وارداتیں روکنے کے لئے افغان حکومت کا تعاون ضروری ہے

وارداتیں روکنے کے لئے افغان حکومت کا تعاون ضروری ہے

  

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو ملک کے کسی کونے میں چُھپنے نہیں دیں گے، شہدا کے ورثا کے دُکھ میں برابر کے شریک ہیں،انسانی جانوں کے ضیاع کا نقصان پورا نہیں کیا جا سکتا،وہ وقت دُور نہیں، جب پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ چار سدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کے تھوڑی دیر بعد آرمی چیف موقع پر پہنچ گئے،پاک فوج کے مخصوص دستے نے اُنہیں یونیورسٹی میں کلیئرنس پر بریفنگ دی۔ جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ یونیورسٹی سے وہ ڈی ایچ کیو ہسپتال چار سدہ پہنچے، جہاں انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی، انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو جلد از جلد گرفتار کر کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ بعد ازاں انہوں نے کور ہیڈ کوارٹر میں خصوصی سیکیورٹی کانفرنس کی صدارت کی، جہاں آرمی چیف کو سیکیورٹی امور پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کے بعد پاک آرمی کے شعبہ تعلقاتِ عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آور کون تھے، کس نے اُنہیں بھیجا، کس کی مدد حاصل تھی،اِس سلسلے میں کافی معلومات جمع ہو چکی ہیں اور مزید کام ہو رہا ہے جیسے ہی بریک تھرو ہو گا، عوام کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کے پاس افغانستان سے جاری شدہ ٹیلی فون سمیں تھیں وہ حملے کے دوران بھی ٹیلی فون کالیں کرتے رہے،اُن سے دو موبائل فون برآمد ہوئے، جن سے زیادہ ڈیٹا حاصل ہو چکا ہے۔ فوج موقع پر پہنچی تو چاروں دہشت گرد زندہ تھے۔ آپریشن ضربِ عضب شروع ہونے کے بعد افغانستان چلے جانے والے دہشت گرد اب وہاں سے کارروائیاں کر رہے ہیں، حملہ چار دہشت گردوں نے کیا اور چاروں کو ہاسٹل کی چھت اور سیڑھیوں پر مارا گیا۔

چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے میں قیمتی جانی نقصان افسوسناک ہے تاہم سیکیورٹی اداروں نے اور اُن کی آمد سے بھی پہلے یونیورسٹی کے اپنے سیکیورٹی حکام اور مرحوم اسسٹنٹ پروفیسر سید حامد حسین نے جس طرح دہشت گردوں کو روکاوہ قابل ِ تحسین ہے وہ اپنے پستول سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے رہے، پاک فوج کا مخصوص دستہ بھی پشاور سے کم از کم وقت میں چار سدہ پہنچ گیا اور آپریشن کے دوران چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔یہ فوری جوابی کارروائیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ شہادتیں کم ہوئیں، جو حلقے دہشت گردی کی اس واردات میں حفاظتی انتظامات کی کوتاہی دیکھ رہے ہیں وہ صورتِ حال سے پوری طرح باخبر نہیں لگتے،اول تو دُھند کی وجہ سے دہشت گردوں کو چُھپنے میں آسانی رہی اور اس کی آڑمیں وہ یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوئے، پھر جہاں سے دیوار پھلانگ کر دہشت گرد اندر کودے وہاں باقاعدہ خاردار تار لگے ہوئے ہیں اِس سب کچھ کے باوجود اگر دہشت گرد کارروائی کرنے میں کامیاب ہو گئے اور جوابی کارروائی میں مرنے سے پہلے پہلے انہوں نے اگر قیمتی جانیں لے لیں تو یہ اس طرح کی صورتِ حال کا المناک نتیجہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے بہرحال فوری طور پر اور کم سے کم وقت میں جواب دے دیا، اور ان سے ایسی ہی توقع رکھی جاتی ہے۔

اصل غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ جو دہشت گرد افغانستان میں جا کر اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں،اور وہاں سے کارروائیاں کر رہے ہیں اُن کے خلاف موثر کارروائی کیسے کی جا سکتی ہے؟ یہ کام افغان حکومت اور فورسز کے تعاون کے بغیر نہیں ہو سکتا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردوں کے زیر استعمال افغانستان سے جاری ہونے والی ٹیلی فون سمیں تھیں اور انہی پر دہشت گردوں کا اپنے سہولت کاروں سے رابطہ تھا۔ اس سارے معاملے کو افغان حکومت کے ساتھ اٹھانے کی ضرورت ہے،اس سے پہلے گزشتہ برس آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحہ کے بعد بھی آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا دورہ کیا تھا اور اس دورے میں افغان حکومت کو ایسے ثبوت مہیا کئے گئے تھے کہ جن دہشت گردوں نے سکول پر حملہ کیا وہ افغانستان سے آئے تھے،افغان حکومت اگر اس وقت موثر کارروائی کر کے دہشت گردوں کو گرفتار کرتی یا ان کے ٹھکانے تباہ کرنے کی کوشش کرتی تو چار سدہ کے سانحہ سے بچا جا سکتا تھا۔ ان دونوں سانحات میں اگر طریقِ واردات میں مماثلث پائی گئی ہے، یعنی دہشت گرد عقبی دیوار سے کود کر یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور اے پی ایس کے انداز میں طلباء کو گھیر کر نشانہ بنایا تو یہ مماثلث بھی ہے کہ اب کی بار بھی دہشت گرد افغانستان سے آئے اور ان کے سہولت کار بھی وہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایسی وارداتوں کو مکمل طور پر روکنے کے لئے ضروری ہے کہ افغان حکام پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، اور دلجمعی سے حکومتِ پاکستان کا ساتھ دیں۔

یہ شواہد افغانستان میں موجود نیٹو فورسز کے بھی حوالے کئے جا سکتے ہیں اگر اُن کا تعاون حاصل کر کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے تو کامیابی ملنے کا امکان ہے۔ پاکستان، افغان طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے لئے کوششیں بھی کر رہا ہے اور اسی سلسلے میں18جنوری کو کابل میں اجلاس ہوا، عین ممکن ہے کہ جو افغان گروپ مذاکرات کے خلاف ہوں انہوں نے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ان کو ناکام بنانے کی کوششیں کر رکھی ہوں اور دہشت گردی کی تازہ وارداتوں کا مقصد پاکستان کو کوئی پیغام پہنچانا ہو جو مذاکرات کے لئے کوشاں ہے۔ ان تمام پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھ کر ہی تفتیش میں آگے بڑھنا ہو گا۔ یہ امر بہرحال حوصلہ افزا ہے کہ دہشت گردی کے اس افسوسناک واقعہ کے باوجود بطور مجموعی قوم کا ردعمل امید افزا ہے اور اس لحاظ سے دہشت گردوں کو کوئی کامیابی نہیں ملی۔ پروفیسر حامد حسین جیسے بہادروں نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے طلباء اور ساتھیوں کی جانیں بچانے میں جو کردار ادا کیا وہ مشعل راہ ہے اور حوصلے بلند رکھنے کا باعث بنا رہے گا۔

مزید :

اداریہ -