محکمہ پولیس میں قانون اور اہلیت کے مطابق ورثاء کو بھرتی کیا جائیگا، آئی جی پی

محکمہ پولیس میں قانون اور اہلیت کے مطابق ورثاء کو بھرتی کیا جائیگا، آئی جی پی

  

پشاور(کرائم رپورٹر)آئی جی پی خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثنااللہ عباسی نے گزشتہ روز کورونا وباکے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے پولیس افسروں اور جوانوں کے ورثاکے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے رابطہ کیا۔ آئی جی پی نے پولیس شہداکے ورثاسے باری باری بات کی اور ان کے مسائل تفصیل کے ساتھ سنے اور یقین دلایا کہ ان کو بروقت شہدا پیکج کی فراہمی اور پولیس ڈیپارٹمنٹ میں قانون اور اہلیت کے مطابق ورثاکو جلد از جلد بھرتی کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کہ کورونا کے خلاف لڑتے ہوئے اب تک 232 پولیس اہلکار متاثر ہوئے جن میں 92 صحت یاب بھی ہو چکے ہیں جبکہ 11پولیس اہلکار شہادت کے بلند مرتبے پر فائر ہوئے۔ ان افسروں میں ضلع پشاور سے تعلق رکھنے والے سب انسپکٹر نثار احمدشہید، اے ایس آئی فرید خان شہید، کانسٹیبل خطاب گل شہید اور کانسٹیبل شیر نواز شہید، جبکہ مردان سے ایس آئی راضی خان شہید، صوابی پولیس کے انسپکٹر غنی سید شہید، نوشہرہ پولیس کے کانسٹیبل محمد فہیم شہید، اپر دیر پولیس کے محمد اسلام شہید، مانسہرہ پولیس کے وجود خان شہید اور انسپکٹر محمد بشیر شہید اور بٹگرام پولیس کے اے ایس آئی نیاز شہید شامل ہیں،اس موقع پر بات کرتے ہوئے آئی جی پی نے شہداکے ورثاکو یقین دلایا کہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے اور کہا کہ پولیس شہدانے اپنے فرائض انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دیتے ہوئے لوگوں کی حفاظت کے لیے جان کی قربانی دی، جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور کہا کہ ان کے ورثاکی فلاح و بہبود ان کی اولین ترجیح ہے،آئی جی پی نے مزید کہا کہ قربانیاں دینا ہمارے فرائض میں شامل ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا پولیس کے غیور اور نڈر جوانوں نے کرونا وائرس کے خلاف لڑتے ہوئے بھی جان کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا اور یوں پولیس کی شہادتوں کی تاریخ میں ایک نیا اور سنہرا باب رقم کیا،شہداکے ورثانے آئی جی پی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کے ساتھ براہ رست بات کی، ان کے مسائل پوری توجہ اور یکسوئی سے سنے اور ان کو حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -