3ماہ سے 6ماہ کے دووران این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کردیں: وفاقی حکومت

3ماہ سے 6ماہ کے دووران این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کردیں: وفاقی حکومت

اسلام آباد (آن لائن) وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمان نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ نے این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل کا عندیہ دے دیا ہے مرکز تمام صوبوں سے رابطہ میں ہے تاہم صوبوں کا متفق ہونا ضروری ہے ۔ تین سے چھ ماہ میں نئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کر دیں گے ۔ صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کر کے وفاق کو مضبوط کر رہے ہیں یہ تاثر غلط ہے کہ بندر بانٹ کی جا رہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز ایوان بالا میں قومی فنانس کمیشن کے عملدرآمد کے بارے میں دوسری ششماہی رپورٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کر کے وفاق کو مستحکم کیا جا رہا ہے وفاق صوبائی خود مختاری کا بھی احترام کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کو ان کا مالی حصہ باقاعدگی سے ملتا ہے ۔ نیا ایوارڈ تک رہتا ہے ۔ اس پر تمام صوبوں کا اتفاق رائے ضروری ہے ۔محصولات کی وصولی سے متعلق انہوں نے کہاکہ جس صوبے سے جتنا ٹیکس جمع ہوتا ہے اسی حساب سے ہم تقسیم کرتے ہیں یہ ملک کا 9 واں این ایف سی ہے تمام صوبوں کو ان کے حصے کا پیسہ دیا جاتا ہے ۔ دہشتگردی سے متاثر ہونے کی بنا پر کے پی کے کو ایک فیصد زیادہ دیا جاتا ہے یہ تاثر غلط ہے کہ این ایف سی کا انعقاد نہیں کیاجا رہا ہے ۔ وفاق کے پاس اکٹھا ہونے والا ریونیو طے شدہ ہے کے تحت صوبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر چھوٹے صوبوں کو شدید تحفظات ہیں ۔ چھوٹے صوبوں کا احساس محرومی دور کیا جانا چاہئے ۔ سینیٹر مخسن لغاری نے کہا کہ دولت کی منصفانہ تقسیم نہ ہوئی تو وفاق میں دوریاں پیدا ہوں گی ۔ پانچ سال بعد این ایف سی میں آئینی لحاظ سے ترمیم ہونی چاہئے ۔سینیٹر سلیم مانڈیوالہ نے کہا کہ حکومت نیا این ایف سی جاری نہیں کرنا چاہتی ہے ۔ آخری مرتبہ اجلاس 1910 میں این ایف سی جاری کیا گیا تھا ۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ میں دولت کی تقسیم کا عمل جاری ہے جس سے عوام اور سیاست دانوں میں تفریق پیدا ہو گئی ہے ۔ آبادی کے لحاظ سے منصفانہ تشہیر کا عمل ہونا چاہئے ۔آبادی کے ساتھ ساتھ وسائل کی تقسیم کا عمل پسماندگی کی بنیاد پر بھی کیا جائے ۔ ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی نے کہاکہ صوبوں کو اعتماد میں لینا چاہئے ٹیکس کے بہتر نظام سے غربت ختم ہو گی ۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ این ایف سی کے معاملہ پر سندھ سے امتیازی سلوک بڑھتا جا رہا ہے جس پر ہم احتجاج کرتے ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر