میں بدیسی لوگ آٹے میں نمک کے برابر تھے خوفزدہ کرکے اطاعت پر مجبور کرنا تھا۔ ان دہشت ناک سزاﺅں میں جن کا تذکرہ لوک کہانیوں، ادب اور تاریخ میں ملتا ہے زندہ لوگوں کو کتوں کے آگے ڈالنا، ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھانسی پر چڑھانا، جسم میں میخیں ٹھونک کر مارنا، زن و بچہ کو لہو میں پلوانا اور زندہ دفن کر دینا شامل ہیں۔روایت کے مطابق انارکلی کو شہزادہ سلیم سے محبت کی بنا ءپر زندہ گاڑ دیا گیا تھا جبکہ شہزادہ بالکل عافیت سے رہا۔ سکھ مذہبی رہنما گورو گوبند سنگھ کے 2 نو عمر بیٹوں، فتح سنگھ اور زور آور سنگھ کے ساتھ اورنگ زیب عالمگیر کے گورنر نے یہی کیا۔ ان دونوں معصوم بچوں کو سرھند کے شہر میں زندہ دیوار میں چنوا دیا گیا۔ 

وسط ایشیائی ذہن نت نئی وحشیانہ سزائیں ایجاد کرتا تھا۔ جہانگیر کے بیٹے خسرو نے باپ کے خلاف بغاوت کی تو اس کے 2ساتھی حسن بیگ اور خواجہ عبدالرحیم خصوصی طور پر شہنشاہ کے عتاب کا نشانہ بنے۔ حسن بیگ کو گائے کی کچی کھال میں اور خواجہ عبدالرحیم کو گدھے کی کچی کھال میں لپیٹ کر اسے سی دیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ آہستہ آہستہ جب کھال سوکھے تو یہ طویل عرصہ تک اذیت میں مبتلا رہ کر چیختے چلاتے ہوئے موت سے ہمکنار ہوں تاکہ دیکھنے والے عبرت پکڑیں۔ 

وسط ایشیائی حکمران حرب و ضرب کے موقعہ پر بھی اسلامی تعلیمات کی مکمل نفی کرتے تھے۔ بیگناہ انسانوں کا قتل اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنانا، روزمرہ کی زندگی کا معمول تھا۔ لونڈی غلام بناتے ہوئے اپنے ہم مذہب لوگوں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا تھا۔ مفتوحہ آبادی کی ہرعورت لونڈی تھی اور ہر بچہ غلام۔ ترک سلطان سلیم اول نے پہلے قسطنطنیہ کے شیخ الاسلام سے یہ فتویٰ حاصل کیا کہ ایک ایرانی شیعہ کا قتل 70 عیسائیوں سے افضل ہے۔ پھر اس نے ایران کے شاہ اسماعیل صفوی پر فوج کشی کر کے اسے شکست دی۔ اور اس کی محبوب بیوی کو بجبر اپنے وزیر تاجک زادہ جعفر چلپی سے شادی کرنے کا حکم دیا۔ ظاہر ہے اسلام کی روسے ایک عورت پہلے خاوند کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کر سکتی۔ لیکن افضلیت تو حاصل تھی ترکوں کے رسم و رواج کو چنانچہ سلطان کے حکم پر عمل کیا گیا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -