غربت، مہنگائی، بے روزگاری لوڈ شیڈنگ سمیت حکومت کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکی: سراج الحق

غربت، مہنگائی، بے روزگاری لوڈ شیڈنگ سمیت حکومت کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکی: ...

  



لاہور(ڈویلپمنٹ سیل)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے منصورہ میں منعقدہ صوبائی امراء کی حلف برادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اب تک کی کارکردگی سے عوام النا س مطمئن نہیں ہیں۔بڑے بڑے دعوں اور وعدوں کے ساتھ آنے والی حکومتوں نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔غربت،منگائی،بے روزگاری لوڈشیڈنگ سمیت حکومت کوئی مسئلہ حل نہیں کرسکی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال دھرنا دینے والی دو جماعتوں اور حکومت میں مصالحت اس لئے کروائی تھی کہ حکومت کو ڈلیور کرنے کا موقع مل سکے اور اپنے اوپر لگنے والے دھاندلی کے الزامات کو دھو سکے۔حکومت نے قوم سے انتخابی اصلاحات کا وعدہ بھی کیا مگر آج تک حکومت اپنے اس وعدے پر عمل درآمد نہیں کراسکی۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بھی اپنی کارکردگی کو بہتر نہیں بنایا۔حالیہ ضمنی انتخابات الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشا ن ہیں۔ملک کا بچہ بچہ کہہ رہا ہے کہ دو جماعتوں کے درمیان دولت کا مقابلہ تھا۔جس الیکشن کی بنیاد خدمت ،صلاحیت کی بجائے دولت ہو اس سے عوام کے مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے ہیں اور منتخب ہونے والی قیادت فلاح و بہبود کی بجائے اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کرتی ہے۔سراج الحق نے بھارت میں انتہاپسندی اور مسلمانوں سمیت اقلیتوں پر ہندوؤں کے تشد د اور جلاؤ گھیراؤ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران کرکٹ ڈپلومیسی اور فنکاروں ،اداکاروں کے ذریعے مودی کی اسلام و پاکستان دشمنی ختم نہیں کرسکتے ۔بھارت سے دوستی کی باتیں کشمیر کاز کے ساتھ غداری ہے۔ ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اوبامہ کے پاس گئے ہیں کہ شاید وہ خطے کے مسائل حل کروائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی سادگی پر ترس آتا ہے اوبامہ کا مسئلہ کشمیر کے تنازعہ کو حل کروانا نہیں بلکہ اپنے مطالبات منوانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ انڈیا پاکستان کا ازلی دشمن ہے جو اس کے ساتھ دوستی کی بات کر تا ہے وہ پاکستان کے ساتھ دشمنی کرتا ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم ملک میں آزاداور خود مختار عدلیہ کے قائل ہیں اور آئین کی بالادستی کے لیے ہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں مگر آج عدالتوں کا کردار بھی اطمینان بخش نہیں۔جن ججز کی بحالی کے لیے تحریک میں ہم نے ڈکٹیٹر مشرف کے ظلم و جبر کا مقابلہ کیا آج آئین اور جمہوریت کاساتھ دینے کی بجائے آئین کے بنیادی ڈھانچے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کسی بھی قانون کی اجازت نہیں دیتا،قرآن و سنت نے سود کو اللہ اور رسول کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔مگر ایک جسٹس صاحب کہتے ہیں کہ جس کی مرضی وہ سود لے اور جس کی مرضی نہ ہو نہ سود نہ لے۔انہوں نے کہا کسی پارلیمنٹ اور عدالت کو حق نہیں کہ وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی حقیقی جمہوری جماعت ہے۔ہماراایجنڈا ملک کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی و فلاحی مملکت بنانا ہے تاکہ عوام کو غربت،جہالت ،مہنگائی بے روزگاری اور کرپشن جیسے مسائل سے نجات دلائی جاسکے۔جماعت اسلامی علاقائی ،ملکی اور قومیت کے تعصبات سے پاک ہے ۔اس لیے صرف جماعت اسلامی علاقے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو متحدکرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنی دعوت کی بنیاد پر ملک کو ایک ترقی یافتہ خوشحال ملک بنانے کے لیے ہر قربانی دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 2018ء کے انتخابات میں ایک بڑی عوامی قوت بن کر سامنے آئے گی۔قبل ازیں پنجاب سے میاں مقصود احمد ،سندھ سے معراج الہدیٰ صدیقی ،خیبر پختونخوا سے مشاق احمد خان اور بلوچستان سے مولانا عبدالحق ہاشمی نے تین سال کے لیے امارت صوبہ کا حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب میں جماعت اسلامی کی مرکزی و صوبائی قیادت منتخب ضلعی ناظمین ،ضلعی امراء،ارکان قومی اسمبلی ،سنیئر صحافیوں سمیت کارکنان کی بڑی تعداد شریک تھی،تقریب میں پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سمیت سیاسی و دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

مزید : صفحہ آخر