تحریک انصاف میں ترین گروپ کی انٹری

تحریک انصاف میں ترین گروپ کی انٹری
تحریک انصاف میں ترین گروپ کی انٹری

  

میرا ماتھا تو اُسی وقت ٹھنک گیا تھا جب دو روز پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا ان کا جہانگیر ترین سے کوئی اختلاف نہیں اور وہ جپھی ڈال کر ہر قسم کی دوریاں ختم کر چکے ہیں۔ یہ گویا ایک طرح سے اس بات کی پیش بندی تھی کہ کل کلاں جب جہانگیر ترین تحریک انصاف کے اندر اپنا علیحدہ گروپ بنائیں تو یہ تاثر نہ ملے کہ اس میں شاہ محمود قریشی کی ان بڑھکوں کا بھی کوئی کردار ہے جو انہوں نے ملتان کی تقریب اور وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں ماریں اور یہ وارننگ دی تھی کہ جو پارٹی کو چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں چلے جائیں آدھا تیتر آدھا بٹیر نہ بنیں جن وزیروں نے وزیراعظم عمران خان کے اس حوالے سے کان بھرے ان میں شاہ محمود قریشی بھی  پیش پیش رہے ہوں گے کہ جہانگیر ترین سے کسی قسم کے معاملات طے نہ کئے جائیں اور انہیں لائن کے دوسری طرف کھڑا کر دیا جائے۔ اب وہ لائن کی دوسری طرف کھڑے ہو چکے ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیر ترین کے مخالفین کپتان کو کسی بری صورت حال سے بچانے کے لئے کیا کرتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے 32 اور قومی اسمبلی کے 8 ارکان کا نیا ترین گروپ معرض وجود میں آ چکا ہے، صرف نام کی حد تک نہیں بلکہ صوبائی و قومی اسمبلی میں انہوں نے اپنے پارلیمانی لیڈر بھی نامزد کر دیئے ہیں اب قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں علیحدہ نشستیں الاٹ کرنے کی درخواست کی جائے گی، گویا وہ خواہش جو تحریک انصاف کے رہنما مسلم لیگ (ن) کے بارے میں رکھتے تھے کہ اس میں سے ش نکل آئے، اب تحریک انصاف میں سے ج نکل آئی ہے۔ یہ ج آگے چل کر کیا رنگ جماتی ہے، اس کا اندازہ اگلے چند روز میں ہو جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان کو یہ بات شاید بھول جاتی ہے کہ وہ وزیراعظم کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے چیئرمین بھی ہیں، چیئرمین کی حیثیت سے پارٹی کو منظم اور متحد رکھنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے چاہئے تو یہ تھا کہ جب شاہ محمود قریشی نے ترین گروپ کے خلاف ملتان میں ایک سخت بیان اشتعال انگیز انداز میں دیا تھا تو وہ ان سے جواب طلبی کرتے تاکہ یہ مثبت پیغام جاتا کہ وہ پارٹی کے ہر رہنما اور رکن اسمبلی کو اہمیت دیتے ہیں، اس کی بجائے وہ مسکراہٹ بکھیر کر گویا داد دیتے رہے۔ پھر جب ان کی اگلے دن اسلام آباد میں ترین گروپ کے حامی ارکانِ اسمبلی سے ملاقات ہوئی، تو اس موقع پر بھی انہوں نے شاہ محمود قریشی کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دے کر مسترد نہیں کیا بلکہ وہی باتیں کرتے رہے جو ان کی اصول پسندی کے حوالے سے اب ایک روایتی گفتگو بن گئی ہے۔ صرف یہی نہیں انہوں نے وفد کی بعض باتوں سے اتفاق بھی کیا اور جہانگیر ترین کے ساتھ مکمل انصاف کی یقین دہانی کرائی۔ مگر غالباً اس وفد کے ایوانِ وزیراعظم سے نکلتے ہی ”کاریگروں“ نے اپنا کام دکھا دیا جس کے بعد کپتان ایک بار پھر اسی لہر میں آ گئے کہ جہانگیر ترین سمیت کسی کو کوئی رعایت نہیں دینی۔جہانگیر ترین کے بقول وہ رعایت تو مانگ ہی نہیں رہے، صرف انصاف مانگ رہے ہیں،جو انہیں مل نہیں رہا۔

ایک عرصے تک تو جہانگیر ترین اس مخمصے میں مبتلا رہے کہ عمران خان کا ساتھ چھوڑیں یا نہ چھوڑیں۔ مگر لگتا ہے وہ بالآخر مایوس ہو گئے، انہوں نے اپنے حامیوں کو گرین سگنل دیدیا کہ جو وہ کرنا چاہتے ہیں کریں، کپتان سے ان کے پرانے تعلقات آڑے نہیں آئیں گے جب سے یہ اعلان ہوا ہے ملک کی سیاسی صورت حال پر بے یقینی کے سائے گہرے ہو گئے ہیں۔ علیحدہ گروپ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اب دونوں اسمبلیوں میں تحریکِ انصاف کی سادہ اکثریت نہیں رہی۔ کوئی بھی اس بات کی نشاندہی کر کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور وزیر اعظم عمران خان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ یہ نوبت اگر نہ بھی آئے تو قانون سازی اور آنے والے بجٹ کے موقع پر حکومت کے لئے سادہ اکثریت کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ پنجاب اسمبلی میں تو بالکل ہی نا ممکن ہوگا اگر یہ 32 ارکانِ اسمبلی دوسری طرف کھڑے ہو جاتے ہیں بجٹ کا پاس نہ ہونا بھی ایک طرح سے عدم اعتماد ہی ہوتا ہے۔ جس کے بعد حکومت قائم نہیں رہتی۔

اب بھی تحریک انصاف کے اندر ایسے شہ دماغ موجود ہیں جو جلتی پر پانی ڈالنے کی بجائے، تیل ڈالنے کا کام بڑی مہارت سے کرتے ہیں، مثلاً یہ کہا جائے گا کہ عمران خان حکومت چھوڑ دیں گے کسی کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے۔ یعنی یہ لوگ حکومت چھوڑنے کو گڈی گڈے کا کھیل سمجھتے ہیں۔ یہ آوازیں بھی آ رہی ہیں کہ عمران خان اسمبلی توڑ کر عوام کے پاس جا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ عوام کے پاس ان حالات میں کیا منہ لے کر جائیں گے جب ہر طرف مہنگائی نے عوام کو زندہ درگور کر رکھا ہے، کیا ان کا صرف یہ بیانیہ انہیں دوبارہ عوام کا ووٹ دلوا سکتا ہے کہ وہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے، جبکہ ان کے تین سالہ دور میں کسی ایک کرپٹ کو بھی سزا نہ ہوئی ہو کپتان کو ابھی تک اپنے اردگرد موجود آستین کے سانپوں کی خبر نہیں ہوئی۔ وہ اپنے بیانیئے کے جال میں پھنسا دیئے گئے ہیں۔ جہانگیر ترین کے کیسوں کا فیصلہ تو نجانے کب ہو لیکن ان کے خلاف تو فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ وہ تحریک انصاف جس کے بارے میں یہ تاثر موجود تھا کہ عمران خان اور وہ لازم و ملزوم ہیں بلکہ ایک پنتھ دو کاج کے مترادف ہیں، آج اس میں دراڑ پڑ گئی ہے اور چالیس منحرفین عمران خان وجود آ چکے ہیں۔یہ کس کا نقصان ہے؟ یہ ان لوگوں کی جیت ہے جو تحریک انصاف کے اندر ایک عرصے سے مائنس ون کے فارمولے پر کام کر رہے ہیں جو نمبر ٹو سے نمبر ون بننا چاہتے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کو اپنا کندھا پیش کرنے کے لئے بے تاپ ہیں جن کی سیاست گدی نشینی اور اسٹیبلشمنٹ کی مرہون منت رہی ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ کبھی ایسا موقع آیا تو جہانگیر ترین کپتان کو بچانے کے لئے ایک بار پھر میدان میں آ جائیں گے۔ مجھے اب بھی یقین ہے کہ جہانگیر ترین اپنے اس گروپ کو کپتان کی حکومت گرانے اور کسی دوسرے کو فائدہ پہنچانے کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ بس ایک پریشر گروپ کے طور پر چلائیں گے تاکہ قومی سیاست میں اپنی حیثیت منوا سکیں۔

ویسے بھی جہانگیر خان ترین کے لئے یہ بہت خطرناک راستہ ہوگا اگر اس گروپ کو وہ تحریک انصاف کے خلاف استعمال کرتے ہیں ایسی بے وقوفی وہ ہرگز نہیں کر سکتے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں وہ سیاسی تاریخ کا ایک معتوب کردار بن کر رہ جائیں گے۔ ان کی خواہش صرف یہ ہو گی کہ ان کے پرانے دوست عمران خان ان کی اہمیت کا احساس کریں، انہیں اپنے اردگرد موجود سازشیوں کے کہنے پر ٹشو پیپر کی طرح نہ پھینکیں، وہ آج بھی بڑے کام کے آدمی ہیں اور عمران خان کو مشکلات سے نکالنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں اُدھر کپتان کو بھی اب ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہئے۔ جہانگیر ترین ان سے دور ہوتے ہیں تو ان کی حکومت میں سکینڈلز رک نہیں گئے۔ اب راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل ان کے گلے پڑ گیا ہے۔ گویا صرف جہانگیر ترین ہی وہ کردار نہیں جو ان کے احتساب بیانیئے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ یہاں تو ایک لائن لگی ہوئی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ جہانگیر ترین انہیں آنکھ دکھا رہا ہے۔ اس کے پاس ارکانِ اسمبلی ہیں، صرف انہیں مثال بنانے سے بات بہت اونچی بھی جا سکتی ہے اور بہت نیچے بھی گرا سکتی ہے، بس اس کا دھیان رہے۔

مزید :

رائے -کالم -