مقبول ناول جوآپ کی ز ندگی بدل دے، قسط نمبر 36

مقبول ناول جوآپ کی ز ندگی بدل دے، قسط نمبر 36
مقبول ناول جوآپ کی ز ندگی بدل دے، قسط نمبر 36

  

صالح جو میرے برابر ہی میں بیٹھا تھا اس کی بات سن کر کہنے لگا:

’’تمھاری بخشش عبد اللہ کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے۔ البتہ تمھارے درجات تمھارے والد کی وجہ سے بلند ہوگئے ہیں۔ تم اس وقت حوض کوثر کے VVIP لاؤنج میں بیٹھی ہو۔ جانتی ہو تم پر اور تمھارے بھائی بہنوں اور والدہ پر یہ مہربانی صرف تمھارے باپ عبد اللہ کی وجہ سے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت ہے کہ کامیاب لوگوں میں سے جس شخص کا درجہ سب سے بلند ہوگا اس کے قریبی اعزا کو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جمع کردیں گے۔‘‘

وہ ناول جو آپ کی زندگی بدل سکتا ہے ۔ ۔ ۔ قسط نمبر35 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس پر عالیہ نے کہا:

’’جب ہی ہم بھائی بہنوں کے خاندانوں کے کسی فرد کو یہاں آنے کی اجازت نہیں ملی۔ صرف ہم بہن بھائیوں اور امی کو فرشتوں نے یہاں آنے دیا ہے۔ باقی لوگ بھی یہاں ہیں مگر انہیں پیچھے ٹھہرایا گیا ہے۔‘‘

یہ سن کر ناعمہ کے چہرے پر کرب کے گہرے آثار طاری ہوگئے۔ اس کے اندر کی ماں بولی:

’’سوائے جمشید کے۔‘‘

یہ بات سن کر ایک خاموشی چھاگئی۔ آخر انور نے خاموشی کے اس پردے کو یہ کہہ کر توڑا:

’’ابو مجھے تو آپ کے استاد فرحان صاحب کی اس تحریر نے بچالیا جو میں نے آپ سے اکثر سنی تھی۔ اس تحریر کو میں نے اپنی زندگی بنالیا تھا۔‘‘

عارفہ بولی:

’’بھائی! وہ تحریر کیا تھی؟ ہمیں بھی سناؤ۔‘‘

انور نے آنکھیں بند کیں اور بولنے لگا:

’’ہمارے دور کے مصلحین لوگوں کے اندر سے ترقی کی اس فطری خواہش کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ خدا ایسا نہیں کرتا۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ اس خواہش کا رخ دنیا کے بجائے آخرت کی طرف مڑ جائے۔ دنیا کی اشرافیہ اور اہل ثروت گروہ میں شامل ہونے کے بجائے لوگوں میں یہ خواہش پیدا ہوجائے کہ وہ خدا کے مقربین اور جنت کی اشرافیہ میں شامل ہوں۔ آپ پورے قرآن کی دعوت پڑھ لیں وہ اس کے سوا انسان میں کوئی ذہن پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ قرآن کے اولین مخاطبین صحابۂ کرامؓ اسی ذہن کی حامل ہستیاں تھیں۔ ابوبکرؓ و عمرؓ کا انفاق، عبدالرحمنؓ و عثمانؓ کی سخاوت اور علیؓ و ابو ذرؓ کی سادگی آخرت پر اسی ایمان کے مختلف مظاہر تھے۔ آخرت پر ایمان آدمی میں جو تبدیلی لاتا ہے اسے سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت کو ملاحظہ فرمائیں:

’’تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے۔ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے؟ بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیاتِ دنیا کا سر و سامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے دن سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟‘‘، (القصص ۲۸:۶۱۔۶۰)

