پانامہ ہنگامہ: حقیقت کیا ہے؟

پانامہ ہنگامہ: حقیقت کیا ہے؟
پانامہ ہنگامہ: حقیقت کیا ہے؟

  

پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ جب بھی مُلک میں سیاسی اور معاشی استحکام آنا شروع ہوتا ہے، اس کی ترقی کے دشمن سرگرم عمل ہو جاتے ہیں اور یہ جانے بغیر کہ حقیقت کیا ہے، سیاسی دُکان چمکانے لگتے ہیں۔ پانامہ لیکس کو اُس وقت تک قانونی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی، جب تک پاکستانی قوانین کے تحت اس مُلک دشمن سٹوری کی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔ وزیراعظم پاکستان اس معاملے پر فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے ہی ایک تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا اعلان کر چکے ہیں، لیکن ہمارے سیاست دان مَیں نہ مانوں کی رٹ پر قائم ہیں اور تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ کے لئے پیش کردہ ناموں کو بار بار ٹھکرا رہے ہیں۔ قطع نظر اِس بات کے کہ پانامہ لیکس حقیقت ہے یا افسانہ، ہمیں اپنے قومی مفادات کو داؤ پر نہیں لگانا چاہئے۔ بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری اپوزیشن جماعتیں کوئی بھی ایسا موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں،جس کی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے، لیکن وہ اپنے سیاسی مفادات کی خاطر قومی مفادات کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔ پاکستان کا ماضی بھی اِس چیز کا گواہ ہے۔

قوم ابھی اُس نقصان کا ازالہ نہیں کر سکی جو لاحاصل دھرنوں اور مظاہروں سے ہوا ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا، مُلک کے سیاسی اور معاشی استحکام کو عدم استحکام کی طرف د ھکیلا گیا اور بالآخر بات جوڈیشل کمیشن کے قیام پر ختم ہوئی، جس نے تحریک انصاف کی طرف سے 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ بات دھرنوں اور مظاہروں کی نہیں، جمہوری ملکوں میں ایسا ہوتا ہے، لیکن اُس نقصان کا کون ذمہ دار ہے جو قوم کو اِن دھرنوں اور مظاہروں کی وجہ سے اٹھانا پڑا۔ چین کے صدر کے دورۂ پاکستان کو منسوخ کروایا گیا، کیا یہ قومی خدمت تھی۔ اگر چینی صدر کا دورہ بروقت ہو جاتا تو یقیناًمُلک کو معاشی نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔ اب بھی صورت حال مختلف نہیں، چین، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے شروع ہونے میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، کبھی اس منصوبے کے خلاف بلوچ نوجوانوں کو اکسایا گیا تو کبھی خیبرپختونخوا حکومت اِس منصوبے میں رکاوٹ بنی، حالانکہ یہ منصوبہ میاں نواز شریف یا شہباز شریف کا نہیں، پورے مُلک کا منصوبہ ہے اور اس سے پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ہے۔ اس منصوبے سے موجودہ حکومت کا مفاد وابستہ نہیں۔ یہ 2015ء سے2030ء تک پندرہ سال کا منصوبہ ہے اور مرحلہ وار مکمل ہو گا۔

حقیقت جانے بغیر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ46ارب ڈالر قرض لے کر مُلک کو مقروض بنا دیا گیا، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس رقم سے35بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی۔ اس46ارب ڈالر سے9.1 فیصد رقم سندھ پر خرچ ہو گی۔ 8.9فیصد رقم بلوچستان پر خرچ ہو گی۔خیبرپختونخوا میں بھی بڑے منصوبے مکمل ہوں گے۔11ارب ڈالر انفراسٹرکچر، گوادر پورٹ ،سڑکوں اور ریل کے منصوبوں پر خرچ ہوں گے تو پھر اپوزیشن کا یہ واویلا درست نہیں کہ یہ46ارب ڈالر کا قرض لیا گیا ہے۔ تھر کے کوئلے کے ذخائر کو گزشتہ ادوار میں استعمال کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا، جبکہ موجودہ حکومت تھر کے کوئلے کو جو ایک قدرتی نعمت ہے، استعمال میں لا کر2018ء کے آخر تک اس سے بجلی پیدا کرنے کا پروگرام رکھتی ہے۔ علاوہ ازیں بجلی اور توانائی کے بہت سے ایسے منصوبے شروع کئے گئے ہیں جو2017ء اور2018ء میں مکمل ہوں گے اور پاکستان بجلی کی پیداوار میں نہ صرف خود کفیل ہو گا، بلکہ سر پلس بجلی بھی پیدا کرے گا۔سی پیک منصوبے کے دشمن ہر وقت اس منصوبے کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں، مُلک دشمن عناصر نے تو یہ کام کرنا ہی ہے ہمارے اپنے سیاست دان بھی سیاسی مفادات کی خاطر اس منصوبے پر تنقید کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ صرف پاکستان کی معیشت کو بہتر نہیں بنائے گا، بلکہ اس سے وسط ایشیائی ریاستیں اور خطے کے دیگر ممالک بھی فائدہ اٹھائیں گے اور پاکستان کے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا۔

اب جبکہ پاکستان ایک بار پھر معاشی ترقی کی طرف گامزن ہے تو اس ترقی کے مخالفین نے پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے اور احتجاج کے ذریعے پوری دُنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کیا جائے جو کہ کسی بھی صورت مُلک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کو تیسری بڑی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے اور مفادات کی سیاست سے گریز کرنا چاہئے، جو معاشی ترقی کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے اور اس سے مُلک دشمن عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان صاحب مثبت سوچ کا مظاہرہ کریں گے۔ اگر انہیں عوامی حمایت حاصل ہے تو پھر ایسے سیاسی ہتھکنڈوں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا، انہیں خود کو اگلے انتخابات کے لئے تیار کرنا چاہئے جو خود ایک احتساب ہوں گے اور عوام جس کو پسند کریں گے، منتخب کرلیں گے۔ مُلک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ موجودہ حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پاکستان میں جمہوری استحکام ہو، پالیسیوں کو تسلسل ملے اور مُلک اقتصادی طور پر مضبوط ہو۔

وزیراعظم کی طرف سے پانامہ لیکس کی تحقیقات کی پیشکش اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اس حوالے سے ملکی استحکام اور بقا کے لئے خود کو احتساب کے لئے پیش کر چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے غیر جانبدار کمیشن کی تشکیل کے لئے تمام پارلیمانی رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور قومی مفاد میں حکومت کی غیر جانبدار کمیشن کی تشکیل کی پیشکش کو ٹھکرانا نہیں چاہئے۔ کمیشن کے قیام سے ہی معاملات حل ہوں گے اور حقیقت سامنے آئے گی۔ اپوزیشن جماعتوں کو اصل اہمیت قابل اعتماد اور صاف شفاف تحقیقات کو دینی چاہئے اور ذاتیات کی سیاست سے اجتناب کرنا چاہئے۔ اب تک کی صورت حال سے واضح ہو رہا ہے کہ اِس ایشو پر اپوزیشن پارٹیاں صرف پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہیں، لیکن اس کے حل پر ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا شکار ہیں، کوئی وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے تو کوئی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے قیام کی تجویز دے رہا ہے۔ کوئی عالمی مالیاتی فرم سے فرانزک آڈٹ کروانے کا خواہشمند ہے۔ ماضی میں بھی حکومت سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بڑے بڑے مسائل کا سیاسی حل نکال چکی ہے، اب بھی یقیناًحکومت اتفاق رائے سے غیر جانبدار تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے لئے سنجیدہ نظر آ رہی ہے تو پھر سیاسی جماعتوں کو دھرنوں، ہڑتالوں کی سیاست کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر اب بھی ایسا ہی ہوا اور سیاسی جماعتیں کسی متفقہ فیصلے پر نہ پہنچیں تو قوم سمجھے گی کہ یہ سیاسی مفادات کی جنگ ہے اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

مزید :

کالم -