”روشنی“

”روشنی“

  

کروڑوں نظریں اپنے جلو میں تحسین، آفریں، احترام اور استعجاب لیے ٹی وی کی سکرین پر مرکوز تھیں۔ اسی کا احاطہ کئے ہوئے تھیں۔ ہال میں بیٹھے لوگ بھی اپنی قسمت پر نازاں تھے کہ وہ اس کے روبرو تھے۔ وہ روسٹرم پر مینارہ نور کی طرح ایستادہ تھی۔ معصومیت، وقار، صبر اور تدبر کی کرنیں اس کے وجود سے پھوٹ رہی تھیں اور ہال میں موجود لوگوں کو اور ٹی وی کے ذریعے پوری دنیا کے ناظرین کو ان کرنوں کی پھوار نے بھگو دیا تھا۔ اس کی عظمت کے جادو نے سب پر فسوں طاری کر دیا تھا۔ یہ پاکستان کی بیٹی ملالہ یوسفزئی تھی،جو 12جولائی کو اپنی سولہویں سالگرہ کے دن اقوام متحدہ کی یوتھ اسمبلی سے خطاب کر رہی تھی۔

یا رب! یہ تیری عطا اور تیری مہربانی ہے کہ وہ دھرتی جسکا دامن دہشت گردی کی وجہ سے داغدار تھا وہاں ملالہ کا معصوم پیکر، بڑی ہمت، حوصلے اور تدبر کے ساتھ اس ملک کے زخموں کی رفوگری کر رہا تھا۔

تعلیم ہی مداوا ہے۔تعلیم سب سے پہلے !

یہ تھے وہ الفاظ جن کے ساتھ 16سالہ ملالہ یوسفزئی نے اپنی تقریر کا اختتام کیا۔ تقریر کیا تھی۔ حکمت اور تدبر کا ایک بہتا دریا تھا۔یقیناًیہ پاکستان کے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے اس کی ایک بیٹی نے دنیا کے سب سے بڑے نمائندہ فورم پر پاکستان اور اسکے باسیوں کے اصل تشخص کو اجاگر کیا۔ دنیا کے سامنے آشکار ہوا کہ اس کی ایک 16سالہ بچی کے کردار میں اتنی بلندی، عزم میں اتنی مضبوطی اور قلب میں اتنی وسعت ہے کہ وہ اپنی جان کے دشمن کو بھی معاف کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے، جس کی فکر و وسوچ میں اتنی گہرائی ہے کہ اسے ادراک ہے کہ طالبان سوچ ایک بیماری کی علامت ہے جس کا علاج محض اور محض تعلیم ہے۔ علم ہے۔ ادراک ہے۔

کہنے کو تویہ یوتھ اسمبلی کے سامنے ایک بچی کی تقریر تھی۔ مگر تقریر کرتی ہوئی یہ بچی مجھے تو ایک عالمی رہنما اور مدبر کے طور پر نظرآئی۔ اس کی تقریر میں پوری انسانیت کے دکھوں کا احساس اور ان کو دور کرنے کی خواہش کا اظہار تھا۔ دنیا کو در پیش بنیادی مسائل اور ان کے تدارک کا تیر بہدف نسخہ بھی تجویز کر دیا گیا۔ پوری اسمبلی کے سامنے جس اعتماد اور انکسار کے ساتھ یہ ننھی سی بچی کھڑی تھی اس کے جذبوں کی توانائی اس کے لہجے کی بلند آہنگی اور مضبوطی میں ڈھل گئی تھی۔ اس کی eloquenceکے سامنے Ciceroکی تاثیرگوئی بھی انگشت بدنداں نظرآتی تھی۔ اپنی تقریر میں دنیا کو درپیش بنیادی مسئلو ں کا احاطہ کرتے ہوئے اس نے علاج بھی تجویز کر دیا۔ علم اور محض علم۔

یہی وہ علاج تھا جس کی ہادی برحق نے انسانیت کو دعوت دی تھی، کیونکہ رب کائنات نے اپنے پہلے کلام میں اپنے محبوب کو تعلیم کی اہمیت آشکار کر دی تھی۔

پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔

قلم سے علم سکھایا۔

علم تو آگاہی اور عرفان کا نام ہے۔ یہ سب کچھ جاننے کا عمل ہے۔ کائنات کے سر بستہ رازوں کو کھولنے کا نام ہے۔ یہ دنیا کیسے وجود میں آئی؟ کائنات کیا ہے؟ اس کا آغاز کیا ہے؟ اس کا انجام کہاں تک ہے؟ آسمانوں میں گردش کرتے اجرام فلکی کیاہیں؟۔ وہ کیا قوت ہے جو ان کو قائم رکھے ہوئے ہے؟ موجودات عالم کی نوعیت اور ماہیت کیا ہے؟ مظاہر فطرت کی اصلیت کیا ہے؟ ان سب باتوں کا ادراک علم ہے۔ سائنس ہی کو لیجئے۔ یہ کیا ہے؟ قدرت کے رازوں کو سمجھنے کا عمل سائنس ہے۔ خدا نے سورج چاند ستارے اور سیاروں کو کیسے اپنی جگہوں پر قائم رکھا ہوا ہے؟ اللہ نے نہ نظر آنے والے ایٹموں میں کیسی ترتیب اور نظم رکھا ہے؟ جانور ہوں ، نباتات ہوں یا جمادات قدرت نے ان میں کیا کیا ضرر اور فوائد پنہاں کیے ہیں؟ ان سب کو جاننا علم ہے، یہ کیمسٹری، یہ فزکس ، یہ علم فلکیات الغرض سائنس اور آرٹس کی سب شاخیں۔ یہ کیا ہیں؟یہ کارخانہ قدرت کو سمجھنے کی ادائیں ہیں۔ یہ اللہ کا امر ہے کہ درخت کی بلندی سے سیب زمین پر ہی گرے گا،کیونکہ کائنات کے خالق نے اپنے نظام کو ایسے بنایا کہ کشش ثقل کے ذریعے زمین سب چیزوں کو اپنے مرکز کی طرف Attract کرے گی۔ اس راز کو اگر نیوٹن نے دریافت کیا ہے تو اس کا مطلب یہ کہاں ہوا کہ سائنس کا علم مسلمانوں کے لئے شجر ممنوعہ ہو گیا۔

علم اور سائنس کا مقصد تو یہ ہے کہ تمام دنیا کی مخلوقات کے لئے ایک ایسا ماحول تخلیق پا سکے جس میں سب کی بقائے باہمی ممکن ہو۔

آج سے چار پانچ سو سال پہلے امریکہ کی سرزمین پر آباد ہونے والی ابتدائی کالونیوں میں سے ایک میسا چیوسٹ میں جنرل سکول ایکٹ 1647جیسی قانون سازی کی گئی جس کے ذریعے تمام آبادیوں کو پابند بنایا گیا کہ جس آبادی میں 50گھر ہوںوہاں پر ایک استاد کا انتظام کیا جائے جو کہ بچوں کو ابتدائی تعلیم سے روشناس کروائے۔ جو آبادیاں سو گھروں پر مشتمل ہوں گی وہاں پر ایک سکول قائم کیا جائے گا۔پہلے پہل وہاں پر بھی یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ تعلیم صرف ٹیکس اداکرنیوالوں کی اولادوں کو دی جائے اور غریب بچوں کو پبلک سکولوں سے دور رکھا جائے، کیونکہ وہ سرکاری خزانے میں حصہ ڈالنے کے قابل نہ تھے،لیکن اس سوچ کی بیخ کنی کر دی گئی اور پبلک سکول میں تمام بچوں کو پڑھایا جانے لگا۔ اس کے پیچھے فلسفہ یہ تھا کہ اگر آپ نے امریکہ میں جمہوریت کو پروان چڑھانا ہے تو پھر سب کو تعلیم دینا ہو گی، تاکہ جمہور ناخواندہ اور جاہل نہ ہو۔ اگر لوگ تعلیم یافتہ اور باشعور ہوں گے تو تبھی ہم جمہوریت کے ثمرات سمیٹنے کے قابل ہو ں گے۔ اس کے علاوہ یہ خیال بھی کار فرما تھا کہ صرف تعلیم ہی ہے جو کہ امریکہ کے تمام باسیوں کے لئے آگے بڑھنے کے یکساں مواقع یقینی بنائے گی۔ ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولنے والے کے لئے غربت ہمیشہ کا مقدر نہ بن جائے، بلکہ تعلیم کی بدولت وہ بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کامیابیوں کے اوج ثریا پہ پہنچ سکے۔

آج سے سینکڑوں سال پہلے اپنائی ہوئی اسی راہ پر چل کر امریکہ اقوام عالم میں سپر پاور کا درجہ رکھتا ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک کا کوئی بھی اہم واقعہ ہو اس کے ڈانڈے امریکہ سے ملائے جاتے ہیں۔ امریکہ اپنی طاقت اور برتری کی وجہ سے کمزور اقوام کے معاملات میں پورا پورا دخیل نظر آتا ہے یہی حال باقی ترقی یافتہ اقوام کا ہے۔ تما م ترقی یافتہ قوموں کا یہ مشترکہ امتیاز ہے کہ ان کے معاشرے تعلیم یافتہ ہیں۔

اس کے مقابلے میں غیر ترقی یافتہ اقوام کی یہ نمایاں کمزوری ہے کہ ان کے معاشرے غیر تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے زیادہ تر طبقات ناخواندہ اور جاہل ہیں۔ملالہ کے تجویز کردہ علاج میں ہی پاکستان کی بھلائی ہے۔ ہمیں تعلیم کو فروغ دینا ہو گا۔ وسائل کی کمی آبادی کی کثرت اورآبادی کی کثیر تعداد کی سیکولر تعلیم سے بیزاری کی وجہ سے تعلیمی سہولیات کی فراہمی ملک کے تمام علاقوں میں تسلی بخش معیار تک نہیں پہنچ سکی،لیکن مسائل کے حل کو محض ریاست و حکومت کی ذمہ داری سمجھ لینابھی بجائے خود ایک مسئلہ ہے۔ یہ ریاست کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو Educate کرنے میں اپنا مقدور بھر حصہ ضرور ڈالے۔بد قسمتی ہے ہمارے متمول اور بااثر افراد کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وطن عزیز میں تعلیم کا فروغ نہ ہو، کیونکہ تعلیم اپنے ساتھ شعور لاتی ہے۔ اپنے حقوق اور ان کے حصول کا ادراک لاتی ہے۔ اور اس کے ساتھ کچلے ہوئے طبقات میں غاصبوں کے تسلط سے نکلنے کی امنگ جاگتی ہے۔ ایسے غاصب جو کہ لوگوں کی املاک کے ساتھ ساتھ ان کی سوچ پربھی اپنے تسلط کے پنجے گاڑتے ہیں۔

قدرت اللہ شہاب صاحب نے اپنی کتاب "شہاب نامہ"میں جھنگ کے دو جاگیرداروں کا ذکر کیا ہے۔ جو اپنے علاقوں میں سکول بنانے سے نالاں تھے۔ اور اپنی ملکیتی زمین اور پیسے دے کر اپنے مخالف کے علاقے میں سکول قائم کروانے کے خواہاں تھے، تاکہ مخالف کے علاقے کے لوگوں کو شعور آئے اور وہ اپنے علاقہ کے جاگیردار کی اطاعت و فرمانبرداری کا طوق گلے سے اتار پھینکیں۔مگر خود اپنے علاقے کے لوگوں کو جاہل رکھنا چاہتے تھے تاکہ لوگ ان کے پنجہ استبداد میں رہیں۔

آج بھی صورت حال نہیں بدلی۔ مگر ملالہ جیسی بیٹی اور اس کی سوچ اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ ابھی اس ملک کی مٹی بنجر اوربے فیض نہیں ہوئی کہ یہاں پر امیدوں کے پھول کھلنا بند ہوجائیں۔ ٭

مزید :

کالم -