بالِ جبریل کی تیسری نظم (1)

بالِ جبریل کی تیسری نظم (1)
 بالِ جبریل کی تیسری نظم (1)

  

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر

ہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر

عشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں

یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

تو ہے محیطِ بے کراں، میں ہوں ذرا سی آبجو

یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر

مَیں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہُر کی آبرو

مَیں ہوں خزف تو تو مجھے گوہرِ شاہوار کر

نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو

اس دم نیم سوز کو طائرکِ بہار کر

باغِ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کارِ جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

روزِ حساب جب مرا پیش ہو دفترِ عمل

آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر

بال جبریل کی یہ تیسری نظم ہے۔ اس نظم میں رنگِ تغرل غالب ہے۔جبکہ اس سے ماقبل دونوں نظموں میں خیالات کے عمق کے ساتھ ساتھ انداز بیاں میں محب اور محبوب کے مابین پیار بھرا شکوہ شکایت کا پہلو نمایاں تھا اور باہم افہام و تفہیم کی کیفیت بھی موجود تھی۔ پیش نظر منظوم کلام میں گیسوئے تاب دار۔ ہوش و خرد کا شکار ایسی تراکیب ہیں جو اس کے غزل ہونے کی چغلی کھاتے ہیں۔

قرآن مجید میں اللہ کی پنڈلی کا ذکر ہے جو اللہ کے حسن کا مظہر ہے جبکہ اللہ تعالیٰ جسمانی اعضاء جوارح سے بالکل عاری وجود ہے۔ پیش نظر منظوم کلام میں گیسو اور پھر تاب دار گیسو اور ان کو مزید تاب دار کرنے کی آرزو اپنی ذات میں اس کے رنگ تغرل کے تغلب کا پتہ دیتی ہے۔ اللہ کی پنڈلی کے حوالے سے قرآنی آیت موجود ہے ۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی اس آیت کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں:

’’جس روز سخت وقت آ پڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لئے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہیں کر سکیں گے ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ذلت ان پر چھا رہی ہو گی جب یہ صحیح سالم تھے اس وقت انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا اور یہ انکار کرتے تھے۔‘‘

تفسیر عثمانی میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ تقریب کشف ساق کے عنوان سے فرماتے ہیں:’’اس کا قصہ حدیث شیخین میں مرفوعاً اس طرح آیا ہے کہ حق تعالیٰ میدانِ قیامت میں اپنی ساق ظاہر فرمائے گا، ساق پنڈلی کوکہتے ہیں اور یہ کوئی خاص صفت یا حقیقت ہے صفات و حقائق الہٰیہ میں سے جس کو کسی خاص مناسبت سے ساق فرمایا جیسے قرآن میں ہاتھ اور وجہ کے الفاظ ملتے ہیں۔ یہ ہاتھ اور وجہ کیا ہیں۔ یہ مفہومات متشابہات میں سے کہلاتے ہیں ان پر اسی طرح بلا کیف وکم ایمان رکھنا ضروری ہے جیسے اللہ کی ذات وجود حیات اور سمع و بصر وغیرہ پر ایمان رکھتے ہیں۔اسی حدیث میں ہے ساق کی اس تجلی کو دیکھ کر تمام مومنین و مومنات سجدہ میں گر پڑیں گے مگر جو شخص ریاء سے سجدہ کرتا تھا اس کی کمر نہیں مڑے گی۔تختہ سی ہو کر رہ جائے گی اور جب اہل ریاء و نفاق سجدہ پر قادر نہیں ہوں گے تو کفار کا اس پر قادر نہ ہونا بطریق اولیٰ معلوم ہو گیا۔ یہ سب محشر میں اس لئے کیا جائے گا کہ مومن و کافر اور مخلص و منافق صاف طور پر کھل جائیں اور ہر ایک کی اندرونی حالت حسی طور پر شاھد ہو جائے۔‘‘

کشف ساق کے اس واقعے سے دیگر باتوں کے علاوہ دو باتیں بدیہی طور پر واضح ہیں ۔ کشف ساق متشابہات میں سے ہے۔ متشابہات ایمانیات کا حصہ ہے۔ اس کی عقلی توجیہہ ضروری نہیں لیکن اس واقعے سے متعلق علمی وضاحت تلاش کرنے کی ممانعت بھی نہیں اس کاجواز بھی قرآن سے ثابت ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے واقعہ میں یہ بات ملتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ سے سوال کیا:’’اللہ تو مجھے مشاہدہ کرا کہ تُو مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔‘‘

اس کے جواب میں اللہ نے سوالیہ انداز میں پوچھا:’’ابراہیم کیا تجھے اس بات پر یقین نہیں ہے۔‘‘

ابراہیم ؑ بولے:’’عرض کیا ہاں ہاں کیوں نہیں مجھے یقین تو پورا پورا ہے لیکن مَیں نے سوال تو صرف دلی اطمینان حاصل کرنے کے حوالے سے کیا ہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ یقین و ایمان الگ چیز ہے اور اطمینان قلبی الگ ہے۔ اس کے لئے تفتیش کرنا معیوب نہیں۔ جس کا جواب بھی اللہ تعالیٰ نے انتہائی کیفیت تجسس اور مشاہدے کے حوالے سے عطا فرمایا لہٰذا کشف ساق کے بارے میں علمی توجیہات تلاش کرنا نہ تو مذموم ہے نہ معیوب لیکن اپنی تحقیق ہی کو حتمی قرار دینا اس پرا صرار کرنا درست نہیں۔اسی لئے اس بارے میں مفسرین نے دو آراء قائم کیں۔ بعض مفسرین نے کہا کہ اس معاملے میں کھود کرید کرنا درست نہیں لہٰذا جس بات کو اللہ نے مبہم رکھا اس معاملے میں ہمیں بھی رائے زنی نہیں کرنی چاہیے اس کو مبہم ہی رہنے دینا چاہیے لیکن دوسرے گروہ نے اس معاملے میں رائے زنی بھی کی اور عقلی توجیہات بھی تلاش کیں۔

اس بات کا جواز ہمیں موسیٰؑ کے واقعے سے بھی ملتا ہے۔ موسیٰؑ جب مدین سے واپس آ رہے تھے تو راستے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ رات کا وقت سردی زیادہ۔ سامنے پہاڑ کی چوٹی پر نظر پڑی۔ بیوی سے کہا تم یہاں ٹھہرو سامنے روشنی نظر آ رہی ہے لگتا ہے کوئی مونس رہتا ہے میں جاتا ہوں راستہ بھی پوچھتا آؤں گا لگے ہاتھوں تھوڑی سی آگ بھی لے آؤں گا تاکہ آگ تاپ سکیں اور سردی کی شدت سے بچ سکیں۔ آپ وہاں چلے گئے۔ وہاں پہنچے تو معاملہ کچھ اور تھا آگ وغیرہ تو نہ تھی البتہ اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی حاصل ہوئی۔ گفتگو ہوئی سوال جواب ہوئے۔ یہ سوال پس پردہ تھے یعنی حسن حجاب میں تھا کیونکہ عشق تو حجاب میں رہ ہی نہیں سکتاتھا البتہ حسن حجاب میں تھا۔ موسیٰؑ سے رہا نہ گیا اور عشق بول اٹھا۔اے میرے رب! تو مجھے اپنا سراپا تو دکھا۔ رب نے جواب دیاموسیٰ ہرگز نہیں تیرے اندر تاب نظارہ ہی نہیں ہو گی۔ عشق خالص تھا تو اصرار بڑھا۔ اللہ نے کہا اچھا اگر ایسا ہے تو ذرا س پہاڑ پر نظر کر۔ اگر پہاڑ نے میرے حسن و جمال کو برداشت کر لیا تو ممکن ہے تو مجھے دیکھ لے۔ قرآن کے مطابق:جب رب نے پہاڑ پر اپنی نظر تجلی ڈالی تو موسیٰؑ بے ہوش ہو گئے۔ جانے کب تک بے ہوش پڑے رہے ہوں گے اس بارے میں قرآن خاموش ہے۔

اس تناظر میں علامہ اقبال گویا ہیں:

عشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں

یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

مولانا مودودیؒ نے کشف ساق سے مراد کڑا وقت لیا ہے اور ترجمہ میں بھی یہی معنی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی زیادہ پریشانی کے وقت عربوں میں کشف ساق کا محاورہ بولا جاتا ہے۔ بہرحال کشف ساق متشابہات میں سے ضرور ہے لیکن ہم مولانا عثمانیؒ کی رائے سے استشہاد کو راجح سمجھتے ہیں، جس سے ہمیں علامہ اقبال کے شعر کی توجیہہ میں مدد ملتی ہے۔

علامہ عثمانیؒ کے مطابق کشف ساق اللہ تعالیٰ کی تجلی ہو گی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حسن و جمال مظاہرہ ہو گا جسے دیکھ کر تمام مومن و مومنات سجدے میں گر جائیں گے لیکن بدکار ریاکار بے عمل بے نمازی لوگوں کو اس کی توفیق نہ ملے گی نہیں ان کی کمریں تختہ ہو جائیں گی اور وہ جھکنا چاہیں گے اور جھک نہیں سکیں گے۔ ہمارے نزدیک علامہ کے اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ حسن اور عشق دونوں سارے حجاب کے پردے توڑ کر آشکار ہو جائیں گے۔علامہ کہتے ہیں:

عشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں

عشق بھی حجاب کے پردے میں ہو اور حسن بھی حجاب کے پردے میں تو ایسی ملاقات کا کیا فائدہ اس لئے دونوں کو تمام حجابی پردے توڑ کر ایک دوسرے کے سامنے آشکار ہو جانا چاہیے تبھی لقائے دل کا لطف ہے یہ کیفیت قیامت کے روز کشف ساق کے موقعہ پر پیش آئے گی۔

اقبال شناسی کا دعویٰ رکھنے والے حضرات کہتے ہیں کہ علامہ اقبال کا یہ شعر عشق مجازی اور عشق حقیقی دونوں کا مجموعہ ہے۔گیسو یعنی بال بالوں کا پیج و خم طوالت اور چمک سب گیسوئے تاب دار ظاہری یعنی مجازی حسن کا آئینہ دار ہیں لیکن اگر گیسو سے ظاہری معنی یعنی محض بال مراد نہ لئے تو اس سے مراد صفات الہٰی ہوں گی جو کائنات کی ہر چیز میں جلوہ گر ہیں اور ہر چیز کا حسن خوبصورتی اصلاً اللہ کا حسن ہو گی اور بھی تاب دار سے مراد تجلیات الہٰی کی شدت مراد لی جائے گی اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کا نمو اس کا ظہور اور تغیر پذیری سب حسن الہٰی کے نکھار کا مظہر ہیں (جاری ہے)

ان مظاہر قدرت میں مزید تاب داری پیدا کرنے کی تمنا در اصل عشق حقیقی کے اعتبار سے اس بات کی خواہش ہے کہ اے اللہ! تو اپنے حسن لازوال کے وہ کرشمے دکھا کہ میں ان مظاہر مَیں ایسا مستغرق ہو جاؤں کہ حسن کے جلوؤں میں ایسا ڈوب جاؤں کہ مجھے ہر طرف صرف اور صرف اللہ ہی نظر آئے اور مَیں ماسوا اللہ سے بالکل بے نیاز ہو جاؤں مجھے ہر چیز میں اللہ ہی اللہ کا جلوہ نظر آئے اور میں ماسوا اللہ سے یکسر کٹ کر صرف اللہ ہی کا ہو رہوں۔دوسرے مصرعے کے چار الفاظ غور طلب ہیں:

ہوش۔ خرد۔ قلب اور نظر

ہوش سے مراد شعور ہے جو انسان کو اس کے حواس خمسہ سے حاصل ہوتا ہے۔ شعور کی معراج عقل ہے۔ شعور سے علم حاصل ہوتا ہے۔ عقل اس شعور سے نتائج اخذ کر کے راستے متعین کرتی ہے۔قلب سے مراد وجدان ہے۔ یہ وجدان حواس خمسہ سے بے نیاز ہو کر اشیاء کی حقیقت تک پہنچتا ہے۔ یہ قوت متخیلہ ہے اور اسی قوت متخیلہ پر عقل فیصلوں کا مدار رکھتی ہے۔ گویا اے اللہ! میں تیری ذات کی کرشمہ سازیوں میں اتنا منہمک ہو جاؤں کہ میرے حواس۔ عقل ۔ میرا دل اور میری نظر اور اس کے فیصلے سب تیری ذات کی پہچان بن جائیں اور یہ چاروں قوتیں مجھے تیری ذات ہی کا پتہ بتائیں اور مَیں ہر چیز ماسوا اللہ سے کٹ جاؤں۔ ہر چیز میں تیرا ہی مشاہدہ اور عکس نظر آئے تو گویا یہ ’’من عرف نفسہ فقد عرف ربہ‘‘ کی وضاحت ہے۔

ہم نے شروع میں کہا بال جبریل کے یہ اشعار ، الفاظ و تراکیب کے حوالے سے غزل اور نظم کا امتزاج ہیں نیز اس میں عشق مجازی اور عشق حقیقی دونوں کا رنگ موجود ہے:پہلے شعر میں:

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر

ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر

اس شعر میں گیسو ان کے پیچ و خم اور آب و تاب اسی طرح ہوش خرد قلب و نظر اور ان کا شکار کرنا حقیقت اور مجاز دونوں کا غماز ہے۔جب ان تراکیب کی نسبت اللہ کی طرف ہو تو اس کا عمود حدیث ذیل سے ماخوذ ہو گا۔ فرمایا:

’’اللہ خوبرو ہے اور خوبصورتی ہی کو پسند کرتا ہے۔‘‘

اس ضمن میں قرآن کی آیت کشف ساق سے بھی استدلال کیا جا سکتا ہے:

تو ہے محیطِ بے کراں، میں ہوں ذرا سی آبجو

یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر

اے اللہ! تو ایک ایسا سمند ر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ اب اے اللہ! تو میرے اندر وہ صفات پیدا کر دے جس سے اپنی صفات مومنانہ سے تیرے نام کی عظمت کو اور اجاگر کر سکوں تاکہ تیرے اچھے اعمال کے ذریعے سے عظمت اسلام اجاگر ہو سکے۔ مراد یہ ہے کہ اے اللہ! تو مجھ کو اپنے رنگ میں رنگ دے تاکہ مَیں بھی غیر محدود ہو جاؤں اور میرا فکری فیض بھی عام ہو جائے۔ میرا فکری فیض ذاتی نہیں بلکہ تیرے فکر ہی کا پرتو ہے جو کہ میں تیری فکری کتاب قرآن مجید سے حاصل کر رہا ہوں۔ قرآن مجید میں ہے:

’’اللہ کا رنگ، بھلا اللہ کے رنگ سے زیادہ حسین رنگ اور کون سا اور کس کا ہو سکتا ہے اور انسان اس رنگ میں رنگین ہو کر اصلاً اسی کے عبادت گزار بندے بن سکتے ہیں۔‘‘

اقبال اسی آیت قرآنی سے اور اس کی مماثل دیگر آیات کی تحریک سے منفعل ہو کر اپنی قلبی تحریک کو اس شعر کی زبان عطا کرتے ہیں۔ اس تحریک کے اشارات اقبال کے کلام میں بعض اور مقامات پر بھی ملتے ہیں۔مثلاً آپ فرماتے ہیں:

فرصت کشمکش مدہ ایں دل بے قرار را

یک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تاب دار را

اسی طرح علامہ فرماتے ہیں:

فقر مومن چیست تسخیر جہات

بندہ از تاثِیراُو مولا صفات

چوتھے شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

مَیں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہُر کی آبرو

میں ہوں خزف تو تو مجھے گوہرِ شاہوار کر

اقبال اللہ سے التجا کرتے ہیں کہ اے اللہ! اگر میرے اندر کوئی خوبی ہے کوئی حقیقت ہے تو وہ تیرا کرم تیری مہربانی۔ تیرے التفات ہی کی وجہ سے ہے۔ اے اللہ! تو اس التفات اور کرم نوازی کی دولت مستقل عطا کرتے رہیو اور اس دولت کو مجھ سے میری کسی خامی کی وجہ سے چھین نہ لی جیو کہ مَیں اس کرم گستری سے محروم کر دیا جاؤں اور اگر مَیں صفات بندگی سے عاری ہوں تو اے اللہ! تو مجھے اس گوہر لازوال سے مالا مال فرما دے۔

نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو

اس دم نیم سوز کو طائرکِ بہار کر

اس شعر میں دل میں مچلی ایک نیک خواہش کا اظہار مقصود ہے، علامہ فرماتے ہیں کہ اے اللہ! میری زندگی کا مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے۔ مَیں اسی مقصد کے حصول کے لئے زندگی کے سانس پورے کر رہا ہوں۔ اس حوالے میں اقبالی فکر قرآن کی اس آیت سے نمو پکڑتی ہے:

ترجمہ:’’آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز اور میری قربانیاں اور میری زندگی اور موت سب کا مقصود و محور صرف اور صرف احیائے کلمۃ اللہ ہے ۔ اللہ کے سوا کچھ نہیں میں اسی لیے مسلمان ہوں اے میرے اللہ! مَیں نے عمر بھر اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کر دیں میری خواہش تھی کہ مَیں اپنی زندگی میں مسلمانوں کا عروج تیرا کلمہ چار دانگ عالم میں بلند ہوتے دیکھ لوں۔ علامہ فرماتے ہیں:

تانہ آمد بانگِ حق از عالمے

گر مسلمانی نیاسائی دمے

جب تک چار دانگ عالم میں اللہ کا کلمہ یعنی اسلام غالب نہ آ جائے اور یہ صورت حال میں اپنی زندگی میں نہ دیکھ سکوں تو اے میرے اللہ! کم از کم مجھے یہ خوش خبری کسی طرف سے مل جائے کہ مستقبل قریب میں اسلام غالب آ کر رہے گا۔

علامہ کی یہ خواہش ان کی زندگی میں پوری ہو گئی اورعلامہ نے نہ سہی روح علامہ نے اور مسلمانوں نے ایک علیحدہ مملکت پاکستان کی شکل حاصل کرنے کی نوید ضرورسنی اور 14اگست1947ء میں خوش خبری اقبال کو نہیں تو محبین اقبال نے ضرور سن لی او رپھر قرار داد مقاصد کی منظوری یقیناًروح اقبال کے لیے باعث سکون ہوئی ہو گی:

باغِ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کارِ جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

اس شعر میں خالق کائنات سے محبت آمیز گلہ بھی ہے ناز بھرا شکوہ بھی ہے۔ اللہ کی ذات سے دل میں چھپی اندرونی دلی خواہش کا اظہار بھی ہے۔ فرمایا: اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں تو نے مجھے اشرف المخلوقات کے عظیم مرتبے پر فائز کیااور مجھے اشرف المقام یعنی جنت عطا کی مجھے وہاں رہنے کا حکم دیا لیکن پھر تو نے مجھے وہاں سے بے دخل بھی کیوں کیا۔ مصلحتوں کا جاننے والا تو تو ہی ہے۔ مانا مجھ سے قصور ہو گیا تھا لیکن تیرا دامان عفو بھی تو وسیع تھا اور ہے۔ میرے قصور کی اتنی کڑی سزا کہ مجھ سے ساری مراعات چھین لیں۔حتیٰ کہ رہنے کا حق بھی سلب ہو گیاآخر کیوں؟علامہ کی یہ فکری پرواز قرآن کی اس آیت کی کس قدر ترجمان ہے:

اقبال محبت بھرا شکوہ پیش کرتے ہیں کہ:

اے اللہ! تو مجھے جنت سے نکال کر بے چینی محسوس کر رہا ہو گا۔ کار جہاں طویل سفر ہے، طویل مسافت ہے، کب قیامت قائم ہو گی حیات بعد الممات کی گھڑی کب آئے گی۔کب میدان حشر قائم ہو گا۔کب حساب کتاب ہو گا۔ اب جیسا بھی ہے اے اللہ! اب آپ کو یہ فراق کی گھڑیاں طوعاً و کرھاً گزارنا ہوں گی۔ اب دنیا میں رہتے ہوئے میرا دامن گناہوں سے آلودہ ہوتا ہی رہے گا۔

روزِ حساب جب مرا پیش ہو دفترِ عمل

آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر

لیکن اے میرے رب! جب میں اپنا عصیاں سے بھرا دامن لے کر تیرے دربار میں حاضری دوں تو مجھے اور تجھے شرمساری کا سامنا کرنا ہی پڑے گا جس کے سوا چارہ نہیں۔اسی ضمن میں علامہ اقبال ایک اور جگہ اپنے دل میں چھپی خواہش کا اظہار بھی کر دیتے ہیں:

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر

روز محشر عذر ہائے من پذیر

گر تو بینی را حسابم ناگزیر

از نگاہِ مصؐطفی پنہاں بگیر

مزید :

کالم -