خیبر پختونخوا کو ڈیرہ بگٹی نہیں بننے دیں گے : جسٹس قیصر رشید

خیبر پختونخوا کو ڈیرہ بگٹی نہیں بننے دیں گے : جسٹس قیصر رشید

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشیدنے کہا ہے کہ اس ملک وقوم کی بدقسمتی ہے کہ گیس پیداکرنے والے علاقوں میں اہل علاقہ کو بنیادی سہولت سے محروم رکھاجاتاہے جبکہ ہزاروں میل دورلوگوں کو اس سے مستفید کیاجارہا ہے خیبرپختونخوا کو ڈیرہ بگتی نہیں بننے دیں گے جہاں پچاس سال بعد مقامی لوگوں کو گیس کے کنکشن فراہم کئے جارہے ہیں یہ کہاں کاانصاف ہے اس سے لوگوں میں بے چینی پھیل رہی ہے بدقسمتی سے ہرادارہ اپنابوجھ دوسرے پرڈالنے کی کوشش کررہا ہے فاضل جسٹس نے یہ ریمارکس گذشتہ روز بشری ناز ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرلاچی کوہاٹ کے علاقہ شیوہ کئی کے رہائشی صہیب حسن کی رٹ کی سماعت کے دوران دئیے دورکنی بنچ جسٹس قیصررشید اور جسٹس سید افسرشاہ پرمشتمل تھا اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ شیوہ کئی کے علاقے میں گیس کی پیدواربہت زیادہ ہے جبکہ علاقے کے رہائشیوں کو قدرتی گیس کی فراہمی نہیں کی جارہی ہے جبکہ آئین وقانون کے مطابق جس جگہ گیس پیداہوتی ہے علاقے کو ا ولین ترجیحات کی بنیاد پرگیس فراہم کی جائے گی لہذاعلاقے کو گیس کی فراہمی کے احکامات جاری کئے جائیں اس موقع پروزارت پٹرولیم و گیس کے ڈائریکٹراورڈپٹی اٹارنی جنرل کفایت اللہ پیش ہوئے اوربتایا کہ وزیراعظم نے 2017ء میں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں یہ منظوری دی ہے کہ گیس کے پیداواری علاقوں میں پانچ کلومیٹرکی حدود تک اہل علاقہ کو گیس کنکشن کمپنی کے اخراجات پردئیے جائیں گے اس موقع پر سوئی گیس کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ گیس کے کنکشن کی فراہمی پرپابندی ہے جس پرفاضل بنچ نے سیکرٹری فنانس ڈویژن ٗ جی ایم سوئی ناردرن گیس اورڈائریکٹرلیگل پٹرولیم ریسورسز کو19اپریل کو طلب کرلیا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -