ہیلری 348 ووٹ حاصل کرکے صدر بن جائیں گی،تجزیہ نگار

ہیلری 348 ووٹ حاصل کرکے صدر بن جائیں گی،تجزیہ نگار

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکہ کے بالواسطہ صدارتی انتخابات کیلئے پولنگ کی تاریخ سے دس ہفتے قبل آج جو صورتحال نظر آ رہی ہے اس کے مطابق سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف واضح اکثریت حاصل کرکے صدر بن جائیں گی۔ یہی تصویر انتخابی جائزوں میں نظر آ رہی ہے اور کم از کم گزشتہ ایک ماہ کے دوران کسی ایک بھی تجزیہ نگار نے اس تاثر کی نفی نہیں کی۔ تمام تر چھوٹے موٹے مسائل کے باوجود ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم پورے اعتماد سے جاری ہے جبکہ اس کے برعکس ڈونلڈٹرمپ کے کیمپ میں جو کھلبلی مچی ہے وہ بتا رہی ہے کہ ان کے امیدوار کی پوزیشن کمزور جارہی ہے۔ ٹرمپ کے کیمپ میں جمعہ کے روز ایک اہم تبدیلی سامنے آئی جب ری پبلکن امیدوار کی انتخابی مہم کے سربراہ پال مینا فورٹ کے استعفیٰ کا اعلان ہوا۔ انہوں نے یہ استعفیٰ خود نہیں دیا بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے استعفیٰ طلب کیا ہے جو دراصل امیدوار کی روس کے بارے میں پالیسی پر نکتہ چینی کا ردعمل ہے جس کا مقصد اس نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش ہے جو انتخابی مہم کے چیئرمین کے حوالے سے مہم کو پہنچ رہا تھا۔ پال مینا فورٹ کی کمپنی نے 2010ء میں یوکرین کے ایک سابق صدر کیلئے کام کیا تھا اور ری پبلکن امیدوار کے کیمپ سے روسی صدر کے حق میں جس پالیسی کا اظہار ہو رہا تھا اس کا ذمہ دار انتخابی مہم کے مستعفی ہونے والے سربراہ کو قرار دیا جا رہا تھا۔ جہاں تک ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کا تعلق ہے وہ کامیابی سے جاری ہے اگرچہ ان کے وزیر خارجہ کے غیر ذمہ داری سے چلانے کا مقصد مسلسل ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ ایک تازہ ترین معاملہ یہ ہوا ہے کہ ایک وفاقی جج نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ ای میل کے استعمال سے پیدا ہونے والے سوالوں کا تحریری جواب عدالت میں پیش کریں۔ تاہم جج ایمٹ سولیون کی طرف سے جاری ہونے والے حکم کا ہیلری کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ انہوں نے صرف تحریر دینی ہے اور ذاتی طور پر پیش نہیں ہونا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جواب داخل کرنے کیلئے جو حتمی تاریخ دی گئی ہے وہ صدارتی انتخابات کی تاریخ کے بعد کی ہے۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے گوروں کے علاقے مشی گن میں اپنی انتخابی ریلی کے دوران سیاہ فام امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر اوبامہ کے دور میں انہیں کیا حاصل ہوا ہے اور انہیں تسلی دی ہے کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو ان کی صدارت میں سیاہ فام شہریوں کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ ٹرمپ کے تازہ بیان سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ سیاہ فام ووٹروں کی اکثریت ہیلری کلنٹن کی حامی ہے۔ جہاں تک انتخابی جائزوں اور تبصروں کا تعلق ہے تو امریکہ کے ایک انتہائی معتبر سیاسی تجزیہ نگار لیری ساباٹو نے تمام ریاستوں کے ووٹوں کی پوری جمع تفریق کے بعد یہ نتیجہ پیش کیا ہے کہ آج کی صورتحال کے مطابق 538 ارکان کے الیکٹورل کالج میں سے ہیلری کلنٹن کو 348 ووٹ مل سکتے ہیں جبکہ انہیں صدربننے کیلئے 270 ووٹوں کی ضرورت ہے۔

مزید : صفحہ اول