مجلہ  ”کھوج“ کے تازہ شمارے پر ایک نظر

مجلہ  ”کھوج“ کے تازہ شمارے پر ایک نظر
مجلہ  ”کھوج“ کے تازہ شمارے پر ایک نظر

  

شعبہ پنجابی پنجاب یونیورسٹی کے چھماہی ریسرچ جرنل ”کھوج“ کا تاز ہ شمارہ (جولائی۔ دسمبر 2019ء) ہمارے سامنے ہے۔ اس میں اردو اور انگریزی میں 3,3 اورپنجابی میں 5 مقالے شامل ہیں۔ ہمارے لئے یہ امر باعث مسرت واطمینان ہے کہ ہم  نے اپنے کالموں میں فاضل مدیران کوان کی ذمہ داریوں سے آگا ہ کیا تو انہوں نے ہماری گزارشات کو درخوراعتنا سمجھا ہے۔البتہ بعض مقالات کے معیار کا مسئلہ اب بھی موجو دہے ہم بارد گرعرض کرتے ہیں کہ ”کھوج“ کے فاضل مدیران جب موصول ہونے والے مقالات کے قابل اشاعت ہونے کے بارے میں ماہرین سے رائے طلب کرتے ہیں تو انہیں تحقیق کا معیار ضرور سامنے رکھنا چاہئے۔ موجودہ شمارے میں شامل بعض تحریریں ایسی ہیں کہ جن پرہم اپنی رائے دینا ضروری خیال کرتے ہیں۔

پہلا مقالہ بعنوان: ”جپ جی صاحب دے اردو ترجمیاں دا ٹکراواں ”تول“ ڈاکٹرظہیراحمد شفیق کاہے۔ جپ جی صاحب سکھ مت کے بانی بابا گورونانک دیوجی مہاراج کی روحانی مزاج کی پنجابی نظم ہے اس کے اردوترجمے بارے مقالہ نگارلکھتے ہیں:

”جب جی صاحب دے پرانے ترجمیاں وچوں اک ترجمہ اردو جپ جی اے جنہوں 1918ء وچ جے ایس سنت سنگھ اینڈ سنزتاجران کتب نے چھاپیا۔ ایہدی اک کاپی ڈاکٹر شہباز ملک ہوراں دے ذاتی کتب خانے وچ موجود اے۔“   (ص:9)

اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ محترم ڈاکٹر ملک نے یہ تو بتایا کہ اس کا اردو ترجمہ ان کے پاس موجود ہے، لیکن فاضل اسکالرکو دکھانے سے انکار کر دیا اس کے تعارف کے بغیرمقالہ ا دھورا رہ گیاہے،کیونکہ جپ جی کے ترجموں میں اسے اولین مقام حاصل ہے۔ یہ ترجمہ ڈاکٹر گنڈاسنگھ مشرقی کاہے، جو انہو ں نے 1892 ء میں کیا۔

دوسری ادھوری سی تحقیق  بعنوان ”شاہ حسین دی  حیاتی وچ شاہ جلال دی بھال“ ہے۔شاہ حسین کی ایک کافی کامصرع ہے:

کہے حسین ایہہ مرم اسانوں شاہ جلال بتایا

جناب خاقان حیدر غازی نے معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ شاہ جلال سے مراد کون ہے۔ انہوں نے جلال الدین نام کے تین بزرگوں کا ذکر کیا ہے لیکن پھر خود ہی اعتراف کرتے ہیں:

”ایس گل داکتے نکھیڑا نہیں ہو سکیا کہ ”شاہ جلال“کون سن۔(ص: 51 )

ہمارے نزدیک یہ کوئی تحقیق نہیں کہ محقق خود ہی ا یک سوال قائم کرے اورآخر میں عجز کااظہار کردے کہ میں حقیقت تک پہنچ نہیں سکا۔

