شاہراہِ قراقرم کا متبادل  (2)

شاہراہِ قراقرم کا متبادل  (2)
شاہراہِ قراقرم کا متبادل  (2)

  

1966ء میں جب شاہراہِ قراقرم کی تعمیر کا آغاز ہوا تو جو راستہ اس کے لئے منتخب کیا گیا وہ دشوار ترین روٹ تھا اور جیسا کہ پہلی قسط میں بیان کیا گیا اس دشوار گزاری کا سبب انڈیا کی طرف سے (پاکستان پر) حملے کا خوف تھا۔ آج سے نصف صدی پہلے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ چین، امریکہ کی ہمسر عسکری قوت بن جائے گا۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی صرف تعداد میں کثیر تھی۔ باقی جہاں تک اسلحہ و بارود کی کثرت کا تعلق تھا تو صرف سوویٹ یونین ہی امریکہ کا حریف تھا۔ اسی لئے اس دور میں دنیا یک قطبی نہیں دو قطبی (Bi-poler) تھی یعنی دونوں  قوتیں (امریکہ اور سوویت یونین) سپر پاور کہلاتی تھیں۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں چین نے پاکستان کی یہ مدد کی تھی کہ انڈیا کو دھمکی دی تھی کہ وہ اپنی بھیڑوں کے ریوڑ ان شمالی علاقوں سے دور لے جائے جو تبت اور لداخ کے قرب و جوار میں تھے۔ 1962ء کی انڈو چائنا وار میں اگرچہ چین نے انڈیا کا ناطقہ بند کر دیا تھا، لیکن پاکستان کو یہ پیغام نہیں دیا تھا کہ وہ کشمیر پر قبضہ کر لے۔ یہ موضوع کافی دیر تک زیر بحث بنا رہا کہ امریکہ نے ایوب خان کو منع کیا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر پر حملہ نہ کرے اور یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ انڈیا سے کہے گا کہ کشمیر میں رائے شماری کروا کر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے۔

1965ء کی جنگ میں پاکستان نے انڈین آرمی کو کامیابی سے روک لیا تھا۔ اور ہم نے اسی ’روک‘ کو اپنی فتح سے تعبیر کر لیا تھا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب قراقرم ہائی وے کی تعمیر شروع ہوئی تھی تو اس وقت انڈو پاک عسکری مساوات میں انڈیا کو ہم پر برتری حاصل تھی۔ اس برتری کا توڑ یہ تھا کہ پاکستان مغربی بلاک سے نکل کر مشرقی بلاک (چین)کی طرف آئے لیکن چین میں وہ عسکری دم خم نہیں تھا کہ پاکستان کی بھاری ہتھیاروں کی ذیل میں کوئی زیادہ قابل ذکر مدد کر سکے۔

یہ تو جب پاکستان نے 1872ء میں چین کے ماؤزے تنگ سے نکسن کی ملاقات کروانے میں ایک کلیدی رول ادا کیا تو اس سٹرٹیجک پاک چین عسکری پیکیج کا آغاز ہوا جو بعد میں بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گیا کہ اب انڈیا، پاکستان پر حملہ کرنے کی حماقت نہیں کر سکتا۔ گزشتہ سے گزشتہ برس 26فروری 2019ء کو اس نے یہ حماقت ضرور کی تھی لیکن اس کے بعد دلِ بے قرار کو قرار آ گیا!

پاکستان کو چین سے ملانے والی دوسری شاہراہ کا تصور ابھی معرضِ تخیل میں ہے۔ ”پاکستان ٹوڈے“ میں غلام عباس نے  15جنوری 2021ء کے شمارے میں یہ خبر بریک کی کہ حکومتِ پاکستان نے گلگت۔ بلتستان کے ’ورکس ڈپارٹمنٹ‘ کو(8جنوری 2021ء کو) ایک لیٹر لکھ کر یہ ہدائت کی ہے کہ وہ پاک چین متبادل شاہراہ کے لئے ایک کانسپٹ کلیئرنس پروپوزل (Concept Clearance Proposal) تیار کرے اور اس امر کا جائزہ لے کہ آیا CPEC کے دائرہ عمل میں ایسی متبادل سڑک تعمیر کی جا سکتی ہے جس کی چوڑائی 33فٹ ہو گی اور وہ چین کے صوبہ سنکیانگ میں واقع شہر کاشغر سے سیدھی جنوب کی طرف آئے گی اور شگّر،سکردو اور استور کے اضلاع سے ہوتی ہوئی مظفر آباد (آزاد جموں و کشمیر) تک چلی جائے گی۔

یہ مجوزہ شاہراہ، KKH سے 350 کلومیٹر کم طویل ہو گی۔ گلگت بلتستان کے تینوں اضلاع (شگر، سکردو، استور) کے متعلقہ محکموں کو بھی ٹاسک دے دیا گیا ہے کہ وہ اس نئی شاہراہ کی تعمیر کے قابلِ عمل ہونے کا ایک تفصیلی جائزہ مرتب کریں اور اپنی صوبائی حکومت کی معرفت پاکستان کی وفاقی حکومت کی وزارتِ مواصلات کو مطلع کریں کہ اس شاہراہ کی تعمیر پر لاگت کا تخمینہ کیا ہو گا اور اس میں کلورٹ، پل، انڈر پاس، اوور پاس وغیرہ کہاں کہاں بنائے جائیں گے۔ گلگت۔ بلتستان کے وزیر مواصلات میسم خان (Maisam Khan) نے حال ہی میں فیڈرل وزیرِ مواصلات و ڈاک خانہ جات مراد سعید سے ملاقات کی ہے۔ مراد سعید نے بھی اس شاہراہ کی تعمیر کو ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ یہ منصوبہ قابلِ عمل ہے اور اس کی تعمیر پی ٹی آئی حکومت کا ایک عظیم تعمیراتی کارنامہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ نوید بھی سنائی کہ جب CPEC کے متعلقہ اربابِ اختیار سے یہ ’کانسپٹ کلیئرنس پروپوزل‘ منظور ہو جائے گی تو اس سال کے آخر تک اس میگاپراجیکٹ پر کام شروع ہو جائے گا۔

پاکستان کے قیام سے پہلے چین کے شہر یارقند سے GB کے شہر سکردو تک کا راستہ،(براستہ شگر) ایک قدیم روٹ ہوا کرتا تھا اور تجارتی قافلوں کی گزرگاہ بھی تھا۔ اگر یہ روٹ بحال ہو جاتا ہے تو اس سے اس خطے کی تقدیر بدل جائے گی۔ یارقند، چین کا ایک شاداب شہر ہے۔ اس کے آس پاس کی سرزمین اگرچہ صحرائی ہے لیکن یارقند میں سبزہ و گل کی فراوانی ہے۔ اس لئے اس کو ’سنکیانگ کا نخلستان“ بھی کہا جاتا ہے۔ سب سے بڑی دل خوش کن خبر GB کے باسیوں کے لئے یہ ہو گی کہ یہ روٹ سارا سال کھلا رہے گا اور چین کے ساتھ پاکستان کے اس صوبے کے سماجی اور اقتصادی روابط بہت مستحکم ہو جائیں گے۔

مجھے گلگت سے براستہ استور، سکردو جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ یہ ایک طویل سفر ہے اور حد درجہ دشوار گزار بھی ہے۔ استور اور سکردو کے درمیان سڑک کچی ہے اور راستے میں کئی مقامات پر کوہستانی ندیوں پر بنائے گئے پلوں سے یک طرفہ ٹریفک ایک تکلیف دہ سفر ہے۔ سردیوں کے موسم میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے کئی کئی روز تک سڑک بند رہتی ہے۔ نئی صوبائی حکومت کو سب سے پہلے ان سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کی ضرورت ہو گی۔

اس مجوزہ متبادل شاہراہ کے سلسلے میں دو تین باتیں بطور خاص قابلِ غور ہیں …… ایک یہ کہ اگر  اس کی چوڑائی 33فٹ (11گز) ہو گی تو یہ دورویہ سڑک ہوگی۔ یارقند سے شگر تک کا وہ حصہ ء زمین جو چین میں ہے وہ نسبتاًہموار ہے۔ کہیں کہیں پہاڑیوں کے سلسلے ضرور ہیں لیکن پاکستانی حصے میں نشیب و فراز کی کثرت ہے اور زمین اتنی سخت اور سنگلاخ ہے کہ اس کو کاٹ کر 33فٹ چوڑی دو رویہ سڑک بنانا آسان نہیں ہوگا۔ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) آرمی انجینئرنگ کور کی ایک معروف تنظیم ہے جسے سڑک سازی کا وسیع تجربہ ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ نجی سڑک ساز کمپنیاں بھی شامل کر دی گئیں یا CPEC کے چینی ٹھیکے داروں نے یہ شرط بھی لگائی کہ وہ اپنی مشینری اور اپنی لیبر اپنے ہاں سے لائیں گے تو وہ یہاں کی مقامی لیبر کے مقابلے میں زیادہ بہتر تربیت یافتہ ہو گی۔شاہراہِ قراقرم کی تعمیر کے دوران پاکستان کو یہ تجربہ ہو چکا ہے۔ اس دوران، پاکستان کے کاریگروں اور مزدوروں کی اموات کا گراف چینی کاریگروں کی اموات سے چارگنا زیادہ تھا۔

اس سڑک کا دوسرا پہلو، اس کی سٹرٹیجک اہمیت ہے۔ کارگل لداخ کے علاقے میں انڈیا نے پکی سڑکوں کا جال بچھا کر اپنی لانگ رینچ آرٹلری ڈیپلائے کر دی ہے۔ میرا خیال ہے پاکستان نے بھی اسی انڈین تھریٹ کو کاؤنٹر کرنے کے لئے اس شاہراہ کا ڈول ڈالا ہے۔اور یہ 33فٹ سڑک کی چوڑائی بھی شاید اسی لئے رکھی گئی ہے کہ اس پر بھاری عسکری ہتھیاروں کی آمد و رفت (ٹرانسپورٹیشن) آسان بنا دی جائے۔ انڈیا لداخ میں دولت بیگ اولدی پر اپنی فضائیہ کی بھی ایک تعداد سٹیشن کر چکا ہے۔ علاوہ ازیں ایک انفنٹری بریگیڈ کی نفری کے لئے بیرکوں کی تعمیر بھی وہاں مکمل کی جا چکی ہے۔ خیال ہے کہ پاکستان بھی مستقبل قریب میں اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے سکردو ائر بیس کو اِپ گریڈ کرے گا تو اس کی انصرامی (Logistic)سپورٹ کے لئے بھی یہ شاہراہ بہت مفید ثابت ہو گی۔ اگر انڈیا، لداخ میں مواصلات کا جال بچھا چکا ہے اور وہاں ہزاروں کی تعداد میں اپنے ٹروپس بھی لا کر مقیم کر چکا ہے تو چین بھی یہ چاہے گا کہ انڈیا کو سینڈوچ کرنے کے لئے اس متبادل شاہراہ کو جلد سے جلد مکمل کرے۔

اس سڑک کا تیسرا پہلو جو قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ سکردو اور استور سے نکل کر جب یہ شاہراہ جنوب میں آزادکشمیر میں داخل ہو گی تو لائن آف کنٹرول کا ”قرب“ بھی اسے حاصل ہوگا۔ اس ایل او سی پر آئے دن پاک فوج کی جو اتلافات ہو رہی ہیں اور سویلین شہریوں کو جس تواتر اور تسلسل سے انڈیا نے اپنا ہدف بنایا ہوا ہے اس کا ایک توڑ یہ بھی ہے کہ چین کو یہاں لایا جائے۔ میرا مطلب چین کی افرادی قوت سے نہیں بلکہ اس کی اسلحی قوت سے ہے۔

یہ بات اب راز نہیں رہی کہ پاکستان آنے والے چند مہینوں میں چین سے سینکڑوں میڈیم گنوں کی خریداری کر رہا ہے۔ اس کے آرڈرز دیئے جا چکے ہیں اور بہت جلد ان کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ سکردو میں ایک فارورڈ ائر بیس اور مظفر آباد (آزادکشمیر) کے علاقے میں ایک نیا پاکستانی آرٹلری بریگیڈ سٹیشن کر دیا جائے تو اس سے پاکستان کی دفاعی پوزیشن بڑی حد تک مستحکم ہو جائے گی……

اس کے جواب میں انڈیا، چین کو بحرہند میں روکنا چاہتا ہے ……اور اس موضوع پر انشاء اللہ کسی اگلے کالم میں بحت کی جائے گی۔(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -