بھارت کے متعلق گومگو کی پالیسی ختم کی جائے

بھارت کے متعلق گومگو کی پالیسی ختم کی جائے

وزیر اعظم نواز شریف گزشتہ ماہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے امریکہ گئے، یہ کوئی غیر اہم واقعہ نہیں تھا۔ ایک ملک کے منتخب وزیراعظم کو دنیا بھر کی قیادت کے سامنے اور نمائندہ فورم پر اپنا نقطہ نظر، اپنی مشکلات، خطے کی صورت حال، عالم اسلام کے تکلیف دہ حالات، بڑی طاقتوں کی مسلم ممالک میں سفاکانہ جارحیت، اقوام متحدہ کی بے بسی و بے حسی، ہمسایوں کی ریشہ دوانیاں اور پوری دنیا پر مسلط آگ اور خون کی جنگ کے ساتھ تیسری دنیا میں جہالت، غربت، افلاس اور بیماری کے بڑھتے ہوئے سائے پر گفتگو کرنے اور اپنی بصیرت کے مطابق ان کا حل پیش کرنے کا موقع میسر آ رہا تھا جو بذاتِ خود ایک اہم ایجنڈا تھا، لیکن نواز شریف کے نادان دوستوں نے اسے پاک بھارت تعلقات سے جوڑ دیا۔ چونکہ خود نواز شریف بھی اس رو میں بہہ چکے تھے، اس لئے ان نادان دوستوں نے اپنے سیاسی ہمنواو¿ں اور میڈیا کے نا سمجھ لوگوں کے ذریعے اس ملاقات کو اتنا بڑھا چڑھا دیا کہ ہر شخص کو یہ محسوس ہونے لگا کہ نواز شریف امریکہ صرف من موہن سنگھ سے ملنے جا رہے ہیں، جنرل اسمبلی میں خطاب تو محض بہانہ ہے۔

جنرل اسمبلی سے نواز شریف کا خطاب تو ہو ہی جاتا تھا، اصل بات تو ایشیا کی ابھرتی ہوئی طاقت اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے رخصت ہوتے ہوئے وزیراعظم (من موہن سنگھ) کے درشن اور ان سے ملاقات ہے۔ یار لوگوں نے اس معاملے کو اتنی بلندی پر پہنچا دیا کہ خود نوازشریف نے دورے سے قبل یہ انکشاف کر کے پوری قوم کو حیران کر دیا کہ انہیں تو قوم نے مینڈیٹ ہی بھارت سے بہتر تعلقات بنانے کا دیا ہے۔ اگرچہ بھارت سے تعلقات بہتر بنانا نہ کوئی جرم ہے، نہ گناہ، لیکن اگر قوم انہیں یہ مینڈیٹ نہ دیتی تو کیا وہ بھارت سے تعلق بہتر بنانے کی کوشش نہ کرتے۔ درحقیقت نواز شریف کا یہ بیان حقائق کے بالکل منافی تھا۔ انہیں قوم نے ایسا کوئی مینڈیٹ نہیں دیا تھا۔ اُن کی پارٹی کے منشور میں بھارت سے تعلقات کے حوالے سے وہی باتیں درج ہیں جو دوسری سیاسی جماعتوں کے منشور میں ہیں، پھر اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے جس طرح لوڈشیڈنگ، کرپشن، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے ایشوز کو بار بار اٹھایا، اس طرح تو انہوں نے پاک بھارت تعلقات کو اپنی انتخابی مہم میںنہیں اٹھایا۔ یہ کام تو انہوں نے انتخابات کے نتائج آنے کے بعد شروع کیا۔

11 مئی کے انتخابات سے قبل ہی مغربی اور بھارتی میڈیا نے پاکستان میں ڈیرے ڈال لئے تھے۔ بھارتی میڈیا یہاں آنے والے صحافیوں میں تعداد کے اعتبار سے بہت زیادہ تھا۔ ان میں این ڈی ٹی وی کی برکھا دت ، انڈیا نیوز ٹی وی کی شیتل راجپوت اور بی بی سی کے سٹیٹس جیکب سب سے نمایاں تھے۔11 مئی کی رات جب مسلم لیگ (ن) کی کامیابی واضح ہوگئی تھی۔ نواز شریف نے پہلے ماڈل ٹاو¿ن میں قائم پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کی بالکونی سے اپنے کارکنوں سے خطاب کیا۔ جس کے فوری بعد انہوں نے برکھا دت اور شیتل راجپوت کو انٹرویو دیا۔ ان بھارتی صحافیوں کے سوالات کے جواب میں بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔14 مئی کو نواز شریف نے جاتی عمرہ میں برکھا دت کو تفصیلی انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دیں گے۔

 انٹرویو ختم ہوگیا تھا ، میاں نواز شریف اور برکھا دت انٹرویو کے کمرے سے باہر نکل گئے۔ برکھا دت نے کمال ہوشیاری سے اور شاید منصوبہ بندی کے تحت یہ سوال داغ دیا کہ آپ جلد بھارت کا دورہ کریں گے؟....جس پر نواز شریف نے کہا کہ بالکل وہ بھارت جائیں گے اور غیر شعوری طور پر یہاں تک کہا کہ اگر من موہن سنگھ نے انہیں دعوت نہ دی تو وہ تب بھی بھارت جائیں گے۔ یہاں سے اُس سفارتی کھیل کا آغاز ہوا، جس میں پاکستان اور پاکستانی وزیراعظم کی پوزیشن خاصی خراب تھی۔ نواز شریف کے انٹرویو کے اس حصے کو بھارتی میڈیا نے بار بار اور نمایاں کر کے دکھایا۔ چنانچہ جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے نواز شریف اور من موہن سنگھ کے خطاب کا موقع آیا اور اس موقع پر نواز شریف، من موہن سنگھ ممکنہ ملاقات کا ذکر آنے لگا تو پہلے تو بھارت کے سفارتی حلقوں نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا، لیکن جب پاکستانی میڈیا اور مذاکرات کے حامیوں کا دباو¿ بڑھا تو بھارتی حکام نے اس طرح کی کسی ملاقات کے امکان کو مسترد یا قبل از وقت قرار دے دیا۔

دراصل یہ بھارت کی سفارتی چال تھی۔ پاکستانی حکام اور پاکستان میں بھارت نواز لابی جب زیادہ پریشان ہوئی اور ملاقات کے لئے بے چین نظر آنے لگی تو بھارتی حکام نے اس بات کی تو تصدیق کر دی کہ من موہن سنگھ، میاں نواز شریف سے ملاقات کریں گے، مگر اس سلسلے میں کوئی گرمجوشی نہ دکھائی اور ملاقات کی تفصیلات طے کرنے اور اسے میڈیا کو بتانے میں سست روی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ جب پاکستانی ذمہ داروں اور میڈیا نے زیادہ واویلا کیا تو بھارتی حکام نے یہ بیان دے دیا کہ بھارتی حکام بھی ملاقات کے خواہش مند ہےں اور امید ہے کہ ملاقات ہوگی۔ اس پر پاکستان میں بھارت نواز میڈیا اور لابی نے خوب بغلیں بجائیں تو بھارت طے شدہ منصوبے کے تحت سخت رویے پر اتر آیا۔

 بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید اور شیو شنکر مینن نے تھوڑے ملفوف انداز میں پاکستان پر الزام تراشی شروع کی، جس کے بعد بھارتی وزیراعظم نے صدر اوباما کے ساتھ ملاقات میں زیادہ تُرش رویہ اختیار کیا، جس پر نیویارک آتے ہوئے پاکستانی حکام ایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھے اور فوری طور پر وہاں موجود جیو ٹی وی کے حامد میر اور برکھا دت کو ہنگامی طور پر بلا کر ان کی نواز شریف سے ملاقات کرائی گئی۔ اس ملاقات کے بعد حامد میر نے جیو ٹی وی پر بتایا کہ نواز شریف نے کہا ہے کہ من موہن سنگھ نے اوباما سے ملاقات میں دیہاتی عورت کی طرح پاکستان کی شکایات لگائی ہیں، جس کے بعد بھارتی حکام، بھارتی میڈیا، خصوصاً بھارتیہ جنتا پارٹی کے نامزد امیدوار وزارت عظمیٰ نریندر مودی نے طوفان کھڑا کر دیا، حالانکہ برکھا دت نے اس طرح کی کسی بات کی تصدیق نہیں کی، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر میاں نواز شریف نے یہ بات نہیں کی تھی تو حامد میر نے از خود یہ بات گھڑی اور ایسا تھا تو اگلا سوال یہ ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھارت نے پاکستانی وزیراعظم اور وفد کے ارکان کو ناشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا، اُس کے بعد پاکستانی حکام کو یہ ملاقات منسوخ کر دینی چاہئے تھی۔ اگر وہ ایسا کرتے تو پاکستا ن کی سفارتی پوزیشن قدرے بہتر ہو جاتی اور بھارت بیک فٹ پر چلا جاتا، مگر ہمارے حکمرانوں نے ایسا نہیں کیا، جس کا پاکستان کے عوام اور حساس طبقوں کو شدید قلق ہے۔ سوا گھنٹے کی ملاقات میں بھارت ہی کا مو¿قف نمایاں رہا۔ پاکستانی دانشوروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اب بھارت کے بارے میں اپنی پالیسی از سر نو وضع کرنی چاہئے جس میں پاکستانی وقار اور مفادات سب سے مقدم ہونے چاہئیں۔ نواز شریف کی غیر واضح پالیسی ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔     ٭

مزید : کالم