مشرف کیخلاف خلاف غداری کیس سننے کیلئے خصوصی عدالت قائم،وردی میں ایمرجنسی کابینہ کی مشاورت سے لگائی ،سول عدالت مقدمہ نہیں سن سکتی :سابق فوجی صدر

مشرف کیخلاف خلاف غداری کیس سننے کیلئے خصوصی عدالت قائم،وردی میں ایمرجنسی ...
 مشرف کیخلاف خلاف غداری کیس سننے کیلئے خصوصی عدالت قائم،وردی میں ایمرجنسی کابینہ کی مشاورت سے لگائی ،سول عدالت مقدمہ نہیں سن سکتی :سابق فوجی صدر

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق فوجی سدر پرویز مشرف کیخلاف غداری کے الزام میں مقدمہ چلانے کیلئے خصوصی عدالت قائم کردی گئی ہے جبکہ ملزم نے یہ عدالت اور مقدمہ چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ھکومت نے مقدمہ چلانے کا اعلان کرنے کے بعد سرعت کے ساتھ خصوصی عدالت کا تین رکنی بنچ بنایا ہے جس کے سربراہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس فیصل عرب سربراہ جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ کی جسٹس طاہرہ صفدر اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس یاور علی رکن ہوں گے ۔ یہ خصوصی عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ میں کام کرے گی۔واضح رہے کہ سابق فوجی صدر پرو یز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب سابق فوجی پرویزصدرمشرف نے اپنے خلاف غداری کیس کا سامنا کرنے کیلئے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد اسے چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان کیخلاف کیس کی ماعت کیلئے سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے ہائیکورٹ کے تین ججوں پر مشتمل خصوصی عدالت قائم کی گئی ہے ۔ سابق فوجی صدر کا موقف ہے کہ 3نومبر 2007ءکو ایمرجنسی کا فیصلہ انہوں نے تنہا نہیں کیاتھا بلکہ کابینہ کے مشورے سے یہ قدم اٹھایا تھا جبکہ اس وقت وہ سولین صدر نہیں تھے بلکہ وردی میں تھے اسلئے ان کیخلاف سول عدالت میں کارروائی نہیں ہو سکتی ۔ یہ اختیار صرف فوجی عدالت کے پاس ہے ۔ قانونی ماہرین کے مطابق سابق صدر کے ساتھ باقی شرک ملزموں کو بھی شامل کرنا پڑے گا اس طرح یہ کیس الجھ جائے گا جبکہ عالمی قوتیں بھی سابق صدر کو بچانے کیلئے متحرک ہوچکی ہیں ۔ایسا معلوم نہیںہوتا کہ غداری کیس میںانہیں سزا ہوسکے۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں