ہمارے چودھری صاحب: قدرت اللہ چودھری 

  ہمارے چودھری صاحب: قدرت اللہ چودھری 
  ہمارے چودھری صاحب: قدرت اللہ چودھری 

  

چودھری صاحب، قدرت اللہ چودھری صاحب ایک خوبصورت انسان تھے ایک ایسے اخبار نویس تھے جیساکہ ہونا چاہئے ہم کتابو ں میں پڑھتے بھی رہے ہیں اور اب یونیورسٹیوں کالجوں کے طلبہ و طالبات کو پڑھاتے بھی ہیں کہ ایک صحافی کو، ایک پیشہ ور صحافی کو، ایک ذمہ دار صحافی کو، ایک دبنگ صحافی کو، ایک مکمل صحافی کو کیسا ہونا چاہئے تو ایسی تمام صفات کی مرصع تصویر، ایک زندہ تصویر چودھری صاحب، میرے چودھری صاحب، قدرت اللہ چودھری صاحب تھے اللہ سبحانہ وتعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے (آمین)۔

چودھری صاحب علم و ہنر کا ایک اعلیٰ مرقع تھے ہمارے ہاں اب پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے کا کلچر تقریباً ختم ہوا چاہتا ہے علم و دانش کا شعبہ ہو یا صحافت اور سیاست کے میدان،مطالعہ اور تحقیق کا کلچر تقریباً ختم ہو چکا ہے بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ، سکہ بند صحافی اپنی گفتگو اور تحریر میں ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ ہمارے چودھری صاحب ایک وسیع المطالعہ شخصیت تھے انہیں نہ صرف قومی سیاسیات کی اے بی سی معلوم تھی بلکہ وہ ایکس وائے زیڈ پر بھی دسترس رکھتے تھے تاریخ اور سیاست کے جدید رجحانات سے کما حقہ واقفیت رکھتے تھے ہم ان سے نا صرف اصلاح لیتے، بلکہ جدید افکار و نظریات کے حوالے سے ان کی سیر حاصل گفتگو سے استفادہ بھی کرتے تھے ان سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اطمینان ہوتا تھا علمی و فکری ایقان ہوتا تھا وہ تاریخی حوالہ جات کے ذریعے اپنا مدعا بیان کرتے اپنا تجزیہ دیتے۔ سننے والا اگر مخالف نقطہ نظر بیان کرتا تو اسے تحمل سے سنتے اور اگر علمی اصلاح کی ضرورت ہوتی تو ضرور کرتے لیکن کسی مخالف کے نقطہ نظر کی تنقیص کبھی نہیں کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ انکی محفل میں ایک شگفتگی ہوتی اور بڑا پن موجود ہوتا تھا۔ 

دوسری طرف جہاں تک فنی مہارت کا تعلق ہے چودھری صاحب کو نیوز روم، میگزین اورایڈ یٹوریل کے شعبہ جات کے زیر وبم پر مکمل دسترس حاصل تھی روزنامہ جنگ، نوائے وقت جیسے قد آور اخبارات میں کام کرنے کے باعث انہیں پرنٹ میڈیا کے فنی معاملات بارے تجربہ حاصل ہو گیا تھا۔ پھر روزنامہ پاکستان کی مجیب الرحمان شامی کے زیر اہتما م اشاعت میں چودھری صاحب کے فنی محاسن کو چار چاند لگے یہ دو بڑوں)یعنی مجیب الرحمان شامی اور قدرت اللہ چودھری)کی رفاقت کا ایک ایسا تجربہ تھا، دو بڑے صحافیوں، بے باک اور نڈر صحافیوں کا ایسا اکٹھ تھا جو شاید اب دوبارہ دیکھنے کو نہ ملے شامی صاحب بھی ہماری قومی سیاست کے ایک جغادری صحافی ہیں۔ انہوں نے بھی کبھی حق سچ کہنے کے حوالے سے ہتھ ہو لا نہیں رکھا اور ہمارے چودھری صاحب تو اللہ لوک تھے شامی صاحب نے کبھی بھی ”مالک صحافی“ یعنی ایک بہت بڑے قومی اخبار کے مالک ہونے کے باوجود اپنے ایڈیڑ (قدرت اللہ چودھری)کو حق گوئی سے نہیں روکا۔ چودھری صاحب اس حوالے سے شامی صاحب کے بڑے پن کا ذکر کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ میں قلم چلاتے وقت اس بات کا خیال رکھتا ہوں کہ کہیں سچ کو غیر ضروری طور پر اور غیر منطقی انداز میں بیان کرتے ہوئے ادارے کے مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔ ایسی اپروچ اور سوچ کے لوگ کہاں ملیں گے، حق و سچ گوئی کا ایسا امتزاج کہاں ملے گا۔ چودھری صاحب کو روزنامہ پاکستان کے ساتھ وابستگی کے دوران دیگر اداروں کی طرف سے پیش کشیں بھی وصول ہوئیں انہیں پیغامات بھیجے گئے شخصی پیغامات بھی دیئے گئے بہتر سے بہتر شرائط اور مراعات لینے کا کہا گیا لیکن انہوں نے ایسی کسی پیش کش کو درخواعتنا نہیں سمجھا۔ شامی صاحب کے ساتھ، پاکستان میں، پاکستان کے لئے کام کرنا ان کا اعزاز رہا اور وہ اسی اعزاز کے ساتھ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ اچھی روایات چھوڑ کر گئے۔ اچھی یادیں چھوڑ کر گئے۔ 

ہمارے چودھری صاحب ایک اچھے،  بہت اچھے، ایک بے مثال انسان تھے ان سے مل کر شگفتگی کا احساس ہوتا تھا۔ ری لیکسیشن ہوتی تھی وہ سیاسی امور پر لگی لپٹی کے بغیر گفتگو تو کرتے ہی تھے وہ سماجی و تہذیبی موضوعات پر بھی سیر حاصل، سحر انگیز اور آسان پیرائے میں بات کرتے تھے کئی مرتبہ مخالف نقطہ نظر کے حامل فرد کی موجودگی میں، اپنی رائے دینے سے محض اس لئے اجتناب کیا کہ اس شخص کی دل آزاری نہ ہو۔ اس طرح کی مروت پسند اور اعلیٰ روایتوں کا امین شخص اب کہاں ملے گا۔تلاش کرنا ہو گا، تلاش کرنا ہو گا کہ ایک اچھا، روایت پسند، پیشہ ورشخص مل پائے جس کی محفل میں بیٹھ کر گوناں گوں مسرت ہو، بڑے پن کا احساس ہو۔علمی و عقلی تشفی ہو۔ دوستو ں کی داد رسی ہو یا اپنے چھوٹے سٹاف کی مالی مدد، چودھری صاحب بغیر کسی لگی لپٹی کے آمادہ ہو جاتے تھے داد رسی کے حوالے سے مجھے ذاتی طور پر تجربہ ہوا چند ماہ قبل مجھے اپنے محکمانہ معاملات سدھارنے کے حوالے سے گورنر پنجاب تک رسائی اور انکی سفارش کی ضرورت پیش آئی چودھری صاحب سے ذکر کیا تو انہوں نے بتایا کہ چودھری سرور صاحب کے ساتھ ان کے دیرینہ مراسم ہیں انہوں نے (یعنی قدرت اللہ چودھری نے) کچھ عرصہ قبل گورنر کو کسی کا کوئی کام کہا تھا لیکن وہ کام نہیں ہوا اس لئے انہیں اب دوبارہ کچھ کہنے کو طبیعت آمادہ نہیں ہوتی،خیر میں نے بھی اپنے کام کے لئے اصرار نہیں کیا، کیونکہ چودھری صاحب نے لگی لپٹی کے  بغیر اپنی معذوری ظاہر کر دی تھی،اس لئے ملال بھی نہ ہوا۔ چند دنوں کے بعد چودھری صاحب کا فون آیا اور انہوں نے اطلاع دی کہ وہ میرے کام کے سلسلے میں گورنر صاحب کے پاس گئے تھے اور گورنر نے وعدہ بھی کر لیا ہے۔ یہ بات سن کر میرے دل میں چودھری صاحب کے لئے تشکر کے جذبات پیدا ہوئے میں سوچنے لگا کہ یار دیکھو یہ کیسا شخص ہے کہ اس نے دوست کی دادرسی کے لئے اپنی انا کو بھی قربان کر دیا۔

چودھری ہونے کے باوجود اپنے دوست کے لیے ایک سائل بن کر گورنر کے در پر چلا گیا خیر چند دنوں بعد چودھری صاحب کی ملاقات کے اثرات ظاہر ہوئے۔ مجھے میرے باس نے بلایا اور معاملہ جیسے چاہا حل ہو گیا۔ میں سوچنے لگا کہ چودھری صاحب کا جا کر شکریہ ادا کروں گا اچانک چودھری صاحب کا فون آیا اور انہوں نے اس معالے کے حل کے متعلق پوچھا مجھے شرمندگی محسوس ہوئی لیکن خوشی بھی ہوئی کہ وہ دادرسی کے انتہائی حد تک پہنچے ہوئے تھے انہوں نے صرف داد رسی کے لئے درخواست ہی نہیں کی،بلکہ اسے حتمی منزل تک پہنچانے کی بھی کوشش کی ملاقات پر پتہ چلا کہ گورنر نے انہیں کال بیک کر کے میرے معاملے کے حل ہوجانے کی اطلاع دی تھی۔ ایسے لوگ، ایسے افراد اب کہا ں ملیں گے جو دوست و احباب کی داد رسی کے لئے اس حد تک جائیں۔اللہ رب العزت نے انہیں زندگی میں بھی باوقار انسان، پیشہ ور صحافی اور اعلیٰ دوست کی صفات سے آراستہ کیا تھا اور مجھے یقین کامل  ہے کہ ا للہ رب العزت اُنہیں آخرت میں بھی اعلیٰ وارفع مقام عطا کرے گا۔ ان شاء اللہ

مزید :

رائے -کالم -