قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 93

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 93
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 93

  

عمرہ کی سعادت

مکہ اور مدینہ دو ایسی سرزمینیں ہیں کہ جب تک وہاں سے بلاوا نہ آئے کوئی وہاں پہنچ نہیں سکتا اور جب بلاوا آجائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ یہ ایک عام مسلمان کا ایمان ہے۔ یہ سنا تھا لیکن کبھی اس کا تجربہ نہیں ہوا تھا ۔ ہوایوں کہ ناروے میں ایک مشاعرہ تھا۔ پروگرام یوں بنا تھا کہ نارو ے سے واپسی پر میں کچھ دن کیلئے انگلینڈ میں ٹھہروں گا جہاں میرا بیٹا اور بیٹی مقیم ہیں جہاں سے میرا ضمیر جعفری صاحب کے ساتھ کچھ ایسے ملکوں کی سیر پر جانے کا پروگرام بنا تھا جو ہم نے پہلے نہیں دیکھے تھے۔ چنانچہ میں اور ضمیر جعفری صاحب نارو ے کے مشاعرے سے فارغ ہو کر انگلینڈ پہنچے۔ ضمیر جعفری صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آئندہ پروگرام پر قائم ہو۔ اس وقت تک میں ان سے پوری طرح متفق تھا اس لیے پھر ہاں کر دی۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 92 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

لیکن رات کچھ ایسا ہوا کہ مجھے بہت دیر تک نیند نہیں آرہی تھی اور پھر وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ نیند کیوں نہیں آرہی۔ ایسے موقعوں پر جب کہ شعر کی آمد ہونے والی ہو تو مجھ پر یہ کیفیت رہتی ہے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ شاید کچھ اشعار صفحہ قرطاس پر آنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ میں نے لائٹ جلائی اور کاغذ قلم لے کر بیٹھ گیا۔ مگر کوئی شعر وارد نہ ہوا۔ اور وہ رات بے چینی میں کٹی۔ وہ تین گھنٹے کیلئے بمشکل سوسکا مگر پھر بھی تھکاوٹ دور نہ ہوئی۔ جب میں جا گا تو صبح ذہن میں یہ بات تھی کہ مجھے عمرہ کرنے کیلئے سعودی عرب جانا چاہئے۔

خواب تو مجھے کوئی نہیں آیا اور نہ میں خوابوں کا قائل ہوں۔ البتہ اپنے اندر سے یہ آواز آرہی تھی کہ عمرے کے لیے جانا چاہیے۔ ناشتہ کر چکا تو ضمیر جعفری صاحب کا ٹیلیفون آیا اورا نہوں نے پوچھا کہ پہلے کہاں جایا جائے۔ میں نے کہا کہ جعفری صاحب میرا پروگرام بدل گیا ہے ۔ کہنے لگے کہاں جانا ہے۔ میں نے کہا کہ میں تو عمرہ کرنے کیلئے جا رہا ہوں۔ وہ کہنے لگے کہ اس سے اچھی کیا بات ہے ۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم پہلے پروگرام کے مطابق کچھ ممالک کی سیر کر آئیں پھر آپ عمرہ کیلئے چلے جائیے گا۔ میں نے کہا کہ نہیں جی اس پھیرے میں تو یہی ایک کام ہو گا۔ اور میں لندن سے اب وہیں جاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے بخوشی اجازت دیدی اور وہ اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔

جمیل الدین عالی بھی ان دنوں وہیں پر تھے اور ہمارے ساتھ ہی ناروے سے واپس آئے تھے۔ ان کے بینکوں کا سلسلہ کئی ممالک میں پھیلا ہوا تھا اس لیے میں نے ان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ میں ٹیلیفون کر دیتا ہوں اور مکہ معظمہ میں آپ کے ٹھہرنے کا بندوبست ہو جائے گا۔ پھر وہاں آپ کے کئی جاننے والے بھی مل جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے بات کی۔

اس کے بعد میں لندن میں پاکستانی سفارت خانے میں گیا اور وہاں اپنے دوستوں سے کہا کہ مجھے سعودی عرب کے ویزا کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے اسی وقت بیٹھے بیٹھے ویزا بنا دیا اور یوں ایک رات پہلے کی کیفیت نے اپنا راستہ نکالا اور منزل کا رخ بتا دیا۔ چنانچہ میں گلا سگو جہاں پر میرے بچے ہیں وہاں سے ہو کر جہاز کے ذریعے سعودی عرب روانہ ہو گیا۔ جدہ میں قیام ہوا اور وہاں پر میں نے نیشنل بینک والوں کے مہمان خانے میں قیام کیا۔ وہیں پر مجھے احرام بھی مہیا کر دیا گیا جو میں نے باندھ لیا۔ اور اس کے بعد عمرہ کیلئے روانہ ہو گیا۔ اس میں تقریباً سبھی مناسک حج والے ہیں صرف یہ ہے کہ میدان عرفات وغیرہ کا طوائف نہیں کیا جاتا۔

میں نے وہاں خانہ کعبہ کا طوائف کیا۔ اس زمانے میں وہاں اتنا رش نہیں تھا کیونکہ حج کے زمانے میں جتنا رش ہوتا ہے اس کے بعد عمرے کے دوران اتنا رش نہیں ہوتا۔ چنانچہ میں نے اطمینان سے عمرہ کیا اور جو جو فرض ضروری تھا وہ پوری دلجمعی سے ادا کیا اور میرے سینے میں ایک روشنی بھر گئی۔ میں نے اپنے اندر ایک نئی قوت محسوس کی جس کی قوت ایمانی کہا جا سکتا ہے ۔ لطف اس بات کا آتا رہا کہ وہ اب زمزم جس کے چند قطرے ہم تبرکاً لے کر پورے پورے مٹکوں میں ڈالتے ہیں اور اسے بڑی احتیاط اور ادب سے استعمال کرتے ہیں وہاں اس کی افراط دیکھی۔ جس مہمان خانے میں ٹھہرے ہوئے تھے اس میں جتنا پانی تھا وہ زمزم کا تھا اور وہاں آب زمزم ہی سے غسل بھی کیا۔ اب یہ تو خدا ہی جانتا ہے کہ ہمارے جسموں میں جتنی غلاظتیں ہوتی ہیں وہ آب زمزم سے بھی دھل سکی ہیں یا نہیں ۔ لیکن وافر پانی سے میں نہایا اور خدا کا شکر ادا کیا۔

اس کے بعد دوسرے دن فلائنگ کوچ سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوا۔ وہاں بھی نیشنل بینک والوں نے میرا بندوبست کیا ہوا تھا۔ وہاں پہنچا تو عربی لباس میں ملبوس ایک شخص کو اپنا منتظر پایا ۔میں تھوڑا سا گھبرایا کہ ان لوگوں نے ایک عرب کو میرے استقبال کے لیے بھیج دیا ہے۔ سوچا کہ چلو جو تھوڑی بہت انگریزی آتی ہے اسی سے اس سے بات کر لوں گا ۔ اس شخص نے خالص عربی انداز میں مجھے اہلا و سہلا مرحبا کہا۔ جب میں نے اس سے انگریزی میں بات کرنی چاہی تو اس نے خالص اُردو زبان میں کہا کہ آپ کا سفر ٹھیک گزرا۔ میں نے سکھ کا سانس لیا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ ’’زبان من عربی و من عربی نمی دانم ‘‘ والا معاملہ نہیں بنا۔ اس نے وہاں سے مجھے ساتھ لیا اور مجھے ایک ایسے گھر میں لے گیا جس کا اندر کا نقشہ مانوس سا تھا۔ پتہ چلا کہ وہ گھر پشاور کے رہنے والے ایک صاحب سیٹھی کا ہے۔ مزید گفتگو سے پتہ چلا کہ میرے دوست یوسف شاد جو پشاور کے رہنے والے ہیں یہ ان کے کزن ہیں۔ اور جب انہوں نے میرا سنا تو مہمان خانے کی بجائے میرے قیام کا بندوبست اپنے گھر میں کیا۔ یوں میں مدینہ منورہ میں اپنے ہی ایک دوسرے گھر میں قیام پذیر ہوا۔

یہ گھر مسجد نبویﷺ سے بہت قریب تھا۔ میں نے اس کے بعد کی نماز مسجد نبویﷺ میں جا کر ادا کی۔ مسجد نبویﷺ ہی میں روضہ رسولﷺ پر حاضری دی۔ اس طرح میں وہاں پر جو ایک دو دن قیام پذیر رہا اپنی سب نمازیں جا کر مسجد نبویﷺ ہی میں ادا کیں۔ اس دوران وہاں جمعۃ الوداع بھی آیا۔ وہ بھی میں نے مسجد نبویﷺ ہی میں گزارا اور عبادت کی۔

میں نے وہاں یہ بات دیکھی کہ وہاں آنے والے مختلف لوگوں کے مسلک مختلف تھے۔ اور سب مختلف انداز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ کسی نے ہاتھ چھوڑے ہوئے تھے اور کسی نے ہاتھ باندھے ہوئے تھے ۔کوئی اونچی آواز سے آمین کہتا اور کوئی نیچی آواز سے ۔ اس کے باوجود جب جماعت کے بعد لوگ آمین کہتے تو اس میں ایک ایسی موسیقیت تھی کہ جی چاہتا تھا کہ میں بھی اونچی آواز سے آمین کہوں۔ پہلی مرتبہ جب میں نے نماز ادا کی تھی تو میں نے بھی منہ ہی میں آمین کہا تھا لیکن دوسری بار میں بھی اونچی آواز سے آمین کہنے والوں میں شامل ہو گیا تھا۔ وہ آمین ٹیون کا ایک خوبصورت ٹکڑا بن گیا تھا۔

وہاں پر میں یہ سوچتا رہا کہ اگر دنیا بھر کے یہاں آئے ہوئے مسلمان ایک ہی امام کے پیچھے اپنے اپنے طریقے سے نماز پڑھ سکتے ہیں تو اپنے ممالک میں جا کر ان پر کیا مصیبت آپڑتی ہے کہ یہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور اپنی اپنی چار اینٹ کی مسجد علیحدہ علیحدہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں۔اور لڑائی مارکٹائی اوردنگا فساد بعض اوقات طریق نماز یا یارسول اللہ ﷺ کہنے پر ہی ہو جاتا ہے ۔ جبکہ مسجد نبویﷺ میں کس قدر امن و امان اور اتحادِ اسلامی یا اتحادِ انسانی کی کیفیت ہوتی ہے۔

وہاں پر اتنی نورانی اور پرسکون فضا تھی کہ جی چاہتا تھا کہ نماز ختم نہ ہو لیکن وہاں نماز طویل نہیں تھی۔ اذان سے پہلے ہمارے ہاں جو صلوٰتیں پڑھی جاتی ہیں وہ بھی وہاں پر نہیں تھیں اور آج کی مصروف دنیا کو سامنے رکھ کر یوں لگتا ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے سارے انتظامات کر رکھے تھے اور ان کی عبادات میں کوئی چیز غیر ضروری نہیں تھی۔ یہ نہیں کہ آپ کی نماز میں تھک کر کھڑے کھڑے ٹانگیں ہی کانپنے لگیں۔ ایسا لگتا تھا کہ ایسے ہی ہونا چاہیے۔ حالانکہ یہ جمعتہ الوداع تھا لیکن اس کے باوجود جمعہ کی نماز اور دیگر چیزیں صرف آدھ گھنٹے میں ختم ہو گئی تھیں۔

اس سے جب میں یہاں کی مساجد کا موازنہ کرتا ہوں اور بالخصوص اپنے محلے کی مسجد کا موازنہ کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ ہمارے یہاں جمعہ کے روز بارہ بجے دوپہر سے ہی بچوں کے ہاتھ میں مسجد کا سپیکر دے دیا جاتا ہے جو غلط سلط نعتیں پڑھتے رہتے ہیں۔ اور لاؤڈ سپیکر کی آواز پوری چھوڑی ہوتی ہے۔ انہیں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ قریب و جوار میں کوئی مریض بھی ہو سکتا ہے ۔ یا پھر کوئی بچہ سویا ہو سکتا ہے یا کسی کو ذہنی کام کرنا یا امتحان دینا ہو سکتا ہے ۔ لیکن انہیں کسی کا کوئی خیال نہیں ہوتا۔ یہ لاؤڈ سپیکر کا بے دریغ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جب مولوی صاحب کے ہاتھ میں سپیکر آتا ہے تو انہیں یہ خیال ہی نہیں ہوتا کہ ان کے سامنے لاؤڈ سپیکر ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کم آواز کو بلند کرنے والا آلہ ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میں نے خود اونچی بولنا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے پھیپھڑوں کا پورا استعمال کر کے تقریر کرتے ہیں اور وہاں غوغے کی صورت میں پیدا ہو جاتی ہے۔ اور بارہ بجے دوپہر سے شروع کیا ہوا ان کا شغل اڑھائی بجے کہیں جا کر ختم ہوتا ہے ۔ اس کے بعد وہ اللہ کا ذکر بھی لاؤڈ سپیکر پر شروع کرتے ہیں جو تقریباً آدھا گھنٹہ جاری رہتا ہے ۔گویا تین گھنٹے اسی معاملے میں یہ لے لیتے ہیں جبکہ مسجد نبویﷺ میں آدھ گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں لیا جاتا۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 94 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

گھنگروٹوٹ گئے -