آپ اندازہ کریں کہ جس شخص کے دل میں صرف اس ایک آیت پر پکا یقین ہو اس کی زندگی کس طرح گزرے گی؟ ایسا شخص مال کماتے وقت خدا کی اس نافرمانی کا خطرہ نہیں مول لے سکتا جس کا نتیجہ جہنم کی آگ ہے۔ اس کے مال کا بہترین مصرف، اپنی ضروریات پوری کرکے، آخرت کی ابدی اور زیادہ بہتر زندگی کی آرائش و زیبائش ہوگی۔ وہ دنیا میں کسی بھی نعمت کے حصول کے لیے آخرت کو کبھی خطرے میں نہیں ڈالے گا۔ وہ دنیا کے گھر سے پہلے آخرت کے گھر کی فکر کرے گا اور دنیا کی گاڑی سے پہلے آخرت کی سواری کی سوچے گا۔ اخلاق باختہ عورتوں کے عریاں اور نیم عریاں وجود پر نگاہ ڈالنے کی وقتی لذت کے لیے وہ ان حوروں سے محرومی گوارا نہیں کرے گا جن کا چاند چہرہ، حسنِ دلکش اور ابدی شباب کبھی نہیں ڈھلے گا۔

گھر والوں کی ضروریات اور خواہشات اسے کبھی کسی ایسے راستے پر نہیں لے جاسکتیں جو آخر کار جہنم کی دہلیز تک جا پہنچتا ہو۔ بیوی بچوں سے اس کی محبت اسے مجبور کرے گی کہ وہ انہیں بھی جنت کے راستوں کا مسافر بنائے۔ ان کی تربیت کرے۔ انہیں وقت دے۔ انہیں بتائے کہ جینا تو صرف آخرت کا جینا ہے۔ کامیابی تو صرف جنت کی کامیابی ہے۔ یہ دنیا دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں۔ جہاں ہم سے پہلے بھی بے گنتی لوگوں کا امتحان ہوا اور ہمارا بھی امتحان ہورہا ہے۔ چند برسوں کی بات ہے۔ نہ ہم رہیں گے نہ امتحان کے یہ صبر آزما لمحے۔ کچھ ہوگا توخدا کی رحمت ہوگی۔ اس کی جنت ہوگی۔ ختم نہ ہونے والی نعمتیں ہوں گی۔ عزت و اکرام کی رفعتیں ہوں گی۔ لہجوں میں وقار ہوگا۔ چہروں پر نکھار ہوگا۔ صالحین کی پاکیزہ قربت ہوگی۔ دوست احباب کی پرلطف صحبت ہوگی۔ ہیرے جواہرات کے محلات ہوں گے۔ مشک و عنبر کے باغات ہوں گے۔ سندس و حریر کی آرائش ہوگی۔ یاقوت و مرجان کی زیبائش ہوگی۔ دودھ و شہد کی نہریں ہوں گی۔ مائے مصفا کی لہریں ہوں گی۔ سونے چاندی کے شجر ہوں گے۔ آب و شراب کے ساغر ہوں گے۔ فرشتوں کے سلام ہوں گے۔ مرغ و ماہی کے طعام ہوں گے۔

غرض عیش و سرور اور حور و خدام کی یہ ابدی دنیا، آب و شراب اور قصر و خیام کی یہ ابدی دنیا، جاہ و حشم اور لذت و انعام کی یہ ابدی دنیا، چین و سکون اور لطف و اکرام کی یہ ابدی دنیا وہ دنیا ہوگی جہاں کوئی دکھ نہ ہوگا۔ کوئی غم نہ ہوگا۔ کوئی مایوسی نہ ہوگی۔ کوئی پچھتاوا نہ ہوگا۔ کوئی محرومی نہ ہوگی۔ کوئی محدودیت نہ ہوگی۔ بدنصیب وہ نہیں جسے فانی دنیا نہیں ملی۔ بد نصیب وہ ہے جسے یہ ابدی دنیا نہیں ملی۔‘‘

اس آخری بات پر انور کی آواز بھراگئی۔ اسے شاید اپنے بھائی جمشید کا خیال آگیا تھا، مگر اسے معلوم نہ تھا کہ اس نے یہ تحریر سناکر میرے لیے جمشید کے صدمے کے ساتھ میرے استاد فرحان صاحب کا صدمہ بھی جمع کردیا ہے۔ میں نے دل میں سوچا:

شاید میدان حشر میں بھی ہمیں کچھ نہ کچھ غم دیکھنے ہی ہیں۔ یہ صرف جنت ہی ہے جہاں داخلے کے بعد ہر غم اور ہر پریشانی ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی۔

جاری ہے

(ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مزید :

جب زندگی شروع ہوگی -