یوم ِ اقبالؒ کی مناسبت سے۔۔۔دِگر دانائے راز آئد کہ نہ آئد

یوم ِ اقبالؒ کی مناسبت سے۔۔۔دِگر دانائے راز آئد کہ نہ آئد
یوم ِ اقبالؒ کی مناسبت سے۔۔۔دِگر دانائے راز آئد کہ نہ آئد

  

انیسویں صدی کا نصف آخر اور بیسویں صدی کا نصف اول اسلامیان ِ ہند کے لیے اس لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اس عرصہ کے دوران انہیں سیاسی طورپر بہت سے نشیب و فراز دیکھنا پڑے ،ان کی معاشی و معاشرتی زندگی میں بہت سے مدو جذر آئے اور ان کی تاریخ نے پلٹا کھا کر ایک نیا رخ اخیتا ر کیا ۔ برصغیر پر آٹھ سو سال تک انتہائی کرو فر کے ساتھ بلا شرکت ِ غیرے حکومت کرنے کے بعد انہیں جن مصائب و آلام اور آزمائش و ابتلا سے گذرنا پڑا آج ان کا تصور بھی محال ہے ۔ 1857ءکی جنگ ِ آزادی میں ناکامی نے انہیں عزت و توقیر کی بلندیوں سے ذلت و ر مسکنت کی پستیوں میں دھکیل دیا تھا ۔ایک طرف یورپ سے آنے والے سفیدفام بھیڑیئے تاجروں کے روپ میں آکر اس ” سونے کی چڑیا “ پر تسلط جمانے کے لیے اپنے پیر مضبوط کرنے میں مصروف ِ عمل ہو گئے اور دوسری طرف ہندو بنیے مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ طورپر صف آراء ہو گئے ۔

انگریز چونکہ جنگ ِ آزادی کا محرک اور ذمہ دار کامل طور پر مسلمانوں کو ٹھہراتے تھے اس لیے ان کی مشق ِ ستم کا نشانہ بھی یہی مسلمان ہی بنے،جب کہ ہندووں نے اپنےتاریخی کردارکو دہراتےہوئےاپنےفرنگی آقاؤں کے ساتھ مکمل وفاداری کا ثبوت مہیا کیا اور انگریزوں سے بڑھ کر مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھانا شروع کردیا ۔مسلمان اب چکی کےدو پاٹوں کےدرمیان بری طرح پھنس گئےتھے،فرنگیوں اورہندووں نےان سیاہ مسلمانوں پر ترقی کے تمام راستے بند کردیے اور ان کا تعلیمی،سیاسی ، معاشی،سماجی، تجارتی اورمذہبی غرض ہر سطح پر استحصال کرنےلگے۔انہوں نےمسلمانوں کی زندگی اجیرن کردی تھی ،ان کے اس طرزِ  عمل اور معاندانہ روش سے شکست خوردہ مسلمانوں میں ناامید ی اورمایوسی پھیلناایک فطری امر تھا،جس کے نتیجے میں قوم میں بے دلی اور بے چینی حد سے زیادہ بڑھ گئی اور جرأت و استقلال کی جگہ ان میں خوف و بزدلی نے لے لی ۔

مسلمانوں میں کوئی ا یسا رہنما موجود نہ تھا جو ان میں حوصلہ اور ہمت پیدا کرتا ، انہیں ضلالت و گمراہی کی شب ِ تاریک سے نکال کر ہدایت و آگہی کی صبح ِ نو سے ہمکنا ر کرتا ، ان کی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ بحال کرنے اور بھٹکے ہووں کو صراطِ  مستقیم پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ۔ مسلمانان ِ ہند کے سیاسی ، مذہبی اور معاشی انحطاط کا یہی وہ دور تھا جب اس عظیم مردِ  قلند ر نے اس دنیائے رنگ و بو میں شعور کی آنکھ کھولی اور اپنی مومنانہ بصیرت و فراست اور اعلیٰ فکری و علمی صلاحیتوں کے بل بوتے پر نہ صرف ان کی عظمت ِ رفتہ بحال کی بلکہ انہیں خود اعتمادی اور عزت نفس کی دولت بھی عطا کی ۔انہوں نے مسلمانوں کے ملی تشخص کو اجاگر کیا ۔ اپنے رشحات ِ فکر سے ان میں بیداری اور حرکت وعمل کی لہر پیدا کرد ی اور ملت کے کاررواں کی صحیح اور درست سمت رہنمائی کی ۔ ان کا یہ کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

اقبالؒ کی بڑی خوبی جو انہیں اپنے وقت کے دیگر رہنماوں اور اصحابِ  فکرو دانش سے ممیز و ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ساحل پر کھڑے ہو کر موجوں کے پیچ و خم کا تماشہ نہیں کرتے بلکہ موجوں سے لپٹ کر طوفانوں سے الجھنے اور شوریدہ سر لہروں کے تھپیڑوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی ہمت و حوصلہ بھی عطا کرتے ہیں ۔ وہ مرد ِ درویش اپنی قوم کے افراد میں موجود تمام بشری کمزوریوں اور اخلاقی انحطاط کے باوجود قطعی طور پر مایوس و نامراد و نا امید نظر نہیں آتا  بلکہ مشکلات و تکالیف اور مصائب وآلام میں صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے کی تلقین کرتے ہوئے ان کا حوصلہ بڑھاتا ہے ۔

اگر عثمانیوں پر کو ہ ِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

کہ خونِ  صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -