حکام کی ملی بھگت سے 40 ہزار سے زائد جعلی اسلحہ لائسنس جاری

حکام کی ملی بھگت سے 40 ہزار سے زائد جعلی اسلحہ لائسنس جاری

لاہور (جنر ل ر پو رٹر )سرکاری حکام کی ملی بھگت سے 40 ہزار سے زائد جعلی اسلحہ لائسنس جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اسلحہ لائسنس بنانے کا اختیار ڈی سی اوز اوراب ڈپٹی کمشنرز کے پاس ہے۔ ڈی سی آفس میں باقاعدہ طور پر اسلحہ برانچ ہے ،شکایات ملنے پر ڈی سی لاہور نے تحقیقات کا حکم دیا تھا جس پر انکوائری اب فائنل ہوگئی ہے اور اس میں کئی انکشافات ہوئے ہیں۔انکوائری میں یہ ثابت ہوا کہ بعض اسلحہ لائسنس لینے والوں کا ریکارڈ ہی موجود نہیں، صرف رجسٹر میں نام موجود ہے، شناختی کارڈ تھا نہ انکم ٹیکس کے کاغذات اورنہ ہی شعبے کا اندراج تھا۔ بعض کیسز میں اسلحہ لائسنس منظور کرنے والے افسروں کے دستخط ہی نہیں۔ اسلحہ لائسنس زیادہ تر پمپ ایکشن، 30 بور اور نائن ایم ایم کے ہیں۔ ایک شخص کے نام 49 اسلحہ لائسنس نکل آئے ہیں، 6سے 12، 12 لائسنس ایک ہی شخص کو جاری ہوئے، بیشتر کا ریکارڈ ہی نہیں، جعلی شناختی کارڈ پر بھی لائسنس بنتے رہے، لائسنس کا اندراج ہے ،منظور کس نے کیا کوئی سائن موجود نہیں۔ اس امر کا انکشاف جعلی لائسنسوں کی تحقیقات مکمل ہونے پر ہوا۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے ذمہ دار افسر وں ، ملازمین کا تعین کرکے انکے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم دیدیا ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ عرصے میں اب تک ایک لاکھ36ہزار 500 لائسنس جاری ہوئے ہیں جن میں قریبا94ہزارکے قریب درست نکلے ، باقی 40 ہزارسے زائد جعلی نکلے ہیں جن کی تفصیلات نادرا کو بھیجی گئی ہیں۔ ایڈیشنل کمشنر امتیازکا کہنا ہے اب ایسی حکمت عملی بنائی ہے کہ لائسنسوں میں جعلسازی ختم ہوجائے۔

اسلحہ لائسنس

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر