پشاور ، پولیو کے قطرے پینے سے 60طلبہ کی حالت غیر،مشتعل والدین نے ہسپتال جلا ڈالا

پشاور ، پولیو کے قطرے پینے سے 60طلبہ کی حالت غیر،مشتعل والدین نے ہسپتال جلا ...

  



پشاور(مانیٹرنگ ڈیسکوآن لائن )پشاور کے علاقہ بڈھ بیر ماشو خیل کے نجی سکول میں انسداد پولیو کے قطرے پینے سے 60بچوں کی حالت خراب ہوگئی جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کیلئے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر ماشو خیل کے نجی سکول میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے لیکن کچھ دیر بعد 60سے زائد بچوں کی حالت خراب ہوگئی جنہیں ابتدائی طبی امداد کیلئے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا ۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہیں بچوں کے مشتعل والدین سکول کے باہر اکٹھے ہو گئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور بچوں کو زائدالمیعاد پولیو کے قطرے پلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے مشتعل والدین نے بنیادی مرکز صحت کو مکمل طور پر جلا دیا ۔سکول پرنسپل اور ٹیچرز سمیت بچوں کا موقف تھا کہ انہوں نے پولیو سے بچا کی ویکسین پی تو ان کی حالت خراب ہوگئی ۔دوسری جانب ترجمان حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا کہنا ہے کہ بچوں کی حالت تشویشناک نہیں ، بچوں کو قے اور سر چکرانے کی شکایت ہے۔دوسری جانب کوآرڈینیٹر ای پی آئی کامران آفریدی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ویکسین سے ری ایکشن ہو ہی نہیں سکتا، ویکسین زائد المیعاد بھی نہیں ہے، تمام بچوں کی حالت نارمل ہے۔کامران آفریدی نے کہا کہ ماشوخیل میں بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے کچھ انکاری والدین بھی ہیں، بچوں کی حالت کسی اور وجہ سے خراب ہوئی ہوگی۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو بابر عطاء نے بتایا کہ پورے پاکستان میں 4کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جارہے ہیں لیکن بچوں کی حالت خراب ہونے کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ پشاور کے علاقہ بڈھ بیر میں ایسا کیوں ہوا جبکہ پچھلے2سال سے بڈھ بیر میں والدین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکاری ہیں۔بابر عطاء نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں۔

پولیو قطرے

مزید : کراچی صفحہ اول