بدل دو باغباں ورنہ

بدل دو باغباں ورنہ
بدل دو باغباں ورنہ

  

حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ اور بابائے قوم قائد اعظمؒ  محمد علی جناح کا پاکستان  تو پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی ہوس اقتدار کی نذر ہو گیا۔ ان کے ہم صلاح جنرلوں کے ٹولے نے مشرقی پاکستان کو بھارت کی جھولی میں ڈال دیا۔جان و مال، عزت و آبرو، محب وطن و اسلام کے علاوہ  افواج پاکستان کی عزت و وقار کو  ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ مغربی پاکستان اب پاکستان تھا، جس پر بھٹو نے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے حکمرانی کی۔اخبارات و میڈیا اور بنیادی حقوق کے مسلسل تعطل اور ہنگامی حالات کے تسلسل کا ذکر بھی بیکار ہے، کیونکہ یہی متاثرہ ادارے اور طبقات بھٹو کی فسطائیت سے نجات دلانے والے جنرل محمد ضیاء الحق شہید اور ان کے ساتھ شہادت پانے والے سینئر جنرلز، افسران اور فوجی سب کو معتوب ٹھہرائے ہیں۔ 

ثناء خوان ہیں جو اب بھی قاتلوں کے

خدارا رحم ان دانشوروں پر 

 PNA نو پارٹیوں کا اتحاد تھا۔ میں پاکستان قومی اتحاد کی طرف سے شہر ڈیرہ غازی خان کی صوبائی اسمبلی کا امیدوار تھا۔ پہلے روز گرفتاری دینے کے لئے میری تجویز تھی PNA کے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سردار محمد شریف خان کھوسہ صاحب (اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے) گرفتاری دیں۔ تاکہ پولیس ڈنڈا چلاتے اور ظلم کرتے ذرا سوچے۔ پہلے روز گرفتاری دینے والوں میں میری یادداشت اور علم کے مطابق جناب مشتاق احمد خان چنگوانی ایڈووکیٹ سابق صدر بار،جناب خالد عبداللہ خان چنگوانی سینئر ایڈووکیٹ، ملک محمد سلیم صاحب ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، الحاج محمد قاسم خان کھتران یہ حضرات زندہ موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و سلامتی سے نوازے رکھے۔قاضی شمیم اکرامی صاحب اللہ تعالیٰ انہیں صحت و سلامتی دے بھی جیل میں تھے۔وقت گزرتا گیا۔ میاں نواز شریف اور بھٹو خاندان باری باری حکمرانی کرتے رہے۔ لوگ ان کے ہاتھوں بے حد تنگ آ گئے۔ان کی کرپشن کی داستانیں اور زیادتیاں روز افزوں رہیں۔ان کے ستائے ہوئے عوام نے یہ نہ سوچا، لیڈر بدل لیں۔ کشتیوں میں بیٹھنے والے یہ پہلے سوچ لیں۔ ”دور تک گہرا سمندر ہے کہیں ساحل نہیں“

ہم پاکستانی نہ اچھے عملی مسلمان بن سکے نہ محب وطن پاکستانی بن سکے۔ 

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہرو کے ساتھ 

پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں 

اب پھر جنگ زر گری اور اقتدار کی جنگ زوروں پر ہے۔حکمران ٹولہ ملک چلانے کے لئے آئے روز گیس، بجلی، مٹی کا تیل، پٹرول، ڈیزل  ہر شے کی قیمت بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔ کھانے پینے اور ضروریات  زندگی کی ہر شے مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ بچہ سقہ کی اس حکومت میں کسی شیخ چلی نے انہیں سستے بازار، چڑیا گھر، آرٹس کونسلیں اور فنکاروں کی تربیت اور مقابلے منعقد کرنے پر لگا دیا ہے۔ عوام کو بھکاری بنانے کے لئے کھانے اور رہائش کے لئے لنگر خانے بنانے کی ترکیب سمجھا دی ہے۔کوئی غریب سے غریب بھی بھوک سے نہیں مرتا۔ اس کی زندگی کے لئے اللہ تعالیٰ با عزت سبب بنا دیتا ہے، مگر لوگوں کی عزت نفس مجروح کرنے کے لئے یہ لنگر خانے غریب قوم کے خزانے پر بوجھ ہے۔ حکمران ٹولہ اور تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والا ٹولہ دونوں جانتے ہیں۔ یہ مضبوط کرسی بے شک نہ ہو، مگر یہ طے ہے کہ تحریک انصاف نے پانچ سال ہر صورت حکمرانی کرنی ہے۔اگلے پانچ سال کون آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم۔ لوگ اس طوائف الملوکی، بے روزگاری، مہنگائی، بدامنی، رشوت کی انتہا، ظلم اور نا انصافی سے تنگ آ کر یہ کہتے، مگر عمل نہیں کرتے۔

بدل سکو تو بدل دو یہ باغباں ورنہ 

یہ باغ سایہ سرو و سمن کو ترسے گا 

عمران خان کرکٹ کے بہترین کھلاڑی تھے، جنہوں نے ملک کے لئے نیک نامی کمائی۔ ان کی ٹیم نے ان سے مخلص اور کھیل سے بھی مخلص ہو کر جان لڑائی۔ اب عمران خان کے وعدوں کا یہ حال ہے کہ 

”تیرے وعدے کو بت حیلہ جو نہ قرار ہے نہ قیام ہے“

مزید :

رائے -کالم -