شہبازشریف سپریم کورٹ کے فیصلے پر نوازشریف کے منہ میں مٹھائی ڈالنے والے تھے ، میں نے منع کیا:چودھری نثار

شہبازشریف سپریم کورٹ کے فیصلے پر نوازشریف کے منہ میں مٹھائی ڈالنے والے تھے ، ...
شہبازشریف سپریم کورٹ کے فیصلے پر نوازشریف کے منہ میں مٹھائی ڈالنے والے تھے ، میں نے منع کیا:چودھری نثار

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نوازشریف کو سزا فو ج سے لڑائی سے قبل ہی ہوگئی تھی جب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ، سپریم کورٹ کے فیصلے پر شہبازشریف نوازشریف کے منہ میں مٹھائی ڈالنے والے تھے لیکن میں نے منع کیا ۔

جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ “ میں گفتگو کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا ہے کہ میرا نوازشریف سے اختلاف پانامہ سے شروع ہوا ۔ نوازشریف خوش آمد پسند ہیں ۔ مشرف دور میں نوازشریف کے گردوہ لوگ تھے جو ان کو درست مشورے دیتے تھے لیکن آہتہ آہستہ وہ ان کو چھو ڑ کر چلے گئے یا ان کو الگ کردیا گیا اور اس کے بعد نوازشریف کے گرد خوش آمدیوں کا گھیرا وسیع ہوتا گیا ۔ یہ لوگ ایسے درجے کے ہیں کہ میں ان کانام لینا پسند نہیں کرتا ۔شہبازشریف اب آئیں بائیں شائیں کررہے ہیں حالانکہ انہوں نے کہا تھاکہ چودھری نثار ٹکٹ مانگے نہ مانگے ان کو ٹکٹ دیا جائے گا ۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ کی حکومت ہے آپ فوجی قیادت کو بلائیں اور جومعاملات ہیں ان کو فوج کے آگے رکھیں میں ان کومشورہ دیتارہا تھا ۔

نوازشریف کو سزا فوج سے لڑائی سے پہلے ہوگئی جب سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ۔ جب عدلیہ نے فیصلہ کیا تو شہبازشریف اس وقت نوازشریف کے منہ میں مٹھائی ڈالنے والے تھے لیکن میں نے کہا کہ یہ اچھا نہیں لگتا ۔ ان کے فوج اور عدلیہ سے تعلقا ت بہت اچھے تھے ۔ چودھری نثار نے کہا کہ میں آج بھی مسلم لیگ کا ممبر ہوں میر ے داد اورباپ بھی مسلم لیگی تھے نوازشریف تو حادثاتی طور پر مسلم لیگی بنے ہیں۔ مریم نوازکے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں بچوں کے پیچھے ہاتھ باند کرکھڑا نہیں ہو سکتا اور اس موقف پر اب بھی قائم ہوں۔مجھے کوئی غلط راستے پر نہیں لگا سکتا ۔ مجھے ایک فوجی خاندان سے تعلق رکھنے پر فخر ہے اور میرے خاندان نے فوج کیلئے خون دیا ہے لیکن جب بھی فوج اور سول معاملات درپیش ہوتے تو میں ہمیشہ سول کی طرف کھڑا ہوتا تھا ۔

ان پانچ سالوں میں جب ڈان لیکس ہو یا کوئی اور معاملہ ان کے منہ میں تو زبان نہیں ہوتی تھی ۔ جب ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے ٹوئٹ آیا تو میں نے بیان دیا کہ یہ ٹوئٹ جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہے ۔جب ڈان لیکن پر فوجی قیادت اور سول قیادت میں میٹنگ ہوئی تووہا ں کوئی نہیں بولا، میں پرویز رشید کا دفاع کرتارہا ۔ جورپور ٹ آئی وہ پرویز رشید کی جانب سے فون پیش کئے جانے کے بعد آئی اور فون خود پرویز رشید نے پیش کیا کہ میرا فون لے لیں اور اس موقع پر فون میں انگریزی مسیج پر میں نے کہا کہ پرویز رشید انگریزی میں مسیج نہیں کر سکتا اور اس طرح پرویز رشید کا دفاع کیا ۔جیپ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے جیپ ، کیتلی اور میز کرسی کے نشانات اپلائی کئے تھے اور بالکل آخری دنوں میں مجھ کو جیپ کا نشان مل گیا ۔ اس سارے سیاسی ماحول میں مجھے جوسب سے جرات مندانہ انتخابی مہم لگی ہے وہ پیپلز پارٹی اور بلاول کی ہے ۔ یہ مستقبل میں ان کے لئے بہت سود مند ثابت ہوگی ۔

مزید :

قومی -