عید الاضحٰی۔۔۔۔۔۔۔یومِ تسلیم ورضا

عید الاضحٰی۔۔۔۔۔۔۔یومِ تسلیم ورضا
عید الاضحٰی۔۔۔۔۔۔۔یومِ تسلیم ورضا

  

ابوالانبیاء سیدنا ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام کی ساری زندگی خدا پرستی،حق گوئی اور فداکاری کا بہترین نمونہ ہے۔اسی لئے قرآن کریم میں اُنہیں (حنیفا مسلماً ) سب طرف سے کٹ کر رب کریم کیطرف ہو جانے والا اور اپنے آپ کو رب تعالی کے حوالے کر دینے والا جیسے اوصاف سے یاد کیا گیا ہے اور اسلام کو ملّتِ ابراھیمی علیہ السلام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حضرت ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام اپنے فضائل میں حضور اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب انبیائے کرام علیھم السلام سے ممتاز ہیں۔ 

حضرت ابراھیم علیہ السلام کی زندگی یوں تو ابتلاء وآزمائش میں گزری اور اللہ تعالی کے ہاں اپنے مقربین کا یوں ہی امتحان لیا جاتا ہے تاکہ کوئی نِرا دعوی نہ کر سکے لیکن آزمائشوں میں حضرت ابراھیم علیہ السلام ہر قدم پر تسلیم ورضا کا پیکر بنے رہے جس کے نتیجے میں خیرِ اُمم کو بھی اس ہستی کی اتباع کا حکم دیا گیا۔حضرت ابراھیم علیہ السلام کو بچپن ہی میں جب بادشاہِ وقت نے توحید کی بات پر جمے رہنے کے جرم میں آگ میں ڈالا تھا۔اس وقت بھی انہوں نے فرشتوں تک کی مدد لینے سے انکار کر کے صبر واستقامت کیساتھ توحیدِ خالص کا ثبوت پیش کیا تھا۔اس کے بعد بڑھاپے میں ملے ہوئے اکلوتے شیرخوار بیٹے حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام اور نیک بیوی سیدہ ہاجرہ سلام اللہ علیھا کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ کر مکمل تسلیم ورضا کا ثبوت فراہم کیا۔اسی پر بس نہیں،جب وہ بیٹا قوتِ بازو بننے کے قابل ہوا تو خواب میں اللہ تعالی کا حکم واشارہ پا کر اسے بھی اللہ تعالی کی راہ میں قربان کرنے کیلئے آمادہ ہو گئے ۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام کے یہ تمام واقعات اور خصوصا بیٹے کی قربانی کا یہ واقعہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالی کے ہر حکم کو بلا چوں وچرا مان لینا چاہیئے ۔اللہ تعالی کے حکم پر جبینِ نیاز خم کر دینا ہی مسلمان کا شیوہ ہے اور ہر سال عیدالاضحی و حج بیت اللہ شریف کے موقع پر اس خاندانِ سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام کی ان عاشقانہ اداؤں کو دہرانے کا مقصد اسی جذبے کو موجزن کرنا ہے کہ کسی بھی حال میں اطاعت اور رضا و تسلیم کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیا جائے ۔۔۔

 دس ذی الحجہ وہ مبارک تاریخی دن ہے،جس میں امت مسلمہ کے موسسّ و مورثّ اعلٰی حضرت سیدنا ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی دانست میں اللہ تعالی کا حکم واشارہ پا کر اپنے لختِ جگر حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو انکی رضا مندی سے قربانی کیلئے اللہ تعالی کے حضور میں پیش کر کے اور ان کے گلے پر چھری رکھ کر اپنی سچی وفاداری اور کامل تسلیم ورضا کا حکم دیا۔اور اللہ تعالی کے عشق ومحبت اور قربانی کے اس امتحان میں ان کو کامیاب قرار دے کر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو زندہ وسلامت رکھ کر انکی جگہ ایک جانور کی قربانی قبول فرمائی اور ابو الانبیاء حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کے سر پر امامت کا تاج رکھ دیا اور انکے اس عمل کو قیامت تک کیلئے رسمِ عاشقی قرار دے دیا۔پس اس دن کو اُس عظیم تاریخی واقعے کی حیثیت سے تہوار قرار دے دیا گیا۔چوں کہ اُمتِ مسلمہ ملّت ابراھیمی  کی وارث اور اسوہِ خلیلی کی نمائندہ ہے، اس موقع پر یعنی 10ذی الحجہ میں پورے عالم اسلامی کا حج بیت اللہ میں اجتماع اور مناسک حج میں قربانی وغیرہ اس واقعے کی گویا اصل و اوّل درجے کی یادگار ہیں ۔ ہر اسلامی شہر اور بستی میں عیدالاضحی کی تقریبات،نماز وقربانی وغیرہ اسکی گویا نقل اور دوم درجے کی یادگار ہیں۔ انہیں وجوہات کی بنا پر اس دن کو  "یوم العید " یعنی عید کا دن کہتے ہیں ۔