 چوتھا مقالہ ڈاکٹر اکبر علی غازی کا ہے، بعنوان: ”سیالکوٹ وچ“ قصہ سوہنی مہینوال دی روایت، اک تحقیقی جائزہ“۔ اس میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ان پنجابی  شعراء کا تذکرہ ہے،جنہوں نے مذکورہ قصہ لکھا تھا۔ بظاہر معلومات کا ڈھیر لگا دیا گیا ہے،لیکن باطنی طور پر مقالہ غیر معیاری ہے اس لئے کہ اس میں غیرضروری تفصیلات  بہت زیادہ ہیں مثلا ً قصہ کس پریس میں چھپا، کا تبوں کے کیا نام تھے،سرورق پرکس کی فوٹو ہے آرٹ پیپر پر چھپا ہے یا عام کاغذ پر پہلے ایڈیشن کی قیمت کتنے پیسے تھی وغیرہ وغیرہ قصہ سوہنی کے لکھنے والے ہر شاعر کی قصہ سوہنی کے علاوہ دیگر کتابوں کابھی تعارف دیا گیا ہے،حالانکہ یہ لمبی چوڑی معلومات دنیا قطعاً ضروری نہ تھا۔ بارہویں شاعر خود مقالہ نگار ہیں انہوں نے اپنی مطبوعہ اور غیرمطبوعہ کتابوں کی بھی فہرست مہیاکی ہے نیز ان کالج میگزینوں کے نام بھی گنوائے ہیں، جن کے وہ مدیر رہ چکے ہیں یہ نہیں بتایاکہ کونساشاعر کس معیار کا تھا اورقصہ سوہنی لکھنے سے خود قصہ نگاری کی روایت کوکیاملا؟ہمار ے نزدیک ایسے بھرتی کے مقالات شامل کرنے سے ریسرچ جرنل کا اپنا کوئی مقام نہیں رہ جاتا۔

زیرنظر شمار ے میں طویل ترین تحریر جناب ڈاکٹر بشیر مہدی کی ہے۔ 56 صفحات پرمشتمل اس مقالے کا عنوان ہے ”:حضرت میاں محمد بخش صاحب کے آثار و افکار پر ایک نظر“۔ان کے مطابق حضرت میاں محمد بخش کی کتاب ”سیف الملوک“ پہلے پہل 1865ء میں لاہور سے چھپی تھی۔ مقالے کے آخر میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بہت جلد وہ پہلا ایڈیشن چھپوادیں گے۔اپنے مقالے میں ڈاکٹر صاحب نے ”سیف الملوک“ کے مختلف ایڈیشنوں اور ان میں در آنے والی غلطیوں نیز مرتبین و مترجمین کے دعوؤں کا بہت تفصیل سے ذکر کیا ہے۔خاص طور سے انہوں نے 2013ء میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوایج آرٹ اینڈ کلچر کی طرف سے شائع ہونے والی محمد اسماعیل چیچی صاحب کی مرتب کردہ سیف الملوک پر سخت جرح کی ہے، کہا ہے کہ انہوں نے اس فن پارے کا حلیہ بگاڑ دیا ہے ہمارے نزدیک ان کی یہ رائے سراسر خلاف واقعہ ہے۔ چیچی صاحب نے اصل سیف الملوک پیش کر کے پنجابی برادری پربہت بڑاحسا ن کیاہے انہوں نے ایک سوایک اشعار ایسے پیش کیے ہیں جن کا حلیہ بڑے بڑے فاضل مرتبین نے اس حد تک بگاڑ دیاتھا کہ مقابلے میں حیچی صاحب نے جو اصل اشعار پیش کیے ہیں تو قاری اطمینان محسوس کرتا ہے۔

اس کا دل گواہی دیتاہے کہ متن وہی درست ہے۔ڈاکٹرصاحب موصوف اگروہ پہلا ایڈیشن سامنے لاتے ہیں جو ان کے دعوے کے مطابق انڈیا آفس لائبریری لندن میں پڑاہے تو بہت اچھی بات ہے، لیکن ہمیں باور نہیں آتا کہ وہ کوئی انوکھی چیز سامنے لا سکیں گے۔ کھوج کے تازہ شمارے کے مطالعہ کے دوران ہمیں مختلف مقالات میں پروف کی کافی اغلاط دکھائی دی ہیں۔ ایڈیٹر صاحب ممکن ہے اسے معمولی امر سمجھیں۔ صفحہ 43 پر شیخ الاسلام کو شیخ السلام، صفحہ 44  پربگوی کو بھگوی صفحہ45 پر خلیق احمد نظامی کو خلیل احمد نظامی،صفحہ 38 پر ضیغم البھا کری کو ضیغم اکھاری،صفحہ36 پرراز کاشمیری کو راؤ کاشمیری،صفحہ 28 پرمولانا عبدالرحمان جامی میں مولانا کومفتی میں بدل دیا ہے۔ صفحہ 29  پرعبدالحمید صدیقی کو عبدالمجید صدیقی لکھاہے۔ صفحہ 46 پر قرآن مجید کی یہ آیت واماالحٰیوۃ الدنیا الالہو و لعب  سراسرغلط لکھ دی ہے۔ صفحہ 68 پر مقالہ نگار نے ایک اردو محاورے کو پنجابی میں جس طرح ڈھالا ہے،ملاحظہ ہو:

”اوہ سوہنی اتے لٹو ہوجاندااے“

 ہمارے نزدیک اگریہ اور دیگر کئی اغلاط رہ گئی ہیں توانہیں باقاعدہ اغلاط نامہ لگانا چاہئے تھا۔

مزید :

رائے -کالم -