طاقت اور کرنل کی بیوی

طاقت اور کرنل کی بیوی
طاقت اور کرنل کی بیوی

  

میرے ملک میں پاور کا غلط استعمال کوئی نئی بات تو نہیں ہے بلکہ میرے ملک میں کام نکلوانے کے لئے پاور فل ہونا بہت ضروری ہے، کرپشن اور فرسودہ نظام میں پلنے والے معاشرے میں جہاں امیر اور غریب کا واضح فرق موجود ہو اور جہاں غریب لمبی لائنوں میں لگ کر انصاف اور اپنے جائز کام کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو اور امیر چور راستوں سے ہوکر " انصاف " بھی لے اڑے اور اپنا ناجائز کام بھی باآسانی کروا لے تو اس معاشرے میں اشرافیہ کے علاوہ ہر وہ پاور حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی جو اس کے راستے کی حائل رکاوٹوں کو دور کرتی چلی جائے گی. 

سوشل میڈیا پر کرنل کی بیوی کے چرچے ہر سو پھیلے ہوئے ہیں اور اس کی پولیس اہلکار سے غنڈہ گردی کی فوٹیج وائرل ہونے کے بعد ایک ایسا ماحول پیدا ہوگیا ہے کہ شاید یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جیسا کہ میں نے اوپر غنڈہ گردی کا لفظ استعمال کیا ہے تو کیا ایسی غنڈہ گردی ہمارے معاشرے میں ایک ناسور بن کر اس کا حصہ نہیں بن چکی جس کی وجہ سے میرے ملک کا ہر باسی اپنے جائز اور ناجائز کام کے لئے کسی سفارش کا سہارا لیتا ہے، اگر میں اپنے شعبے یعنی صحافت کی ہی بات کروں تو پاکستان کے ہر علاقے میں صحافیوں کی موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں پر پریس رپورٹر، کرائم رپورٹر، بیورو چیف نمایاں کر کے لکھوایا جاتا ہے تاکہ کسی ناکے پر کھڑے پولیس اہلکاروں پر دھونس جمائی جاسکے اور یہ حقیقت ہے کہ صحافی برادری سے موٹرسائیکل یا گاڑی کے کاغذات مانگے جائیں تو اس کے پاس لائسنس سمیت تمام کاغذات کی جگہ ایک واحد کاغذ پریس کارڈ ہی ہوتا ہے جسے دکھا کر وہ ناکے سے باآسانی گزر بھی جاتا ہے اور ہر سرکاری ادارے میں یہی پریس کارڈ اس کے لئے آسانیوں کے ساتھ رستے کھولتا چلا جاتا ہے کہ اسکی دھونس بھی برقرار رہتی ہے اور اس کے اندر صحافتی غنڈہ گردی کرنے کا اعتماد زیادہ سے زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے. 

اسی طرح ہمارے وکلاء برادری بھی اپنی گاڑیوں پر ایڈووکیٹ سیشن کورٹ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ لکھوا کر طاقت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں تاکہ وہ بھی با آسانی پیچیدہ راہوں سے آسانی کے ساتھ نکل جائیں، یہی نہیں ان کا کالا کوٹ تو کسی کو خاطر میں نا لاتے ہوئے آئین شکن نظام کی ترویج بھی کر رہا ہے، قانون کی موٹی موٹی کتابیں حفظ کرنے والے وکلاء بڑی دیدہ دلیری سے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہیں اور ایسی غنڈہ گردی کے مرتکب ہوتے ہیں کہ جس سے پڑھے لکھے اور ان پڑھ کے درمیان پایا جانے والا فرق ختم ہوجاتا ہے بلکہ دو ہاتھ آگے نکل جاتا ہے. 

پولیس کا رویہ بھی ایسا ہی ہے، کسی پبلک ٹرانسپورٹ میں پولیس اہلکار سفر کر رہا ہو تو اس کے پاس کرایہ نا دینے کا جواز ایک ہی ہوتا ہے کہ وہ " ملازم " ہے یہی وہ طاقت کااظہار ہے جس نے پورے معاشرے کو ایک ذہنی دباؤ کا شکار کر کے رکھ دیا ہے، پولیس اہلکار کے ملازم کہہ دینے سے لیکر غریب اور ناحق گرفتاریوں تک پولیس بھی غنڈہ گردی کی ایسی مرتکب ہوتی ہے کہ قانون اندھا ہی نہیں قانون پاگل نما چیز بھی محسوس ہونے لگ جاتا ہے.

ہمارے ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان پر بھی نظر ڈالیں تو ان کی گاڑیوں پر بھی ایم پی اے اور ایم این اے کی نیم پلیٹیں اسی طاقت کی نشاندہی کرتی پائی جاتی ہیں کہ ہم کسی بھی قانون سے نا صرف بالا تر ہیں بلکہ معاشرے کا وہ کردار ہیں جو عوام کے نمائندے تو ہیں مگر عوام کے ووٹ سے ان کے حاکم بن چکے ہیں، ہم خدمت گار نہیں بلکہ عوام سے خدمت کروانے اور ان پر دھونس جمانے سے لے کر اپنے اسی ٹائٹل کے ساتھ بآسانی ہر محکمے اور ہر ادارے سے کام نکلوانے تک ہمارا حق بھی ہے اور بدتمیزی کرنے کا اختیار بھی ہمیں میسر ہے۔

ایسا ہی کچھ عمل کرنل کی بیوی کی جانب سے بھی دیکھنے میں آیا جس نے اپنے خاوند کے رینک کی پولیس اہلکار پر دھونس جمائی اور اسی دھونس میں غنڈہ گردی اور پاگل پن کا ایسا شاندار مظاہرہ کیا کہ آپے سے باہر ہوگئی اور سرحدوں کے نگہبان کی اہلیہ چند لمحے انتظار کی زحمت برداشت نا کر سکی اور اپنی پاور کا اظہار کر دیا، اگر معاشرے میں اصول اور قانون کی ایسی بالادستی ہو جو سب کے لئے یکساں ہو تو لازمی طور پر کسی کو اپنی پاور شو کرنے کا موقع نا ملے، پاکستان میں ہر فرد جس کے ہاتھ میں تھوڑی سی بھی پاور ہے یا اس کے مامے چاچے کے ہاتھ میں کوئی پاور ہے، وہ اسے استعمال کرنے سے روکتا نہیں ہے.

کرنل کی بیوی منظر عام پر آگئی اس وجہ سے زیادہ نظر آ رہی ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ہمارے ہاں دھونس جمانے اور غنڈہ گردی کرنے کا رواج عام ہوچکا ہے جو پروان چڑھ رہا ہے اور ملک کے باقی ماندہ نظام کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے.

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -