حکومتی دعوے اور فلاحی اداروں کی خدمات

حکومتی دعوے اور فلاحی اداروں کی خدمات

  

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے باعث کاروبار، صنعتیں، سیاحت، مذہبی مقامات سب بند ہو گئے۔ یوں تو اس صورتحال سے ہر طبقے کے لوگ متاثر ہوئے لیکن سب سے زیادہ پریشانی غریب محنت کش طبقے کو اٹھانا پڑی۔ لاک ڈاﺅن کے نتیجے میں غریب و تازہ روزی کما کر گھر کا چولہا چلانے والے ان افراد کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی، اوراس کڑے وقت میں انسانی زندگیاں بچانے کے لیے غریب افراد تک راشن ، ادویات اور ضروری سامان زندگی پہنچانا ضروری ہوگیا ۔ اس وقت جب حالات سے نبٹنے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتیں امداد کے محض اعلانات کررہی تھیں، فلاحی اداروں کی خدمات انتہائی لائق ستائش اور قابل تحسین رہی۔ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سینیٹر سراج الحق نے تو اپنے ذیلی ادارے الخدمت فائونڈیشن کے زیر انتظام چلنے والے 53 ہسپتال،81میڈیکل سینٹر ز، کرونا ٹیسٹ کی صلاحیت رکھنے والی 10 جدید ترین لیبارٹریز ،300 ایمبولنس، طبی عملے اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار لاکھوں کارکنوں کی خدمات وفاقی و صوبائی حکومتوں کو کروناوائرس سے نمٹنے کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں جماعت کا ہر کارکن قوم کی خدمت کے لیے تیار ہے ، اور ہمارے لاکھوں مخلص کارکن قوم کی خدمت میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ تشہیرسے بے نیاز الخدمت فا¶نڈیشن کے بڑے بڑے شہروں میں علاج معالجے کے لیے53 بڑے ہسپتال چل رہے ہیں۔،ڈسپنسریز،فارمیسیز،لیبارٹریزوکلیکشن پوائنٹس کے علاوہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے واٹر فلٹر پلانٹس، کفالت یتیم، تعلیمی وظائف،نادار گھرانوں میں راشن کی تقسیم ،بچت بازار اور دیگر پرو جیکٹس بھی جاری ہیں۔

اور جب کبھی ملک و قوم پر کٹھن وقت آیا ، الخدمت فاؤنڈیشن نے سب سے پہلے آگے بڑھ کر عوام کی خدمت کی، اور یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر ذات پات، رنگ و نسل ، فرقہ سے بالاتر ہو کر قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتی ہے ۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے عالمی میڈیا نے ہمیشہ الخدمت فاؤنڈیشن کی پرامن فلاحی سرگرمیوں کو سراہا ہے ۔ آج بھی کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے الخدمت کے رضاکاربلاکسی خوف و خطر قوم کی خدمت کررہے ہیں، اور فیلڈ ورکرز میں خواتین بھی شامل ہیں جوکہ امدادی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔ ان کا طریقہ کار بہت اچھا ہے پہلے ایک ٹیم آتی ہے جو گھروں کا سروے کرتی ہے ، افراد خانہ کی تعداد اور مالی حالات بارے آگاہی حاصل کرلیتی ہے ، اس کے بعد ایک دوسری ٹیم خاموشی سے مستحق گھروں میں امداد تقسیم کر کے چلی جاتی ہے۔ لاک ڈاؤن کے دنوں میں انہوں نے مستحق لوگوں کے گھروں تک رات کی تاریکی میں ایک ماہ کا راشن پیکیج پہنچایا تاکہ ان کی عزت نفس محفوظ رہے ۔ کرونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن کے دوران ریلوے کے قلیوں، غریب دیہاڑی دار مزدوروں، رکشہ ڈرائیوروں اور خواجہ سراؤں کا بھی خیال رکھا ۔ الخدمت فاﺅنڈیشن کے کارکنوں نے نا صرف کرونا وائرس کے خاتمہ کے لیے مساجد میں سپرے کیا بلکہ اس فلاحی تنظیم کے رضاکار مندروں، گوردواروں اور چرچوں وغیرہ میں بھی سپرے کرتے نظر آئے ۔ان کا مقصد یہ تھا کہ چاہے کسی کا کوئی بھی مذہب ہو، اس وائرس سے انسانیت کو بچانے کے لیے سب کی خدمت کرنی ہے ۔

اس دوران کرونا وائرس کا شکار مریضوں کے علاج میں مصروف الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے نائب صدر اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) سندھ کے سابق سربراہ ڈاکٹر عبدالقادر سومرو کرونا وائرس کے سبب انتقال کر گئے ، جو کہ کرونا کے مریضوں کے علاج میں مصروف تھے۔ مگر الخدمت فاﺅنڈیشن کے کارکنوں نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہوئے تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ خدمت خلق کا سفر جاری رکھا ۔ مجھے ترجمان جماعت اسلامی کنور محمد صدیق نے جماعت اسلامی کی اب تک کی جانے والی امدادی سرگرمیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کرونا متاثرین پر ابتک ایک ارب روپے سے زائد خرچ کر چکی ہے۔ ملک بھر میں آگاہی مہم برائے کرونا وائرس کے سلسلے میں بینر لگا ئے گئے ،لاکھوں ماسک اور سینی ٹائزر تقسیم کئے گئے ، سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز تک حفاظتی لباس پہنچایا گیا ۔لاک ڈاﺅن سے متاثر لوگوں میں کروڑوں روپے کا پکا پکایا کھانا اور راشن پیک تقسیم کیے گئے۔ 10الخدمت ہسپتالوں میں3،3 وینٹی لیٹرز اور10 پیشنٹ مانیٹرز کے ساتھ باقاعدہ آئی سی یو فعال کیے گئے۔ اور یہ سب مخیر حضرات کے جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن پر اعتماد کا مظہر ہے، جو کہ جانتے ہیں کہ صرف جماعت اسلامی کا الخدمت فاؤنڈیشن ہی وہ واحد ادارہ ہے جو ان کے عطیات کو مکمل دیانت داری کے ساتھ حقیقی مستحق لوگوں پر خرچ کرے گا ۔ جبکہ دوسری طرف وفاق اور صوبائی حکومتوں کے ریلیف پیکج کے ثمرات کہیں دیکھنے میں نہیں آرہے، بلکہ لمبی لمبی قطاروں اور تنگ جگہوں پر ہزاروں خواتین کو کھڑا کرکے کرونا وبا کے پھیلاؤ کا خطرہ مول لیا جارہا ہے۔اس موقع پر حکومت اگر جماعت اسلامی کی تنظیمی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے اور سبق سیکھے تو اس کی امدادی سرگرمیوں میں ایک تحریک پیدا ہو سکتی ہے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -