اوور سیزپاکستانیز کمیشن کے ذمہ دار افسرکی9جنوری کوریکارڈ سمیت طلبی

اوور سیزپاکستانیز کمیشن کے ذمہ دار افسرکی9جنوری کوریکارڈ سمیت طلبی

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے اوورسیز کمیشن کو لین دین کے معاملہ پر شہریوں کی طلبی سے روکتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیز کمیشن لوگوں کی سہولت کے لئے بنایا گیا تھا ، کمیشن پرائیویٹ شخص کو کیسے طلب کر سکتا ہے ، عدالت نے آئندہ سماعت پر اوورسیز پاکستانیز کمیشن کے ذمہ افسر کو طلب کر لیا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے شفیق بٹ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن نے درخواست گزار کو ندیم حیدر کی درخواست پر غیر قانونی طور پر طلب کر رہا ہے جبکہ برطانیہ میں مقیم مدعی سے لین دین کا معاملہ پہلے ہی سی سی پی او کے پاس زیر التواء ہے لیکن اوورسیز پاکستانیز کمیشن نے ایس ایچ او فیکٹری ایریا کے ذریعے درخواست گزار کو طلبی کا نوٹس بھجوایا ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ پنجاب اوورسیز پاکستانیز ایکٹ کے تحت اوورسیز کمشن کو طلبی کا اختیار حاصل نہیں ، اوورسیز پاکستانیز کمیشن صرف شکایت موصول ہونے پر سی سی پی او کو بھجوا سکتا ہے ، جس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اوورسیز پاکستانیز کمیشن تو لوگوں کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا ، اوورسیز کمیشن کسی پرائیوٹ شحض کو کیسے طلب کرسکتا ہے ،کمیشن کو کسی کو طلب کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے،عدالت نے اوورسیز کمیشن کے ذمہ دار افسر کو 9جنوری کیس کے ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے۔

مزید : علاقائی