ابو الانبیاء حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی دعا اے میرے رب! مجھے صالح بیٹا عطا فرما۔۔!! چنانچہ آپکی یہ دعا قبول ہوئی اور آپ کو ایک نیک فرزند کی خوشخبری سنائی گئی، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے کہ ترجمہ ! پس ہم نے انہیں ایک حلیم المزاج بیٹے کی خوشخبری دی۔

اللہ تعالی نے اس آیت مبارکہ میں ایسے بیٹے (علیہ السلام) کی آپ علیہ السلام کو بشارت سنائی،جو کہ حلیم المزاج و صاحبِ برداشت ہو اور حلیم بھی اس درجے کا کہ باپ نے اپنا خواب سنا کر خود انہیں ذبح کرنے پر مشورہ کیا تو انہوں نے نہایت متانت کیساتھ اس عظیم ترین امتحان کیلئے خود کو پیش کر دیا چنانچہ ارشاد ربانی ہے کہ ترجمہ! پس جب وہ (بیٹا اس عمر کو ) پہنچا کہ انکے ساتھ دوڑنے لگے،تو(حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اس سے ) کہا ؛ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تم کو ذبح کرتا ہوں""

بعض روایات میں آتا ہے  کہ یہ خواب حضرت ابراھیم علیہ السلام نے تین راتوں تک مسلسل دیکھا اور یہ بات حقیقت ہے کہ حضرات انبیائے کرام علیھم السلام کا خواب بھی وحی ہوتا ہے،اس طرح حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کو اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کرنے کا حکم دیا گیا۔نیز خواب کے ذریعے اس حکم کے نازل ہونے میں یہ حکمت پوشیدہ تھی کہ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کی آزمائش تام ہو ،اور باوجود تاویلات کی گنجائش کے حضرت خلیل علیہ السلام اس پر سر تسلیمِ خم کر دیں، جو مزاجِ یار میں آئے۔مذکورہ بالا آیت میں حضرت ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام کی مشکلات کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ بڑھاپے کی اکلوتی اولاد جب ایسی عمر کو پہنچ گئی،جبکہ وہ اپنے باپ کیلئے قوتِ بازو بنے،اس وقت کہا گیا کہ اسے ہمارے حکم واشارہ پر قربان کر دیجیئے۔حضرت ابراھیم علیہ السلام نے جب اپنے خواب کا ذکر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کیا گویا اپنے بیٹے کو آزمانا چاہتے تھے کہ دیکھیں کہ ابن خلیل اللہ علیہ السلام کیا جواب دیتا ہے۔۔؟؟ظاہر ہے جن کا باپ خلیل اللہ ہو انکا بیٹا بھی ذبیح اللہ ہی ہو گا،اس طرح حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھی حکم الہی کی تکمیل میں اپنا شریک کر لیا ،اب بیٹے نے بھی خدا کی راہ میں قربان ہونے کیلئے حامی بھر دی اور ظاہر ہے کہ جسے خود آگے چل کر منصبِ نبوت پر فائز ہونا تھا،اس کا وہی جواب ہو سکتا تھا جو کہ ذبیح اللہ علیہ السلام نے دیا ،"کہ ابا جان! جو آپ کو حکم دیا گیا ہے اُسے کر گزریے ۔ یعنی حکم ربی پر کامل رضا کا اظہار کرتے ہوئے اپنے والدِ بزرگوار کو یہ کہتے ہوئے کہ اللہ تعالی نے چاہا تو آپ مجھے ضرور صبر کرنے والا پائیں گے اطمینان دلایا ۔ اس خواب میں انہوں نے اُوّلاً تو  ادب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ان شآءاللہ کا لفظ استعمال فرمایا دوسرے خود کو اس عظیم ترین آزمائش پر صبر کرنے والا کہنے کی بجائے تواضع و انکساری کیساتھ عرض کیا کہ جیسے اللہ کے اور بہت سارے بندے صبر کرنے والے ہوئے ہیں۔آپ انہی میں مجھے بھی شامل پائیں گے ۔اس میں خود پسندی کا ادنٰی شائبہ بھی موجود نہیں اور یہی اللہ تعالی کے نیک بندوں کی شان ہوتی ہے،اسی کو فرقان کریم میں بیان فرمایا ہے کہ دونوں باپ بیٹا اللہ تعالی کے حکم کے آگے سر تسلیمِ خم ہو گئے،یعنی جب دونوں میں ایک نے ذبح کرنے اور دوسرے نے ذبح  ہونے کا پختہ ارادہ کر لیا تو بعض روایات سے پتا چلتا ہے کہ شیطان مردود نے تین مرتبہ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کو بہکانے کی کوشش کی ،جس پر انہوں نے اسے ہر بار سات کنکریاں مار کر بھگا دیا اور آج تک لاکھوں مسلمان اسی یاد کو تازہ کرتے ہوئے حج بیت اللہ شریف کے موقع پر منٰی کے میدان میں جمرات پر کنکریاں مارتے ہیں۔ 

ارشادِ ربانی ہوتا ہے کہ اور (باپ نے بیٹے کو) پیشانی کے بَل لٹا دیا "" حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہےکہ اس طرح کروٹ کے بَل لٹایا کہ پیشانی کا ایک کنارہ زمین سے لگ گیا اور لغت کے اعتبار سے یہی تفسیر راجح ہے، اس لیے کہ عربی زبان میں پیشانی کی دونوں کروٹوں کو جبیں اور پیشانی کے درمیانی حصے کو جبہہ کہتے ہیں اس کے بعد حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے دستِ مبارک کا پورا زور لگا دیا مگر چھری کو اجازت نہ تھی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ایک رونگٹا بھی کاٹے،جیسا کہ مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور چھری کے درمیان پیتل کا ایک ٹکڑا حائل کر دیا اور یہ باپ بیٹا یوں ہی اللہ تعالی کے حکم کو پورا کرنے میں مشغول تھے یہاں تک کہ اللہ تعالی کیطرف سے ندا آتی ہے کہ ترجمہ! اور ہم نے انہیں پکارا ! اے ابراھیم ! تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ؛ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں ، بیشک ! یہ صریح آزمائش تھی۔۔۔۔۔۔""""

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نظر اٹھا کر دیکھا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک مینڈھا لیے کھڑے ہیں حضرت ابراھیم علیہ السلام نے وہ مینڈھا ذبح کردیا ۔۔اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔۔

اور اسی ذبیحے کو عظیم کہا گیا کیونکہ یہ براہِ راست اللہ تعالی کیطرف سے بھیجا گیا تھا یہ ہے وہ قربانی جو حضرت ابراھیم خلیل اللہ واسماعیل ذبیح اللہ علیھما السلام کی حیات طیبہ میں پیش آئی ۔ ان دونوں حضرات نے برضا و رغبت اس عظیم ترین امتحان میں کامیابی حاصل کر لی، اور رہتی دنیا تک کیلئے یہ معیار قائم کر دیا کہ اللہ تعالی کے حکم کو پورا کرنے میں اپنی جان اور جاں سے زیادہ عزیز کسی شئے کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے ۔ اللہ تعالی ہمارے اندر بھی یہی جذبۂ ایمان پیدا فرمائے ۔ آمین 

عیدالاضحٰی کے موقع پر مسلمانوں کیلئے اہم پیغام یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی اطاعت و اتباع ، تسلیم ورضا کیساتھ بسر کریں۔قربانی سیدنا ابراھیم خلیل اللہ و سیدنا اسماعیل ذبیح اللہ علیھما السلام کی عملی قربانی کی یادگار ہے ، تو جس طرح انہوں نے اللہ تعالٰی کے سامنے سرتسلیمِ خم کر دیا ہمیں بھی اپنی پوری زندگی اُسی کی مطابق ڈھالنی چاہیئے۔

قربانی کا مفہوم اللہ تعالی کی قربانی ونزدیکی کا حصول ہے۔ آج کے دن قربانی کے عمل سے بڑھ کر کوئی عمل بھی اللہ تعالی کے ہاں محبوب نہیں ، لہذا صاحبِ استطاعت خواتین وحضرات اس عمل کو اخلاصِ نیت کیساتھ اللہ تعالی کے حضور پیش کریں اور قبولیت کی دعائیں اور تکبیرات کا اہتمام کریں، اپنے عزیز واقارب سمیت فقرآء و مساکین کو عیدالاضحی کی خوشیوں میں شریک کیجیئے ۔ مسلم اُمّہ کی سلامتی اور وطن عزیز پاکستان کے امن وسلامتی واستحکام کیلئے دعاؤں کا اہتمام کیجیئے۔

نوٹ: یہ لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -