خطے کی موجودہ صورت حال،عمران تحریک کو موخر کردیں

خطے کی موجودہ صورت حال،عمران تحریک کو موخر کردیں

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا موقف درست ماننے والے بھی معروضی حالات سے لاتعلق نہیں ہیں اور ان کی رائے ہے کہ عمران خان کو شیخ رشید جیسے حضرات غلط سیاست کرا رہے ہیں کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے ظلم اور بھارتی وحشت نے خطے میں بالکل ہی نئی صورت حال پیدا کردی ہے، اور بھارت کے انتشار پسند،مسلم دشمن وزیر اعظم مودی کچھ بھی کر گزرنے کی حالت میں ہیں اور اڑی (مقبوضہ کشمیر)میں لگی آگ کو دہشت گردی بنا کر پاکستان کے خلاف محاذ کھول چکا کہ اقوام متحدہ میں حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس سے قبل افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ معاہدہ اورپھر پریس کانفرنس میں جو کیا گیا وہ بھی پاکستان دشمنی پر مبنی ہے، جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو وہاں میڈیا ہاؤسز کے مالکان اور انتہا پسند،پاکستان دشمن ہندو ایک ہی صف میں کھڑے اور ان کا آپس میں خوفناک گٹھ جوڑ ہے ، اس سلسلے میں بھارتی صحافی بھی پریشان ہیں، ایک پرانے ملنے والے سے چندی گڑھ بات ہوئی اور ہم نے ان سے پوچھا کہ دوستی کی باتیں اور یہ الزام اور وہ بھی فوری طور پر یہ کیا ہو رہا ہے تو جواب تھا، بھائیا آپ کو تو علم ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کس کی بولی بولتے ہیں اور ان کو ایسے اینکروں اور رپورٹروں کی خدمات بھی حاصل ہیں جو بلا چون و چرا ان کی پالیسی پر ہی عمل کریں، ایسے صحافی بھی ہیں جو مجبور بھی کہلاتے ہیں، اس مزدور یونین والے بندے کی گفتگو سے ان کی مجبوری ظاہر ہوتی تھی،بھارت میں پاکستان دشمنی کا بخار چڑھ چکا ہے اور اس کو اتارنے کے لئے کونین کے بھاری ڈوز کی ضرورت ہے۔

بہر حال یہ معروضی حالات ہیں، ان کے دوران بھارت کی طرف سے کوئی ایڈونچر بھی ہوسکتا ہے تو کیا قومی وحدت کے لئے اسی بات کا انتظار ہے،ہمیں مسلم لیگ(ن) اور شریف برادران سے لاکھ اختلاف سہی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ محمد نواز شریف اس وقت پاکستان کے آئینی وزیر اعظم ہے اور وہ کل پوری دنیا کے راہنماؤں کے سامنے کشمیریوں کا مقدمہ پیش کررہے ہیں، ایسے مواقع پر تو قومی یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے، چہ جائیکہ آپ محاذ آرائی میں شدت پیدا کریں اور تصادم کی فضا بن جائے۔

اس وقت جو فضا بنی وہ قطعاً اچھی نہیں ہے، یہ مان لیا جائے کہ مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کی طرف سے پہل ہوئی ہے تو بھی جوابی طور پر تصادم کی بات کرنا اور جھگڑے والے ویسے ہی جواب دینا بھی تو درست نہیں ہے ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ عمران خان کیا کرے، وہ عرصہ سے ایک ہی نکتے پر بات کر کے اپنی مہم کو آگے بڑھا رہا ہے کہ احتساب ہو، اس کے لئے اس نے خود کو بھی پیش کیا ہے، اگر پھر بھی بات آگے نہ بڑھے تو مجبوری ہے، اس دلیل کو مان بھی لیا جائے تو پھر یہ سوال پیدا ہوگا کہ جس پارلیمنٹ سے منظوری ملنی ہے وہاں کیا محنت کی گئی، کیا تحریک انصاف کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ ایوان کے باہر دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایوان کے اندر بھی برسراقتدار جماعت پر پریشر ڈالے، لیکن عمران خان تو پارلیمنٹ میں آتے ہی نہیں اور صرف مظاہروں کے زور پر سب کام کر وانا چاہتے ہیں جو کسی طور پر بھی ممکن نہیں، ان کو دونوں محاذوں پر کام کرنا تھابہر حال اس کے باوجود عمران خان کو کہیں تو اپنی ضد چھوڑنی چاہیے، موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی تحریک کو موخر کردیں، منسوخ کرنے کے لئے کون کہتا ہے ان کو تو صرف ملتوی کرنا ہوگا۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے حضرات اورخود قیادت کو بھی تو تحمل،سوجھ بوجھ اور برداشت کامظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ان کے کارکنوں کی طرف سے جو کچھ کہا گیا اس کے لئے سیاست کی کس کتاب میں لکھا ہوا ہے ، تصادم خود برسراقتدار حضرات کے لئے خوشگوار اور اچھا نہیں، پہلے ہی سانحہ ماڈل ٹاؤن ابھی تک موجود ہے اس پر (خدانخواستہ) مزید کوئی ایسا حادثہ رونما ہوا تو بوجھ حکمرانوں پر ہی ہوگا اس لئے فضا کو پر امن رکھنے کی شعوری کوشش کرنا ضروری ہے، حکمرانوں کے کندھوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جس کے پاس کچھ نہیں اس کا کیا نقصان ہونا ہے، نقصان میں تو وہ ہوں گے جو اقتدار میں ہیں، اس لئے بہتر ہے کہ حالات کوخراب ہونے سے روکا جائے، مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کو فوری طور پر ایسے جتھّے بنانے اور نعرہ بازی سے منع کیا جائے۔

ان سطور میں کئی بار یہ عرض کیا گیا کہ وزیراعظم کو ازخود پہل کرنا چاہیے بہتر ہوتا کہ وہ اقوام متحدہ جانے سے قبل ہی پارلیمانی جماعتوں اور ملک کی جماعتوں(جو پارلیمان میں نہیں) پر مشتمل ایک مشاورتی اجلاس منعقد کر کے جاتے، اس سے انہی کو اعتماد ملتا اور وہ زیادہ بہتر نمائندگی کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا، اب یہ موقع بنا ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم اور اڑی کے حادثے سمیت تمام امور پر اتفاق رائے حاصل کیا جائے، وزیر اعظم واپسی پر ایسا ہی کریں تو بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔

جہاں تک بھارت والے مسئلہ کا تعلق ہے تو بھارتی مداخلت کے دستاویزاتی ثبوتوں کے ساتھ نئی مہم شروع کی جانا چاہیے اور قومی راہنماؤں کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔

تحریک کو موخر

مزید :

تجزیہ -