نواز شریف قومی اثاثہ ہیں،اُن کی حفاظت کریں

نواز شریف قومی اثاثہ ہیں،اُن کی حفاظت کریں
نواز شریف قومی اثاثہ ہیں،اُن کی حفاظت کریں

  



پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کوسرکاری رپورٹس میں سنگین خطرات کی واضح نشاندہی کے باوجود بروقت ہسپتال منتقل نہ کرنا حکومتی بے حسی اور بدترین سیاسی انتقام پہ مبنی پالیسی ہے۔جیل مینوئل پر عمل نہ کرکے کم ظرف حکمران لاقانونیت کے مرتکب ہورہے ہیں،نواز شریف صاحب کی حالت پر بہت تشویش ہے۔

کچھ بھی ہوسکتا ہے ،حکومت وقت اور ادارے ڈاکٹرز کا بورڈ مکمل ٹیسٹ کروانے کے بعد تشخیص اور مکمل علاج کریں تاکہ قید میں انصاف کے ساتھ ساتھ انکے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی نہ ہو۔ویسے یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ جو سلوک ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ انکے عہدے کے دوران آفس میں،ٹرائیل کے دوران عدالت میں،اور بعد از ٹرائیل جیل میں رکھا جارہا ہے اسکی مثال نہیں ملتی۔ٹرائیل جج کی ویڈیو کے بعد ناانصافی کا سلسلہ رکنا چاہیے۔کیاججوں کو نظر نہیں آرہا،جو چھینک آنے پر سوؤ موٹو لیتے تھے،ارشد ملک کی ویڈیو کےبعدانصاف کوتوسانپ ہی سونگھ گیاہےاورانصاف کی پامالی کاایسا تماشا شاید ہی دنیا میں دیکھنے کو ملےکہ جج صاحب اورانکوبلیک میل کرنےوالےگھرسو رہے ہیں،طالع آزما دبئی میں ہےاورنواز شریف جیل میں، یہ انصاف کیساتھ کھلا مذاق اور تضادہے۔نواز شریف صاحب کوسمجھیں پہچانیں اورانکی عزت کریں،جیل میں اپنےلیڈران کو مارناعزت دارقوموں کاشیوہ نہیں،جو انکی ملک کے لئے خدمات ہیں ان کااحساس اوراحترام کریں، آگے بڑھیں اور ان سے بہتر ملک کی خدمت کریں،انکو کچھ ہوا تو صدمہ تو الگ بات ہے،قوم لیڈرشپ پیدا کرنے کی بجائے افراتفری اور انتشار کی طرف چلی جائے گی۔ جنرل مشرف کے اختتامیے سے ہی سبق سیکھیں۔قوم کی راہنمائی کے علمبردار اپنے قومی محسنوں کی عزت کرنا سیکھیں وگرنہ جنرل مشرف کے اختتامیے سے کچھ سبق حاصل کریں۔وہی قومیں اقوام عالم میں برابری پہ جگہ یا عزت پاتی ہیں جو اپنے بڑوں اور محسنوں کو نہیں بھولتیں۔جوکروں سے تو دنیا بھری پڑی ہے۔

 نوٹ:یہ بلاگرکاذاتی نقطہ نظرہےجس سےادارے کامتفق ہونا ضروری نہیں،اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان پربلاگ لکھناچاہتے ہیں تواپنی تحاریرای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327"  پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