’آج کل آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں بہت اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ سمندر میں بحری جہاز۔۔۔‘ سائنسدانوں نے ایسی وجہ بتادی جو کوئی شخص تصور بھی نہ کرسکتا تھا

’آج کل آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں بہت اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ سمندر میں ...
’آج کل آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں بہت اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ سمندر میں بحری جہاز۔۔۔‘ سائنسدانوں نے ایسی وجہ بتادی جو کوئی شخص تصور بھی نہ کرسکتا تھا

  

لندن(نیوز ڈیسک) قدرتی آفات ہمیشہ سے کرہ ارض کو نشانہ بناتی رہی ہیں لیکن گزشتہ کچھ دہائیوں سے ان کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ زلزلے، سیلاب اور سمندری طوفان آئے روز تباہی برپا کر رہے ہیں، اور اسی طرح آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں بھی قابل ذکر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خصوصاً آسمانی بجلی کا معاملہ ایک عرصے سے پراسرار رہا ہے لیکن اب پہلی بار سائنسدانوں نے یہ انکشاف کر کے ہر کسی کو حیران کر دیا ہے کہ بحری جہازوں کے انجنوں سے نکلنے والی گیسوں اور کیمیکل ذرات کی وجہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔

سائنسی جریدے ’نیو سائنٹسٹ‘ کے مطابق یونیورسٹی آف واشنگٹن کے سائنسدان جوئل تھورنٹن کا کہنا ہے کہ 2005ءسے لے کر 2016ءکے ڈیٹا کا جائزہ لینے سے پتہ چلا ہے کہ آسمانی بجلی گرنے کے زیادہ تر واقعات مشرقی بحر ہند اور بحیرہ جنوبی چین میں پیش آئے ہیں۔ گرج چمک کے ساتھ یہ طوفان عموماً دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں کے علاقوں میں نمودار ہوتے ہیں۔ان سمندری راستوں سے سالانہ لاکھوں بحری جہاز گزرتے ہیں۔

بدترین طوفان نے امریکا کا ساحل خشک کر دیا، پانی کہاں گیا؟ جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ ایسا بھی ممکن ہے

ماہرین نے اس معاملے پر طویل تحقیق کے بعد پتہ چلایا ہے کہ بحری جہازوں کے انجنوں سے نکلنے والے ’ایروسول کیمیکل‘اس معاملے کی بنیادی وجہ ہیں۔ یہ ایروسول کرسٹل ایسے بیجوں کا کردار ادا کرتے ہیں جن کے اردگرد بخارات جمع ہوجاتے ہیں۔ مصروف بحری راستوں کے اوپر ایروسول کی بڑی مقدار جمع ہونے سے ان کے اردگرد بخارات جمع ہوکر ہلکے بادل بنتے ہیں جو بہت بلندی پر چلے جاتے ہیں اور برفیلے بادلوں کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔ ایروسول کرسٹلز والے یہ بادل جب انتہائی بلندی پر پہنچتے ہیں تو کنویکشن موجوں کی وجہ سے ان میں بجلی کڑکتی ہے اور شدید طوفان رونما ہوتے ہیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ماحول میں خارج ہونے والی عمومی آلودگی میں کمی سے یہ مسئلہ کسی حد تک کم ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس کا اصل حل بحری جہازوں سے خارج ہونے والے ایروسول کیمیکلز پر قابو پانے سے ہی مل سکتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -