حیرت ، افسوس اور شرمندگی

حیرت ، افسوس اور شرمندگی
 حیرت ، افسوس اور شرمندگی

  

مَیں نے اپنے 17اگست 2017ء کے کالم میں لکھا تھا کہ وکلاء اور ہائی کورٹ کے درمیان محاذ آرائی چنگاری سے شعلہ بن رہی ہے۔ کل جو کچھ لاہور ہائیکورٹ کے اندر اور باہر ہوا، اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ ایک معمولی سا مسئلہ اب ایک ایسا پہاڑ بن گیا ہے کہ اس پر کوئی چڑھ سکتا ہے اور نہ اتر سکتا ے۔

ہائیکورٹ ملتان بار کے صدر شیر زمان توہین عدالت کیس میں پیش نہیں ہوئے، جس پر قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ منصور علی شاہ نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے، ساتھ ہی ان کے اور سیکرٹری ہائی کورٹ بار قیصر عباس کے لائسنس منسوخ کر کے ان پر صوبے بھر کی عدالتوں میں پیش ہونے پر پابندی لگا دی، جس کے بعد وکلاء نے پُرتشدد احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ لاہور ہائیکورٹ کا مرکزی دروازہ توڑ دیا، ہائی کورٹ کے اندر توڑ پھوڑ کی، چیف جسٹس کی عدالت کو نشانہ بنانے کی کوششیں کیں، توہین آمیز زبان استعمال کی، نعرے لگائے، پولیس کے روکنے پر بعض اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس پر پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔ مال روڈ کو جہاں جلسے جلوسوں کی پابندی ہے، بند کر دیا اور کئی گھنٹے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

ادھر ملتان میں چیف جسٹس کا حکم ملنے کے بعد پولیس شیر زمان کو گرفتار کرنے پہنچی تو وہ بطور ایک قانون دان قانون کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر فرار ہو گئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ہم ایسے مناظر دیکھ رہے ہیں۔ بڑے بڑے سیاسی رہنما بھی اپنے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر قانون کے سامنے سرنڈر کر دیتے ہیں۔ اسی ملتان میں تحریک نظام مصطفی کے دوران ملتان کے عظیم روحانی پیشوا مولانا حامد علی خان کی گرفتاری کے لئے ذوالفقار علی بھٹو نے حکم جاری کیا، قانونی طور پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے، وہ چاہتے تو کوئی مائی کا لال انہیں گرفتار نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ ان کے ہزاروں عقیدت مند ان کے لئے کٹ مرنے کو تیار تھے، مگر انہوں نے سب کو منع کیا اور باوقار انداز سے خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔ اس سے ان کی شان میں اضافہ ہوا کمی نہیں آئی۔

وکلاء نے یہ کون سا نیا طریقہ نکالا ہے اپنی طاقت منوانے کا کہ عدالتوں کے حکم کو ہی نہیں ماننا۔ میں نے ایک وکیل سے سوال کیا کہ پوری وکلاء برادری میں کیا ایک بھی قابل وکیل ایسا نہیں جو عدالت میں شیر زمان کا کیس لڑے اور لاہور پہنچ کر بتائے کہ شیر زمان اور سیکرٹری بار نے توہین عدالت نہیں کی، بلکہ جسٹس قاسم کے رویے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اگر عدالت میں ان کے خلاف توہین عدالت کا الزام ہی ثابت نہ ہوتا تو سزا کیسے دی جا سکتی تھی۔۔۔ لیکن یہ کیسا راستہ ہے جس میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم کی کوئی وقعت ہی نہیں اور آپ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم قانون کے رکھوالے ہیں۔ تمام سینئر وکلاء نے تسلیم کیا ہے کہ اس معاملے کو ابتدا ہی میں بڑی آسانی کے ساتھ نمٹایا جا سکتا تھا۔ جس روز یہ واقعہ ہوا،جس میں ملتان بنچ میں تعینات جسٹس قاسم خان کی عدالت میں ہنگامہ کیا گیا اور ا ن کے نام کی تختی توڑ ی گئی، اس روز شیر زمان بھی عدالت میں موجود تھے، وہ اگر بروقت فیصلہ کرتے ہوئے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کرتے تو بات اسی دن ختم ہو جاتی، مگر بدقسمتی کہ وہ نوجوان جذباتی وکلاء کے ریلے میں بہہ گئے اور صورت حال بنچ کی بندش اور کیسوں کی لاہور منتقلی تک پہنچ گئی اور بعدازاں یہ توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری ہو گیا۔

میں کل کے احتجاج پر جسٹس (ر) شاہد صدیقی اور اعتزاز احسن کی ایک چینل پر گفتگو سن رہا تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ وکلاء کی تاریخ میں ایک سیاہ دن ہے، جب انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ہائیکورٹ کو نشانہ بنایا۔ آزاد عدلیہ کے لئے جدوجہد کرنے والے اپنے لئے اسے پابند رکھنا چاہتے ہیں، یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟ مسلم لیگ (ن) نے ایک بار سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا اوریہ الزام اب تک اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ کل وکیلوں نے بھی تو لاہور ہائیکورٹ پر حملہ کیا ہے، اب کسی اور کے عدالت پر حملے کا وہ دفاع کیسے کریں گے؟ میں سمجھتا ہوں وکلاء اپنے اس احتجاج کے لئے بہت کمزور تاویلیں اور دلیلیں گھڑ رہے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ جسٹس محمدقاسم خان کا رویہ ہمیشہ وکلاء سے توہین آمیز رہا ہے، اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ بھری عدالت میں ان کے مقابل آکھڑے ہوں، اس کے لئے بہت سے راستے کھلے ہیں۔ اس بارے میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے اپیل کی جا سکتی تھی۔ بار کونسل سے رجوع کیا جا سکتا تھا۔ مگر ایک کیس کی سماعت کے دوران احتجاج شروع کر دینا وکلاء کی کس روایت میں موجود ہے؟ پھر اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات بھی اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاملے کو سنبھالنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی، بلکہ ہڑتال کی کال دے کر صورت حال کو مزید ناقابل حل بنانے کی راہ اختیار کرنے کا غیر دانشمندانہ فیصلہ کیا گیا۔ حیرت ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب عدلیہ بڑے فیصلے کر رہی ہے اور اسے معاشرے کی طرف سے مکمل حمایت کی ضرورت ہے، ایسا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، جس سے عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری پر چوٹ لگے، حرف آئے۔ اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ بھی وکلاء کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے اور اپنے احکامات پر عملدرآمد نہیں کرا سکتی تو دیگر طبقے اس کے فیصلے کیوں مانیں گے؟ جس ملک کا وزیر اعظم عدالت کا حکم مان کر گھر چلا جائے، وہاں ایک بار ایسوسی ایشن کا صدر قانون اور عدالت کو ٹھینگا دکھانے لگے تو اس کی حمایت کون کرے گا؟

میں کل سارا دن اپنے مشترکہ وکیل دوستوں کے ذریعے شیر زمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر غالباً وہ گرفتاری سے بچنے کے لئے فون بند کر کے کسی خفیہ مقام پر روپوش تھے۔ میری خواہش تھی کہ میں انہیں مل کر اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کروں کہ وہ از خود لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہو جائیں۔ مجھے معلوم ہے وہ آج کل اپنے حامی وکلاء کے دباؤ میں ہیں، مگر وہ مل جاتے تو ان سے گذارش کرتا کہ وکلاء کے آپ لیڈر ہیں اور فیصلے کا اختیار آپ کو خود استعمال کرنا چاہئے۔ عدالت کے سامنے جھکنا کسی بھی قانون دان کا قد بڑھاتا ہے، اس میں کمی کا باعث نہیں بنتا۔ ایک باغی کی حیثیت سے اپنی پہچان کرانا کسی وکیل کو زیب نہیں دیتا، وہ تو عدالت میں چھوٹے چھوٹے قانونی نکات پر اپنے سائل کے لئے ریلیف حاصل کر لیتا ہے، پورے قانونی نظام سے بغاوت کیسے کر سکتا ہے؟ وکلاء جہاں اپنے طبقے کا سربلند رکھنا چاہتے ہیں، وہاں اس پہلو کو بھی نظر انداز نہ کریں کہ عدالتوں کا سربلند نہ رہے تو نہ صرف معاشرے، بلکہ ہر طبقے کا سرنگوں ہو جاتا ہے۔ وکلاء سے زیادہ اس بات کو اور کون سمجھ سکتا ہے کہ جب کوئی عدالت حکم جاری کر دیتی ہے تو بغیر کسی کارروائی کے واپس نہیں لے سکتی۔ چیف جسٹس نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کی ہے تو وہ کسی احتجاج کے نتیجے میں از خود کیسے ختم کر سکتے ہیں، جبکہ توہین عدالت کا ملزم پیش بھی نہ ہوا ہو، اسے تو صرف اسی طرح نمٹایا جا سکتا ہے کہ شیر زمان اور قیصر عباس عدالت میں حاضر ہوکر اپنا موقف پیش کریں، پھر عدالت جو چاہے فیصلہ کرے۔

اس طرح تو عدالت کو مشکل میں ڈالنے والی بات ہے کہ اسے بے توقیر کر کے رکھ دیں۔ وکلاء اگر اپنے اردگرد پر نظر ڈالیں تو انہیں صاف نظر آئے گا کہ اس معاملے میں وہ تنہا ہیں اور معاشرہ ان کے ساتھ نہیں کھڑا، بلکہ ان کے اس عمل کو حیرت، افسوس اور شرمندگی کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔

مزید : کالم