چھتیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

چھتیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی ...
چھتیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

  

دہلی شہر

بمطابق فرشتہ ۳۰۷ھ میں داد پتہ راجپوت نے کہ طائفہ توران سے ہے، اس شہر کو ’’اندر پت ‘‘ کے پہلو میں بنایا۔ داد پتہ کے بعد یکے بعد دیگرے آٹھ نفر نے جماعت توران سے وہاں نشان حکومت بلند کیا تھا۔ بھوج راج۔ ادھرن سدھندل، روہیک، روہنگر، آہتگر، مدن پال، سالباہن اور اس خاندان کے بعد دہلی کی حکومت طائفہ چوہان میں جو عمدہ راجپوتوں میں سے ہے منتقل ہوئی ا ور اس کے ان چھ اشخاص نے بلدہ دہلی میں بادشاہت کی۔ مانک دیو، راج راول، دیو جاہر، دیوسہر، دیو پتھورا، پھر راجہ پتھورا جو کہ معرکہ سلطان شہاب الدین غوری میں مقتول ہوا۔ اور آخر ۵۸۸ھ میں دہلی ان کے تصرف میں سے نکل کر قبضہ ملوک غور میں آئی۔ ‘‘ (تاریخ فرشتہ اردوجلد اول ص ۰۸۳)

پنتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پرتھی راج

منشی محمد حسین صدیقی اپنی تصنیف احکم التاریخ میں لکھتے ہیں کہ: آخر چھٹی صدی ۵۷۱ھ میں جس قدر راجے شمالی ہند میں حکمرانی کر رہے تھے۔ ان سب میں پرتھی راج جس کو راجہ پتھورا بھی کہتے ہیں نہایت زربدست اور نامور راجہ اور راجپوتوں کی بہادر قوم کی ناک تھا۔ ہندوؤں میں جن نامی گرامی سورماؤں(بہادروں) کے افسانے زبان زد خلائق ہیں ان پر پرتھی راج بھی شامل ہے۔ پرتھی راج کے بڑے زبردست راجہ ہونے کی وجہ یہ بھی کہی جاتی ہے کہ وہ اجمیر اور دہلی دونوں سلطنتوں کا راجہ تھا۔ اجمیر کی سلطنت تو اس کو اپنے باپ سوا میشور سے جو راجپوتوں کی قوم چوہان کا راجہ تھا۔ میراث پہنچی تھی۔ اور دہلی کی سلطنت ہاتھ لگنے کی یہ کیفیت ہے کہ اس کا کوئی بیٹا تو تھا ہی نہیں صرف بیٹیاں ہی تھیں۔ جن میں سے ا یک کی اولاد توجے چندراجہ قنوج تھا اور دوسری کی پرتھی راج۔ اس کونانا نے متنبیٰ بنا لیا تھا۔ یہ بات جے چند کو نہایت ناگوار گزری اور اس نے پرتھی راج کے راجہ دہلی ہونے میں بہت کچھ مزاحمتیں کیں لیکن کچھ بنائے نہ بنی۔ آخر کار دہلی کا راج بھی پرتھی راج کے ورثے میں آیا اور اس طرح وہ دونوں سلطنتوں کا راجہ ہوگیا۔ آگے یہی مصنف محمد غوری کے بارے میں لکھتا ہے:

ذکر محمد غوری

راجہ پتھورا کو گدی نشین ہوئے ابھی بہت عرصہ گزراہی نہ تھا کہ اس پر ایک زبردست غنیم چڑھ آیا۔ جو کبھی اس طرح پیشتر ہندوستان پر حملہ آور نہ ہوا تھا۔ یہ غنیم سلطان شہاب الدین غوری تھا۔ جو ایک بڑا جوانمرد بہادر اور مستقل مزاج سردار تھا۔ غور کا بادشاہ تو درحقیقت شہاب الدین کا بڑا بھائی غیاث الدین تھا مگر وہ اس کی نسبت نرم مزاج تھا اس لئے جب اس نے غور کے تند خو اور قوی ہیکل افغان بہادروں اور دلاوروں کی مدد سے غزنی کو فتح کر لیا تو شہاب الدین کو وہاں کا بادشاہ مقرر کرکے وہ غور کو چلا گیا۔ شہاب الدین جب غزنی کی سلطنت سنبھال چکا تو اس نے ہندوستان کا قصد کیا۔ اسے معلوم تھا کہ ’’دہند‘‘ زمانہ قدیم سے راجگان عظیم الشان کا دارالسلطنت چلا آتا ہے۔ ’’دہند‘‘ دریائے سندھ پر قلعہ اٹک سے ۱۵ میل کے شمال کی طرف تھا۔ چنانچہ شہاب الدین نے اس پر فوج کشی کی اور جنگ کے بعد فتحیاب ہوا۔ اور یہاں کے سب بندوبستوں سے فارغ ہوا۔۔۔دفعتاً سرحد(یعنی سیالکوٹ) کے حاکم کا عریضہ پہنچا کہ رائے پتھورا(والئی اجمری) اپنے بھائی ’’کہانڈے راؤ‘‘ حاکم دہلی کو ساتھ لے کر دو لاکھ فوج جرار اور تین ہزار فیل جنگی سے ’’دہند‘‘ پر چڑھائی کے خیال میں ہے اور بھونچال کی طرح چلا آتا ہے۔ آپ کی توجہ واجب ہے۔ ورنہ اس ملک ہند میں زن و بچے مسلمانوں کے تباہ ہو جائیں گے۔ بادشاہ نے اسی وقت لشکر اسلام میں منادی کرا دی اور تیاری کا حکم ہوا۔ راستہ کے کارداروں کے نام سامان رسد کا حکمنامہ جاری ہوگیا۔ لشکر جرار منزل بہ منزل یلغار کرتا چلا جاتا تھا کہ انبالہ کے ڈھیروں میں اسے یہ خبر لگی کہ راجہ پتھورا کا لشکر پانی پت کے مقام پر ہے مگر فیل خانہ کرنال میں آگیا۔ بادشاہ نے وہیں مقام کر دیا اور فوج کو پس و پش سے درست کرکے کوچ بہ کوچ آگے بڑھا۔ تلاوری جسے اس زمانہ میں ترائن کہتے تھے کے میدان میں دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوگیا۔ دن مورچوں کی درستگی میں گزرا۔ شام کو سب نے گھوڑوں کے تانگ ڈھیلے کر دیئے۔ دانہ چڑھا۔ زین پوش بچھا کر بیٹھ گئے ۔ باگ ڈوریں زانوؤں سے باندھ لیں اور خورجیوں سے روٹیاں نکال کر کھانے لگے۔(جاری ہے)

سینتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید :

شجاع قوم پٹھان -